مندرجات کا رخ کریں

آیه امانت

وکی امام خمینی سے

آیہ امانت، سورہ احزاب کی آیت 72 ہے جو اس امانت کے بارے میں گفتگو کرتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسان کے سپرد کیا ہے، اور آسمان، زمین اور پہاڑ اس امانت کو اٹھانے سے انکاری ہو گئے۔ امام خمینی نے اپنی تالیفات میں فلسفیانہ اور عرفانی نقطہ نظر سے آیہ امانت کی تفسیر کی ہے اور امانت الہی کی حقیقت، امانت کے مصادیق، بارِ امانت اور انسان کے ظلوم و جہول ہونے جیسے موضوعات کا جائزہ لیا ہے۔  

آیہ امانت کی اہمیت و مقام

آیہ امانت سورہ احزاب کی آیت 72 ہے جو اس امانت کے بارے میں گفتگو کرتی ہے جسے اللہ نے انسان کے سپرد کیا ہے۔ اس آیت کے مطابق، اللہ نے پہلے یہ امانت آسمان، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی تو انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا۔[1] قرآن کی اہم آیات میں سے ایک جو انسان کے بلند مقام کی طرف اشارہ کرتی ہے، یہ آیت ہے: «إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنسَانُ ۖ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا»،[2] جو متشابہات قرآن میں سے ہے۔ مفسرین نے اس آیت میں "امانت" کے لفظ کی تفسیر کے لیے مختلف اور کثیر مصادیق بیان کیے ہیں جس نے آیت کے ابہام کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مفسرین نے اپنی کتب میں اس آیت کے ذیل میں امانت پیش کرنے کے مفہوم، حقیقتِ امانت، حملِ امانت اور آسمان، زمین و پہاڑوں کے بارِ امانت اٹھانے سے انکار کی وجوہات پر بحث کی ہے۔[3]   امام خمینی نے بھی اپنی تالیفات میں فلسفیانہ اور عرفانی نقطہ نظر سے آیہ امانت کی تفسیر کی ہے اور حقیقتِ امانتِ الہی، امانت کے مصادیق، بارِ امانت اور انسان کے ظلوم و جہول ہونے جیسے مباحث کا جائزہ لیا ہے۔[4]  

آیہ امانت کا مراد

مفسرانِ اسلامی آیہ امانت سے مراد اس عہد کو لیتے ہیں جو خدا نے انسان سے لیا ہے اور انسان نے اس عظیم بارِ امانت کو اپنے کندھوں پر اٹھایا ہے، جو اس کی جامعیت اور قابلیت پر دلالت کرتا ہے۔ بعض مفسرین کا امانتِ الہی کے مصداق کے بارے میں الگ الگ نقطہ نظر ہے، جن میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ امانت سے مراد ولایت، اختیار، اعضائے بدن، عقل اور نماز ہے۔[5]   امام خمینی بھی آیہ امانت کے مراد اور اس کی ماہیت کے بارے میں مانتے ہیں کہ زیر بحث آیت میں مذکور امانت: «إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنسَانُ»،[6]انسان کی جامعیت کی طرف اشارہ کرتی ہے؛ کیونکہ آسمان، زمین اور پہاڑوں پر امانتِ الہی پیش کرنے کے بعد، صرف انسان نے اس عظیم بارِ امانت کو اٹھایا اور یہ اس کی جامعیت کی دلیل ہے۔ امام خمینی انسان کے اس امانتِ الہی کو قبول کرنے کی وجہ، تعینات کا اس امانتِ الہی سے دستبردار ہونا اور انسان کی اطلاقی قابلیت کو قرار دیتے ہیں۔ چونکہ آسمان، زمین اور دیگر موجودات یہاں تک کہ عقول بھی محدود اور مقید ہیں اور کوئی مقید شے حقیقتِ مطلقہ اور [[مشیت مطلقہ]] کو اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتی؛ لہٰذا صرف انسان ہی اس امانتِ الہی کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امام خمینی کا ماننا ہے کہ آیت میں مذکور امانت کے متعدد مصادیق ہیں جو باطن کے لحاظ سے حقیقتِ ولایت ہے اور ظاہر کے اعتبار سے شریعت، اسلام، قرآن یا نماز ہے۔[7]  

ظلوم اور جہول کا وصف

مفسرانِ اسلامی آیہ امانت میں «حَمَلَهَا الْإِنسَانُ ۖ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا» کے الفاظ میں ظلوم اور جہول ہونے کے وصف کے بارے میں مانتے ہیں کہ اس ظلم اور جہل سے مراد انسان کا اپنی قدر و منزلت کو بھول جانا ہے اور انسان کا ان دو صفات سے متصف ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ بہت سے انسان اس امانت کا حق ادا نہیں کرتے۔[8] امام خمینی، «حَمَلَهَا الْإِنسَانُ ۖ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا» کی آیت سے استناد کرتے ہوئے اور عرفانی نقطہ نظر سے، دو وصف "ظلوم" اور "جہول" کو وہی ترقی اور تمام حدود کو پھلانگ کر آگے بڑھ جانا، تمام تعینات سے عبور کرنا اور انسان کے مقامِ لا مقامی کی طرف اشارہ مانتے ہیں۔   ان کے نزدیک انسان، حق تعالیٰ میں فنا ہونے کے لحاظ سے حق کے ماورا تمام تعینات سے عبور کر جاتا ہے اور اس کا کوئی معلوم مقام نہیں رہتا، اسی لیے وحیانی خطاب «يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُم» انسان کے مقامِ بے مقامی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پس انسان ان دو خصوصیات "ظلوم اور جہول" کے لحاظ سے امانتِ الہی کو اٹھانے کی قابلیت اور استعداد پیدا کر لیتا ہے؛ اگرچہ امام خمینی امانتِ الہی کو فیض مقدس پر منطبق کرتے ہیں، لیکن اس امانت کی حقیقت اور روح کو واحدیت بلکہ اس سے بھی بلند تر مقام پر تلاش کرنا چاہیے، یعنی وہ مقام جہاں حقیقتِ فیض اقدس یا احدیت یا مقامِ "أَوْ أَدْنَىٰ" کا حصول ممکن ہوتا ہے۔[9]  

حوالہ جات

  1. طباطبائی، المیزان، ج16، ص348؛ آلوسی، روح المعانی، ج11، ص271-272۔
  2. احزاب: 72۔
  3. میبدی، کشف الاسرار و عدة الابرار، ص8، ص102؛ طبرسی، مجمع البیان، ج20، ص189؛ ابن‌عربی، الفتوحات المکیه، ج2، ص77؛ مجلسی، بحار الانوار، ج57، ص277؛ مکارم شیرازی، ج17، ص451؛ کاشانی، منهج الصادقین ج7، ص372-373؛ طباطبائی، المیزان، ج16، ص348۔
  4. امام‌خمینی، آداب الصلاة، ص321؛ شرح چهل حدیث، ص635؛ مصباح الهدایه، ص56؛ شرح دعای سحر، ص15 اور 149۔
  5. امین، مخزن العرفان، ج10، ص261؛ حویزی، نورالثقلین، ج4، ص312؛ انوار التنزیل، ج4، ص240؛ البحر المحیط، ج18، ص509؛ گنابادی، تفسیر بیان السعادة فی مقامات العباده، ج1، ص171؛ آلوسی، روح المعانی، ج1، ص270۔
  6. احزاب: 72۔
  7. امام‌خمینی، آداب الصلاة، ص321؛ شرح چهل حدیث، ص635؛ مصباح الهدایه، ص65؛ صاحبی، اوج معرفت، ص356-357؛ اسرار ملکوت، ج2، ص375۔
  8. فخر رازی، تفسیر الکبیر، ج25، ص188؛ آلوسی، روح المعانی، ج11، ص271؛ طباطبائی، المیزان، ج16، ص350-351۔
  9. امام‌خمینی، شرح دعای سحر، ص15، 149-150؛ مصباح الهدایه، ص56؛ صاحبی، اسرار ملکوت، ج2، ص376-377؛ اوج معرفت، ص358۔

مآخذ

  • ابن‌عربی، محیی‌الدین، الفتوحات المکیه، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بغیرتاریخ۔
  • امام‌خمینی، سیدروح‌الله، آداب الصلاة، تہران، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام‌خمینی، 1384ش۔
  • امام‌خمینی، سیدروح‌الله، شرح چهل حدیث، تہران، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام‌خمینی، 1388ش۔
  • امام‌خمینی، سیدروح‌الله، شرح دعای سحر، تہران، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام‌خمینی، 1383ش۔
  • امام‌خمینی، سیدروح‌الله، مصباح الهدایه، تہران، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام‌خمینی، 1386ش۔
  • امین، نصرت، مخزن العرفان، تہران، نهضت فرمان مسلمان، 1361ش۔
  • اندلسی، ابوحیان، البحر المحیط، بیروت، دار الفکر، 1420ق۔
  • آلوسی، محمود، روح المعانی، بیروت، دار الکتب العلمیة 1415ق۔
  • بیضاوی، عبدالله‌بن‌عمر، انوار التنزیل و اسرار التأویل، بیروت، دار الاحیاء التراث، 1418ق۔
  • حویزی، عبدعلی‌بن‌جمعه، نور الثقلین، قم، نشر اسماعیلیان، 1415ق۔
  • صاحبی، باقر، اسرار ملکوت، تہران، نشر عروج، 1403ش۔
  • صاحبی، باقر، اوج معرفت، تہران، نشر عروج، 1398ش۔
  • طباطبائی، محمدحسین، تفسیر المیزان، قم، انتشارات اسلامی، 1417ق۔
  • طبرسی، حسن، مجمع البیان، بیروت، دارالعلوم، 1379ق۔
  • فخر رازی، محمدبن‌عمر، مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر)، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1420ق۔
  • گنابادی، سلطان‌محمد، تفسیر بیان السعادة فی مقامات العبادة، نشر اعلمی، للمطبوعات بیروت، 1408ش۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، موسسة الوفاء، 1404ق۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تہران، دار الکتب الاسلامیه، 1385ش۔
  • میبدی، ابوالفضل رشیدالدّین، کشف الاسرار و عدة الابرار، تحقیق علی‌اصغر حکمت، تہران، انتشارات امیرکبیر، 1371ش۔