مندرجات کا رخ کریں

آیہ اولی‌الامر

وکی امام خمینی سے

آیہ اولی‌الامر، سورہ نساء کی آیت 59 ہے، جو مسلمانوں کو اللہ، رسول خدا (ص) اور «اولی‌الامر» کی اطاعت کا حکم دیتی ہے۔ امام خمینی نے اپنی تالیفات میں آیہ اولی‌الامر کی طرف خصوصی توجہ دی ہے اور اس ضمن میں اولی‌الامر کے مفہوم، اس کے مقام، خصوصیات اور مصادیق کا جائزہ لیا ہے۔  

آیہ اولی‌الامر کی اہمیت و مقام

آیہ اولی‌الامر، سورہ نساء کی آیت 59 ہے جو مؤمنین کو اللہ، رسول خدا (ص) اور اولی‌الامر کی اطاعت کا حکم دیتی ہے۔[1] آیہ اولی‌الامر اسلامی معاشرے کے سب سے اہم مسائل یعنی قیادت اور دینی و سماجی معاملات میں مسلمانوں کے حقیقی مرجع کے تعین سے متعلق ہے۔ اس آیت میں رسول خدا (ص) کے قول، فعل اور تقریر کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت کے تسلسل میں قرار دیا گیا ہے اور اس کے بعد اولی‌الامر کی اطاعت کا حکم ہے؛ یہی موضوع شیعہ اور اهل‌سنت مفسرین کے درمیان اختلافات اور بحثوں کا باعث بنا ہے۔ اس لیے اسلامی مفسرین نے اپنی تحریروں میں اولی‌الامر کے معنی، اس کے مصادیق، مقام اور آیہ اولی‌الامر کی خصوصیات پر مفصل بحث کی ہے۔[2]   امام خمینی نے بھی اپنی کتب میں آیہ اولی‌الامر پر توجہ دی ہے اور اس ضمن میں اولی‌الامر کے مفہوم، اس کے مقام، خصوصیات اور مصادیق پر گفتگو کی ہے۔[3]  

اولی‌الامر کا مفہوم

اسلامی مفسرین آیت «يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ»[4]کی تفسیر میں مختلف آراء رکھتے ہیں۔ بعض اہل سنت کا ماننا ہے کہ اولی‌الامر سے مراد وہی سلطان، امیر یا "اہل حل و عقد" ہیں، جبکہ کچھ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اولی‌الامر سے مراد امت کے علماء ہیں۔[5]شیعہ علماء کے نزدیک اولی‌الامر سے مراد اہل بیت پیامبر (ص) یعنی امامان معصوم (ع) ہیں؛ کیونکہ ولی امر کی اطاعت کے وجوب میں اس کا رسول خدا (ص) کی طرح ہونا، ولی امر کے معصوم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔[6]   امام خمینی بھی آیت «أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ» کے تحت اولی‌الامر کے معنی بیان کرتے ہوئے مانتے ہیں کہ حکمِ عقل کے مطابق یہ ممکن نہیں کہ اللہ حاکموں اور سلاطین کی اطاعت کا حکم دے، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ سلاطین کیسے کیسے ظلم اور فساد پھیلاتے ہیں۔ اولی‌الامر کی اطاعت کو خدا اور اس کے رسول (ص) کی اطاعت کے ساتھ جوڑنا اس بات کی دلیل ہے کہ اولی‌الامر ایسا ہونا چاہیے جو اپنے جاری کردہ تمام احکامات میں دینِ خدا کے خلاف کوئی حکم نہ دے اور اس کے خلاف عمل نہ کرے۔ مزید برآں، تمام امتوں پر اللہ کی جانب سے اولی‌الامر کی اطاعت کا وجوب اس بات کا متقاضی ہے کہ حکومت اسلامی صرف ایک ہی ہو تاکہ ہرج و مرج پیدا نہ ہو۔ امام خمینی کے عقیدے کے مطابق صرف وہی شخص اولی‌الامر ہو سکتا ہے جو اپنے کردار و گفتار میں معصوم ہو۔ لہٰذا، اولی‌الامر کی اصطلاح امیرالمؤمنین (ع) پر منطبق ہوتی ہے جنہیں پیامبر (ص) نے غدیر خم میں ولی کے طور پر معین کیا، نیز یہ اصطلاح ائمہ ہدیٰ (ع) پر بھی منطبق ہوتی ہے جن کی پیروی واجب ہے اور یہ اطاعت تمام امور میں واجب اور نافذ ہے۔[7]  

خدا کی خصوصی ولایت

اللہ مخلوقات پر حقیقی ولایت رکھتا ہے اور ہر چیز کا مالک ہے۔ لہٰذا، امام خمینی کے عقیدے کے مطابق حکمِ عقل سے حکومت اور ولایت، خدا کا خصوصی حق ہے۔ وہی اس کائنات کا حقیقی مالک اور مطلق سلطان ہے، اور اللہ کے سوا یا اس شخص کے سوا جسے اللہ نے حاکم بنایا ہو، کسی کو حکومت اور فرمانروائی کا حق نہیں ہے اور اس کے سوا کسی کی حاکمیت مشروع نہیں ہو گی۔ چنانچہ انسانوں کے آپس کے تعلقات میں، اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کو دوسروں پر خلافت اور ولایت کا حق حاصل نہیں ہے اور صرف پیامبر اکرم (ص) اور امامان معصوم (ع) ہی آیت «أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ» کے تحت اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔[8]  

حوالہ جات

  1. حلی، نهج الحق، ص203؛ طباطبائی، المیزان، ج4، ص391۔
  2. طبرسی، مجمع البیان، ج3، ص100؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ج10، ص113-114؛ طباطبائی، المیزان، ج4، ص391؛ حلی، نهج الحق، ص203؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ج3، ص434-435؛ ملائی‌پور، تفسیر تطبیقی آیات مودت و اولی‌الامر، ص97۔
  3. امام‌خمینی، کشف اسرار، ص109-112؛ تنقیح الأصول، ج3، ص561؛ ولایت فقیه، ص87-88؛ المکاسب المحرمه، ص159-160۔
  4. نساء: 59۔
  5. طبری، جامع البیان ج5، ص92؛ بیهقی، دلائل النبوه، ج4، ص311؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ج2، ص400؛ ج4، ص113؛ قراملکی، قرآن و علم کلام، ص140۔
  6. حلی، الالفین، ص399؛ آملی، تفسیر المحیط الاعظم، ج1، ص432؛ طباطبائی، المیزان، ج4، ص399۔
  7. امام‌خمینی، کشف اسرار، ص109-112 اور 284-285؛ ولایت فقیه، ص78-88؛ تنقیح الأصول، ج3، ص561۔
  8. امام‌خمینی، المکاسب المحرمه، ج2، ص159-160؛ کشف اسرار، ص181-182۔

مآخذ

  • امام‌خمینی، سیدروح‌الله، تنقیح الاصول، تہران، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام‌خمینی، 1385ش۔
  • امام‌خمینی، سیدروح‌الله، کشف اسرار، تہران، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام‌خمینی، بغیرتاریخ۔
  • امام‌خمینی، سیدروح‌الله، مکاسب المحرمه، تہران، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام‌خمینی، 1379ش۔
  • امام‌خمینی، سیدروح‌الله، ولایت فقیه، تہران، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام‌خمینی، 1385ش۔
  • آملی، سیدحیدر، تفسیر المحیط الاعظم والبحر الخضم، تحقیق سیدمحسن موسوی، قم، مؤسسه فرهنگ و نشر نور علی نور، 1422ق۔
  • بیهقی، احمد، دلائل النبوة، بیروت، دارالکتب العلمیه، 1408ق۔
  • حلی، یوسف‌بن‌حسن، نهج الحق و کشف الصدق، بیروت، دار الکتاب البنانی، 1982م۔
  • طباطبائی، محمدحسین، تفسیر المیزان، قم، انتشارات اسلامی، 1417ق۔
  • طبرسی، حسن، مجمع البیان، بیروت، دارالعلوم، 1379ق۔
  • طبری، محمدبن‌جریر، جامع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار المعرفة، 1412ق۔
  • علامه حلّی، حسن‌بن‌یوسف، الالفین، قم، مؤسسه الاسلامیه، 1423ق۔
  • فخر رازی، محمدبن‌عمر، مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر)، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1420ق۔
  • قراملکی، محمدحسین، قرآن و علم کلام، تہران، فرهنگ و اندیشه، 1402ش۔
  • ملائی‌پور، ساره، تفسیر تطبیقی آیات مودت و اولی‌الامر از دیدگاه علامه طباطبانی و فخر رازی و آلوسی، فصلنامه مطالعات تطبیقی قرآن پژوهشی، 1400ش۔