آیہ اعتصام
آیہ اعتصام، سورہ آل عمران کی آیت 103 ہے جس میں مسلمانوں سے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے اور تفرقہ بازی سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ امام خمینی نے اپنی تالیفات میں آیہ اعتصام کی طرف خصوصی توجہ دی ہے اور اس میں مذکور "حبل اللہ" (اللہ کی رسی) کی حقیقت اور اس سے متعلق اقوال کا جائزہ لیا ہے۔
آیہ اعتصام کی اہمیت و مقام
آیہ اعتصام، سورہ آل عمران کی آیت 103 کی طرف اشارہ ہے جس میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور متفرق نہ ہوں۔[1]آیہ اعتصام کا مضمون: «واعتصموا بحبل الله جمیعاً ولا تفرقوا واذ کروا نعمت الله علیکم إذ کنتم اعداءً فألّف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمته إخواناً»،[2] ایک ایسے بنیادی اصول کی ترجمانی کرتا ہے جسے حق تعالیٰ نے قرآن میں اپنی حبل (رسی) قرار دیا ہے اور مسلمانوں کو اس سے تمسک (وابستگی) کا حکم دے کر اسے وحدت کا واحد راستہ قرار دیا ہے۔ مفسران اسلامی نے آیہ اعتصام سے استفادہ کرتے ہوئے وحدت کے لزوم اور تفرقہ بازی سے بچنے کے لیے کثیر دلائل پیش کیے ہیں اور اللہ کی رسی کے مفہوم اور اس کے ممکنہ معانی پر تفصیلی بحث کی ہے۔[3] امام خمینی نے بھی آیہ اعتصام کو اہمیت دی ہے اور اپنی تحریروں میں اعتصام کی حقیقت اور حبل اللہ کے بارے میں موجود اقوال پر گفتگو کی ہے۔[4]
آیہ اعتصام کی حقیقت
مفسران اسلامی آیہ اعتصام کی حقیقت کے بارے میں مانتے ہیں کہ اعتصام کا مطلب حبل الہی کی پناہ لینا اور اس سے تمسک کرنا ہے، جو درحقیقت اطاعتِ الہی پر قائم رہنے کا نام ہے۔ «واعتصموا بحبل الله جمیعاً ولا تفرقوا»[5]کے تحت ان کا نظریہ ہے کہ خدا سے اعتصام کا مطلب ترقی کے زینے پر اس مقام تک پہنچنا ہے جہاں بندہ سالک ماسوی اللہ کو موہوم اور اعتباری سمجھنے لگتا ہے اور ہر طرح کے شبہے اور تردد سے نجات پا جاتا ہے؛ کیونکہ اعتصام سالک کو صراط مستقیم پر گامزن رکھتا ہے اور اسے گمراہی سے محفوظ رکھتا ہے۔[6] امام خمینی بھی آیہ اعتصام کی حقیقت بیان کرتے ہوئے «واعتصموا بحبل الله جمیعاً ولا تفرقوا» کے تحت فرماتے ہیں کہ اعتصام کا مطلب اللہ کی رسی کو تھامنا اور اس سے تمسک کرنا ہے، یعنی وہ دینی احکام جو انسان کو خدا سے قریب کرتے ہیں اور اس کی بلندی و ترقی کا باعث بنتے ہیں۔ ان کے نزدیک «واعتصموا بحبل الله» کا حکم قرآن کا ایک محکم اور نجات بخش دستور ہے جسے ہر انسان کو اپنا نصب العین بنانا چاہیے اور تفرقہ و اختلاف سے پرہیز کرنا چاہیے۔ امام خمینی کا ماننا ہے کہ آیہ اعتصام ایک مرکب پیغام ہے جو امر اور نہی پر مشتمل ہے؛ ایک ایسا حکم جو حبل اللہ سے تمسک کی ترغیب دیتا ہے اور ایک ایسی نہی جو تفرقہ بازی سے روکتی ہے۔ ان کے نزدیک اگر امتِ مسلمہ آپس میں اختلاف کا شکار ہو جائے اور وحدت کو فراموش کر دے تو وہ تفرقے کی زد میں آ جائے گی۔[7]
مصداق حبل اللہ
کچھ مفسرین کا ماننا ہے کہ آیہ اعتصام مدینہ میں اوس اور خزرج قبائل کے درمیان جھگڑے کے تناظر میں نازل ہوئی، ایک ایسا جھگڑا جو ان قبائل کے دو افراد کے درمیان شروع ہوا اور جلد ہی ایک بڑے قبائلی اختلاف میں بدل گیا، یہاں تک کہ دونوں قبائل جنگ کے لیے تیار ہو گئے اور نبی اکرم (ص) نے اس تصادم کو روکنے کے لیے مداخلت کی اور یہ آیت نازل ہوئی۔[8] اکثر مفسرانِ اسلامی، آیہ اعتصام میں حبل اللہ کا مصداق قرآن اور اہل بیت (ع) کو قرار دیتے ہیں۔[9]امام خمینی بھی حبل اللہ کا مصداق قرآن اور اہل بیت (ع) کو ہی مانتے ہیں۔ البتہ آپ بعض روایات کی بنا پر حبل اللہ کو امیرالمؤمنین علی (ع) بھی قرار دیتے ہیں۔ اس کی دو وجوہات ہیں: ایک یہ کہ قرآن اور پیامبر (ص) کا راستہ اور علی (ع) کا راستہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ دوسری یہ کہ ان میں سے ہر ایک حبل اللہ کے مصادیق میں سے ہو سکتا ہے؛ لہٰذا ان کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔[10]
حوالہ جات
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ج3، ص32۔
- ↑ آل عمران: 103۔
- ↑ طبری، جامع البیان، ج4، ص21؛ ماتریدی، تأویلات اهل السنه، ج2، ص444؛ مجلسی، بحار الانوار، ج25، ص194؛ طبرسی، مجمع البیان، ج2، ص805؛ خادمی، جایگاه امامت در آیه اعتصام، ص7-8؛ طباطبائی، المیزان، ج3، ص370-371۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه امام، ج10، ص533؛ کشف اسرار، ص139-140؛ تقریرات فلسفه، ج2، ص265-266؛ شرح حدیث جنود عقل و جهل، ص343۔
- ↑ آل عمران: 103۔
- ↑ کاشانی، شرح منازل السائرین، ص203-204؛ کبری، التأویلات النجمیه، ج2، ص60؛ طبری، جامع البیان، ج4، ص22؛ طباطبائی، المیزان، ج2، ص396۔
- ↑ امامخمینی، تقریرات فلسفه، ج2، ص265؛ صحیفه امام، ج3، ص318، ج8، ص422، ج12، ص216۔
- ↑ آلوسی، روح المانی، ج2، ص236؛ طبرسی، مجمع البیان، ج2 ص804؛ ابنکثیر، تفسیر القرآن العظیم، ج2، ص77۔
- ↑ صدوق، الأمالی، ص264؛ عیاشی، تفسیر عیاشی، ج1، ص194؛ مجلسی، بحار الانوار، ج24، ص85؛ طبرسی، مجمع البیان، ج1، ص85۔
- ↑ امامخمینی، شرح حدیث جنود عقل و جهل، ص343؛ کشف اسرار، ص137-142؛ صحیفه امام، ج10، ص534۔
مآخذ
- ابنکثیر، اسماعیل، تفسیر القرآن العظیم، مصر، دار الحیاء الکتب العلمیه، بغیرتاریخ۔
- امامخمینی، سیدروحالله، تقریرات فلسفه امامخمینی، تہران، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امامخمینی، 1385ش۔
- امامخمینی، سیدروحالله، شرح حدیث جنود عقل و جهل، تہران، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امامخمینی، 1387ش۔
- امامخمینی، سیدروحالله، صحیفه امام، تہران، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امامخمینی، 1389ش۔
- امامخمینی، سیدروحالله، کشف اسرار، تہران، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امامخمینی، بغیرتاریخ۔
- آلوسی، محمود، روح المعانی، بیروت، دار الکتب العلمیة 1415ق۔
- خادمی، محمد، امامت در آیه اعتصام با تکیه بر معنای حبل الله، فصلنامه امامت پژوهی، 1391ش۔
- صدوق، محمدعلی، الأمالی، تہران، نشر کتابچی، 1376ش۔
- طباطبائی، محمدحسین، تفسیر المیزان، قم، انتشارات اسلامی، 1417ق۔
- طبرسی، حسن، مجمع البیان، بیروت، دارالعلوم، 1379ق۔
- طبری، محمدبنجریر، جامع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار المعرفة، 1412ق۔
- عیاشی، محمدبنمسعود، تفسیر عیاشی، تہران، نشر علمیه اسلامیه، 1380ق۔
- کاشانی، عبدالرزاق، شرح منازل السائرین، تحقیق بیدارفر، قم، انتشارات بیدار، 1385ش۔
- ماتریدی، محمد، تأویلات اهل السنه، بیروت، دار الکتب العلمیه، 1426ق۔
- مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، موسسة الوفاء، 1404ق۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تہران، دار الکتب الاسلامیه، 1385ش۔
- نجمالدین کبری، احمدبنعمر، التأویلات النجمیه فی التفسیر الإرشادی الصوفی، بیروت، دار الکتب العلمیه، 1971م۔