اعلمیت ولی فقیہ
اعلمیت ولی فقیہ، امام خمینی بہت سے دیگر فقہا کی طرح، ولی فقیہ کے لئے اعلمیت کو شرط نہیں سمجھتے اور ان کا ماننا ہے کہ اس منصب پر فائز ہونے کے لئے دیگر شرائط کے ہمراہ فقاہت کا ہونا کافی ہے۔
مفہوم شناسی
اعلم وہ شخص ہے جو شرعی مسائل کے قواعد اور مدارک کو زیادہ بہتر جانتا ہو، اس سے متعلقہ مسائل پر زیادہ عبور رکھتا ہو، احادیث و روایات سے زیادہ آگاہ ہو، ان کا بہتر فہم پیش کر سکتا ہو اور نتیجتاً استنباط کی بہتر صلاحیت رکھتا ہو۔[1] امام خمینی نے اعلم کی کوئی مستقل تعریف پیش نہیں کی ہے اور اسی تعریف کو تسلیم کیا ہے۔ یعنی ان کے نزدیک اعلم وہ فقیہ ہے جو علمی اعتبار سے اور شرعی احکام کے استنباط میں دیگر مجتہدین سے زیادہ قوی اور برتر ہو۔[2] آپ اپنی توضیح المسائل میں بھی تصریح کرتے ہیں کہ وہ دیگر مجتہدین سے اعلم ہو، یعنی خدا کے حکم کو سمجھنے میں اپنے زمانے کے تمام مجتہدین سے زیادہ مہارت رکھتا ہو۔[3]
نظریات
ولی فقیہ اور حاکم اسلامی کی شرائط کے باب میں ایک اہم بحث یہ ہے کہ کیا فقاہت کے علاوہ فِقہ میں اعلمیت بھی شرط ہے یا نہیں؟ دوسرے لفظوں میں، کیا حاکم اسلامی اور ولی فقیہ کو ایسا شخص ہونا چاہئے جو شرعی احکام کے استنباط اور فقاہت کی صلاحیت کے لحاظ سے دیگر فقہا کی نسبت قوی، برتر اور فقہی اصطلاح میں اعلم ہو، یا ولی فقیہ کے لئے ایسی کوئی شرط لازم نہیں اور محض درجہ اجتہاد پر فائز ہونا ہی کافی ہے؟ اس حوالے سے دو بنیادی نظریات پائے جاتے ہیں:
اعلمیت کا شرط نہ ہونا
یہ بات بعض فقہا کے اقوال سے ظاہر ہوتی ہے، کیونکہ جب وہ فقیہ کے مناصب اور اختیارات پر گفتگو کرتے ہیں تو ضروری شرائط کے بیان میں اعلمیت کا کوئی ذکر نہیں کرتے۔[4] شیخ انصاری کے اساتذہ میں سے سید محمد مجاہد فتویٰ اور قضاوت کے علاوہ دیگر امور میں اعلمیت کے بارے میں معتقد ہیں کہ اس سلسلے میں فقہا کی جانب سے کوئی صریح نص یا قول نہیں ملتا، لیکن ان کے اقوال کے ظاہری اطلاق سے اعلمیت کا شرط نہ ہونا ہی ثابت ہوتا ہے۔[5]
یہ کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ مفتی اور قاضی کے لئے اعلمیت شرط ہے، اس لئے والی کے لئے بھی یہ شرط ہونی چاہئے، کیونکہ فتویٰ دینا اور فیصلہ کرنا ولایت ہی کے مناصب میں سے ہے۔ لیکن یہاں آراء یکساں نہیں ہیں؛ اگرچہ بعض فقہا، بالخصوص معاصر فقہا نے فتویٰ دینے میں اعلمیت کو شرط قرار دیا ہے، جیسا کہ انہوں نے مرجعیت میں اعلمیت کی بحث کے دوران بیان کیا ہے، تاہم بعض دیگر نے اسے شرط نہیں مانا۔ مثال کے طور پر: محقق نراقی اور صاحب جواہر فتویٰ اور قضاوت میں اعلمیت کی شرط کو رد کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی ولایت میں بھی اسے شرط نہیں مانتے۔[6] صاحب جواہر، منصب پر فائز کرنے سے متعلق روایات کا حوالہ دیتے ہوئے نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ روایات افضل کو مقرر کرنے پر دلالت نہیں کرتیں، ورنہ لازم تھا کہ امامؑ "انظروا الی رجل منکم" کی بجائے "انظروا الی الافضل منکم" فرماتے تاکہ اس سے افضل شخص کا تعین مراد لیا جاتا۔[7] ان کے بعد، مرزا حسن آشتیانی نے مزید صراحت کے ساتھ اعلمیت کی شرط کی نفی کی ہے۔[8]
شیعہ فقہا جن میں امام خمینی بھی شامل ہیں، کی مسلمہ سیرت بھی یہی رہی ہے، کیونکہ انہوں نے افراد کے لئے جو بہت سے اجازاتِ اجتہاد صادر کئے ہیں، ان میں متعلقہ شخص کے اجتہاد کے قطعی ہونے کے بیان کے بعد صراحت سے ذکر کیا ہے کہ وہ شرعی امور کی سرپرستی سنبھال سکتا ہے۔سانچہ:مزید دیکھیں انہوں نے شرعی امور کی ولایت کے لئے اصل اجتہاد ہی کو اہلیت کی علامت قرار دیا ہے۔
اعلمیت کا لزوم
شہید اول نے ولی فقیہ اور حاکم میں اعلمیت کو شرط قرار دیا ہے۔[9] شیخ انصاری نے بھی صاحب جواہر کی باتوں پر تنقید کرتے ہوئے اعلمیت کے لزوم پر تاکید کی ہے اور ان کا ماننا ہے کہ حاکم کو مقرر کرنے کے دلائل کا مقصد صرف اس کے قول کی حجیت اور اس کی طرف رجوع کرنے کے اصول کو بیان کرنا ہے، نہ کہ یہ دلائل اعلم کی ترجیح کی نفی کرتے ہیں؛ مثال کے طور پر، جب کسی مریض سے کہا جاتا ہے کہ وہ ڈاکٹر سے رجوع کرے، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے کسی بھی ڈاکٹر کے پاس جانے کی اجازت ہے۔ دوسری جانب، بعض فقہا نے فیصلہ کرنے کے جواز کو فتویٰ دینے کے جواز کے ساتھ مشروط سمجھا ہے؛ یعنی جو شخص فتویٰ دینے کی صلاحیت رکھتا ہو، وہی حکم صادر کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، اسی بنا پر مفتی کے لئے اعلم ہونے کے لزوم پر جو اجماع کا دعویٰ کیا گیا ہے، وہ حاکم کے اعلم ہونے کے لئے بھی موجود ہے۔[10]
امام خمینی کا نظریہ
امام خمینی نے پہلا نظریہ تسلیم کیا ہے۔ آپ نے حوزہ علمیہ کی مروجہ اصطلاح کے مطابق اعلمیت (افقہیت) کو ولایت فقیہ میں شرط نہیں سمجھا، بلکہ «قوہ استنباط اور اجتہاد» کو کافی مانا ہے اور عروۃ الوثقیٰ کے حاشیے میں سید یزدی کے اس نظریے کی تائید کی ہے جو فرماتے ہیں:
«ایسے معاملات جن (کا حل و فصل) مجتہد سے مربوط ہے، ان میں اعلمیت کا اعتبار نہیں اور ولایت میں بھی اعلمیت شرط نہیں ہے۔»[11] آپ اپنی کتاب رسالہ اجتہاد و تقلید میں بھی جب حکومت اور قضاوت کے منصب پر بحث کرتے ہیں تو یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا اجتہاد مطلق شرط ہے یا نہیں؟ اور ان کا ماننا ہے کہ عمر بن حنظلہ کی مقبولہ روایت میں موجود جملہ «و نظر فی حلالنا و عرف احکامنا» جس نے حکومت اور قضاوت فقیہ کے سپرد کی ہے، وہ عموم اور اجتہاد مطلق پر دلالت نہیں کرتا؛ یعنی یہ ضروری نہیں کہ حاکم اور قاضی تمام احکام کو جانتا ہو اور ان سے پوری طرح واقف اور مطلع ہو، کیونکہ: اولاً: مقبولہ روایت ظالم حکمرانوں کی طرف رجوع کرنے سے منع کرتی ہے اور عنوان «عرف احکامنا» اس شخص پر بھی صادق آتا ہے جو احکام کا کچھ حصہ جانتا ہو۔
ثانیاً: اس روایت میں احکام کی شناخت سے مراد، بالفعل شناخت ہے اور تمام احکام کی بالفعل شناخت سوائے امام معصوم کے کسی اور کے لئے ممکن نہیں۔ اس صورت میں اگر منصب کا تعین ایسے شخص کے لئے ہو جو تمام احکام کو جانتا ہو، تو یہ بات لغو ہو گی، کیونکہ اس کا خارجی مصداق موجود نہیں۔
ثالثاً: بالفرض محال، اگر کسی فقیہ کے لئے تمام احکام کی بالفعل شناخت ممکن بھی ہو، تو ہمارے لئے ایسے فقیہ کو پہچاننا مشکل ہے۔ لہٰذا آخر میں وہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں: «پس اجتہاد مطلق کے اعتبار پر کوئی دلیل موجود نہیں، چاہے وہ مطلق اجتہاد کے ملکہ کے معنی میں ہو یا بالفعل علم کے معنی میں، بلکہ دلائل اس کے برعکس ہیں۔ البتہ، اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ جس ذمہ داری کو اس نے اپنے کاندھوں پر لیا ہے اس کا مکمل علم اور آگاہی رکھتا ہو۔»[12] لہٰذا، مطلق اجتہاد کافی ہے اور اجتہاد مطلق یا اس سے بالاتر مقام یعنی اعلمیت کی ضرورت نہیں، البتہ اسے اس کام سے پوری طرح آگاہ ہونا چاہئے جو وہ انجام دے رہا ہے۔
امام خمینی کتاب ولایت فقیہ میں بھی جہاں حاکم اور امام کی شرائط کا ذکر کرتے ہیں، وہاں عدالت اور قانون کے علم کو بیان کرتے ہیں اور علم کو تمام افراد کے لئے لازمی اور حاکم کو افضل قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
«ایسے علم کی ضرورت ہے، البتہ حاکم کو علمی افضلیت حاصل ہونی چاہئے۔ ائمہ(ع) نے اپنی امامت کے لئے انہی باتوں سے استدلال کیا ہے کہ امام کو دوسروں پر فضیلت حاصل ہونی چاہئے۔»[13]
اسی طرح، جب وہ «غیبت کے دور میں حاکم کی شرائط» پر گفتگو کرتے ہیں، تو علم اور عدالت کو کافی قرار دیتے ہیں اور علمی افضلیت کا ذکر نہیں کرتے اور لکھتے ہیں:
«وہ تمام اختیارات اور ولایت جو حضرت رسول خداؐ اور دیگر ائمہ ـ صلوات اللہ علیہم ـ کو لشکر کی تیاری اور تشکیل، گورنروں اور صوبائی حکمرانوں کے تعین، ٹیکس کی وصولی اور اسے مسلمانوں کے مفادات پر خرچ کرنے میں حاصل تھے، خدا نے وہی اختیارات موجودہ حکومت کے لئے بھی قرار دیئے ہیں، بس فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں کوئی شخص معین نہیں، بلکہ یہ 'عالم عادل' کے عنوان پر مبنی ہے۔»[14]
امام خمینی «کتاب البیع» میں بھی، ولایت فقیہ کی بحث میں «مایعتبر فی الوالی» کے زیر عنوان قانون کے علم اور عدالت کی دو شرطیں ذکر کرتے ہیں اور قابلیت اور صلاحیت کو بھی اس کی شرائط میں شامل کرتے ہیں اور کچھ روایات نقل کرنے کے بعد حکومت کو عادل فقیہ کا حق قرار دیتے ہیں اور تمام فقہا کو اس منصب کا اہل مانتے ہیں، لیکن اگر کوئی فقیہ حکومت تشکیل دینے کا اقدام کرے تو دوسروں پر لازم ہے کہ اس کی پیروی کریں۔ لہٰذا، ولایت اور سرپرستی کا معاملہ فقیہ عادل کی طرف لوٹتا ہے اور وہی شخص مسلمانوں پر ولایت کا حقدار ہے، کیونکہ واجب ہے کہ والی فقہ اور عدالت سے آراستہ ہو۔ پس حکومت اور اسلامی ریاست کی تشکیل کے لئے قیام کرنا تمام عادل فقہا کے لئے واجب کفائی کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہو جائے، تو دوسروں پر اس کی پیروی لازم ہے اور اگر فقہا کے اتحاد کے بغیر یہ ممکن نہ ہو، تو ان سب پر اجتماعی طور پر حکومت تشکیل دینا واجب ہے اور اگر یہ بھی ان کے لئے ممکن نہ ہو تو ان کا منصب (مسلمانوں پر ولایت) ختم نہیں ہوتا۔[15] لہٰذا امام خمینی غیبت کے دور میں عالم عادل کے لئے پیغمبرؐ اور معصومینؑ کے انہی اختیارات کے قائل ہیں اور انہوں نے کسی بھی طرح اعلمیت کی شرط کا ذکر نہیں کیا۔ آئین پر نظر ثانی کے وقت، «ولایت فقیہ» کمیشن کے مخبر آیت اللہ ابراہیم امینی کہتے ہیں: «امام خمینی کی کتاب ولایت فقیہ کی طرف مکرر رجوع کرنے سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ انہوں نے فقیہ میں اعلمیت کو شرط نہیں مانا۔»[16]
ولی فقیہ میں اعلمیت کے شرط نہ ہونے کے حوالے سے امام خمینی کے نظریے کی ایک واضح مثال وہ جواب ہے جو انہوں نے آئین پر نظر ثانی کرنے والی مجلس خبرگان کے سربراہ آیت اللہ مشکینی کو دیا: «میں شروع سے ہی اس بات کا قائل تھا اور اس پر اصرار کرتا تھا کہ مرجعیت کی شرط لازم نہیں ہے۔ ملک بھر کے ماہرین کا تائید شدہ ایک عادل مجتہد ہی کافی ہے۔»[17] اور یہ نظریہ رسالہ اجتہاد و تقلید میں ان کی اسی بنیاد کی طرف لوٹتا ہے جہاں وہ عمر بن حنظلہ کی مقبولہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں «مقتضی الإطلاق جعل مطلق الحکومة سیاسیة کانت أو قضائیة للفقیه»؛[18] یعنی روایت کا بغیر کسی قید و شرط کے ہونا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ حکومت، چاہے سیاسی ہو یا عدالتی، فقیہ کے لئے ہے اور ولی فقیہ اور قاضی کے لئے اس کے علاوہ کوئی اور شرط موجود نہیں ہے۔
سیاسی یا فقہی اعلمیت
بعض روایات میں، ان کی سند کی قوت یا ضعف سے قطع نظر، «اعلم»، «افقہ» اور «افضل» جیسی تعبیرات دیکھنے کو ملتی ہیں جن میں «اعلمیت» کو حاکم اسلامی کی شرط کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔[19] یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ولائی امور میں فقیہ کی اعلمیت کی شرط کو فرض کر لیا جائے، تو کیا فِقہ میں اعلمیت شرط ہے، یا حوادث، موضوعات اور سیاسی و سماجی مسائل کی شناخت میں اعلمیت شرط ہے؟ اس سوال کے جواب کے لئے چند نکات کا جائزہ لینا ضروری ہے:
- معاشرے کی ولایت اور قیادت قضاوت کی مانند ہے جس میں قانون کو بخوبی سمجھنے کے ساتھ ساتھ اسے حوادث اور پیش آمدہ حالات پر صحیح طور سے منطبق کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے، یہ افتاء اور مرجعیت کی طرح نہیں، کیونکہ فتویٰ دینے میں قانون کو عملی شکل دینا اور فتویٰ پر عمل درآمد کروانا مفتی کی ذمہ داری سے باہر ہے، اور اس کے لئے فقہی منابع سے بہتر استنباط ہی کافی ہے۔
- امیر المؤمنین علیؑ کے اس فرمان سے: «إنَّ أحقّ الناس بهذا الأمر أقواهم علیه و أعلمهم بأمر اللّه فیه؛[20] لوگوں میں ولایت کا سب سے زیادہ حقدار وہ ہے جو اس کام میں سب سے زیادہ طاقتور ہو اور اس سلسلے میں اللہ کے احکام کا سب سے زیادہ علم رکھتا ہو»، یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ سیاسی اعلمیت کی اہمیت زیادہ ہے۔
- فقہا کے فتاویٰ بھی اس بات کے غماز ہیں کہ انہوں نے سماجی امور فقیہ کے سپرد کرنے میں فقاہت اور عدالت کے ساتھ ساتھ فقیہ کے «ابصر اور اعرف» (حالات کو زیادہ جاننے والا) ہونے پر بھی زور دیا ہے۔ [21] جیسا کہ امام خمینی نے فرمایا: اگر کوئی شخص حوزہ علمیہ کے مروجہ علوم میں اعلم ہو، لیکن وہ معاشرے کی مصلحت کو نہ سمجھ سکے یا وہ صالح اور مفید افراد کو نااہل افراد سے الگ نہ کر سکے اور مجموعی طور پر سماجی اور سیاسی میدان میں صحیح بصیرت اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو، تو ایسا شخص سماجی اور حکومتی مسائل میں مجتہد نہیں ہے اور معاشرے کی باگ ڈور نہیں سنبھال سکتا۔[22]
- ایک اور مقام پر، ولی فقیہ کی شرائط (قانون کا علم اور عدالت) کی طرف اشارہ کرنے کے بعد، ولی فقیہ کی صلاحیت اور کارکردگی کو وسیع معنوں میں علم کی شرط کا ہی ایک جزو قرار دیا ہے۔[23] صلاحیت اور کارکردگی کا مطلب یہ ہے کہ علمی اہلیت کے علاوہ، وہ کاموں کو بخوبی انجام دے سکے اور حقیقت میں باصلاحیت اور ماہر ہو اور انتظامی صلاحیت، قیادت اور مملکت چلانے کا ہنر اور دیگر حکومتوں کے ساتھ درست تعلقات قائم کرنے کی قدرت رکھتا ہو۔[24] آئین پر نظر ثانی کی کونسل کے اجلاسوں میں یہ موضوع پیش کیا گیا اور اس پر تفصیل سے بحث ہوئی اور ان اجلاسوں میں موجود بہت سے فقہا کا یہ ماننا تھا کہ ولی فقیہ کے لئے دونوں پہلوؤں سے اعلمیت کا ہونا ضروری ہے۔[25]
- بزرگ شیعہ علما کی عملی سیرت بھی یہی رہی ہے کہ انہوں نے مرجع اور حوزہ علمیہ کے سربراہ کے انتخاب میں فکری صلاحیت اور سیاسی و سماجی بصیرت کو مدنظر رکھا ہے اور صرف فِقہ میں اعلمیت پر اکتفا نہیں کیا۔ (مرجعیت کے لئے میرزائے شیرازی بزرگ کا انتخاب اور ان کے بعد میرزا محمد تقی شیرازی کے انتخاب کا واقعہ اس سلسلے میں بہترین دلیل ہے۔[26] مثال کے طور پر، میرزائے شیرازی بزرگ کی رحلت کے بعد، حوزہ علمیہ کے افراد نے سید محمد فشارکی سے درخواست کی کہ وہ مرجعیت قبول کریں، لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور کہا: میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، کیونکہ دینی سربراہی اور اسلامی مرجعیت کے لئے فِقہ میں اعلمیت کے علاوہ دیگر امور کی بھی ضرورت ہوتی ہے؛ جیسے سیاسی مسائل سے آگاہی اور ہر معاملے میں درست موقف اپنانے کی پہچان۔[27] ان کے انکار کرنے سے میرزا محمد تقی شیرازی، جو انگریزوں کے خلاف عراقی قوم کے جہاد کے قائد تھے، کی مرجعیت کے لئے راہ ہموار ہوئی۔
- یہاں «اعلم» سے مراد صرف فقہی احکام میں اعلم ہونا نہیں ہے، بلکہ «اعلم بہذا الامر» مراد ہے۔ اعلم بہذا الامر؛ یعنی وہ شخص جو فقاہت، عدالت اور تقویٰ کے ساتھ ساتھ، زیادہ باصلاحیت اور مدبر ہو اور ملک اور دنیا کے حالات سے مکمل آگاہی رکھتا ہو، اسلام کے دشمنوں اور ان کی چالوں کو پہچانتا ہو اور مناسب وقت پر ضروری فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ کوئی شخص اگر ایک اچھا مدرس یا قابل مصنف اور مؤلف ہو، لیکن سیاست سے ناواقف ہو اور مملکت چلانے میں اعلم نہ ہو، تو چاہے وہ عبادی اور معاملاتی فقہ میں اعلم ہی کیوں نہ ہو، وہ اسلامی نظام کی قیادت نہیں سنبھال سکتا؛ کیونکہ وہ فِقہ میں اعلم ہے، نہ کہ اس امر (سیاست و قیادت) میں۔
لہٰذا، اگر قیادت کے اوصاف میں ٹکراؤ ہو جائے، تو اگر کوئی شخص حوادث اور سیاسی و سماجی مسائل کی شناخت میں یا صلاحیت و کارکردگی کے لحاظ سے برتر ہو اور ایک مکمل اسلامی سیاستدان ہو اور اس پہلو سے دیگر فقہا سے اعلم ہو، تو اسے ان پر فوقیت حاصل ہے؛ کیونکہ حکومت اسلامی کی بنیاد یہی سیاسی فقہ اور سیاسی دانشمندی ہے[28] اور عقلی لحاظ سے بھی، عبادات اور معاملات کے ابواب میں اعلم ہونا سیاسی ولایت کی ذمہ داری سنبھالنے میں کوئی فوقیت پیدا نہیں کرتا۔
حوالہ جات
- ↑ یزدی طباطبائی، العروۃ الوثقی، ص3 مسئلہ 17۔
- ↑ امام خمینی، تعلیقہ عروہ، ص8۔
- ↑ توضیح المسائل، احکام تقلید کا مسئلہ 2۔
- ↑ شیخ مفید، المقنعہ، 356 و 810؛ شہید اول، الدروس الشرعیہ، ج1، ص269؛ محقق کرکی، الرسائل، ج1، ص142؛ شیخ جعفر کاشف الغطاء، کشف الغطاء، ص394۔
- ↑ مجاہد، مفاتیح الاصول، ص632۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، ج40، ص44-45؛ نراقی، مستند الشیعہ، ج17، ص36 اور 46–47 اور عوائد الایام، ص529 و 536۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، ج40، ص44-45۔
- ↑ آشتیانی، کتاب القضاء، ص482۔
- ↑ شہید اول، الدروس الشرعیہ، ج2، ص67 و 70۔
- ↑ انصاری، القضاء الاسلامی، (ملا حسین قلی ہمدانی کے قلم سے شیخ انصاری کے دروس کی تقریرات)، ج1، ص107۔
- ↑ یزدی طباطبائی، عروۃ الوثقی، ج1، ص25 ذیل مسئلہ 68۔
- ↑ امام خمینی، الاجتہاد والتقلید، ص32۔
- ↑ امام خمینی، ولایت فقیہ، ص37۔
- ↑ امام خمینی، ولایت فقیہ، ص37 اور 40۔
- ↑ امام خمینی، کتاب البیع، ج2، ص465-466۔
- ↑ مشروح مذاکرات شورای بازنگری قانون اساسی، ج1، جلسہ پنجم، ص176۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، ج21، ص371۔
- ↑ الرسائل، امام خمینی، ج2، ص106۔
- ↑ مزید دیکھیں: وسائل الشیعہ، ج11، ص29 و 35 اور ج18، ص564؛ برقی، المحاسن، ص93؛ ابن شعبہ حرانی، تحف العقول، ص375؛ الاختصاص، شیخ مفید، ص251۔
- ↑ نہج البلاغہ خطبہ 173۔
- ↑ مزید دیکھیں: شیخ مفید، المقنعہ، ص41 و 675؛ ابوالصلاح حلبی، الکافی فی الفقه، ص421؛ ابن ادریس، السرائر، ج3، ص537-539۔
- ↑ صحیفہ امام، ج21، ص177-178، 289، 292۔
- ↑ امام خمینی، کتاب البیع، ج2، ص465۔
- ↑ مزید دیکھیں: جوادی آملی، ولایت فقیہ، ص137 و 139 و 393-394۔
- ↑ مزید دیکھیں: مشروح مذاکرات شورای بازنگری قانون اساسی، ص177، 194، 256، 646، 1251، 1255، 1288 و...۔
- ↑ مزید دیکھیں: آقا بزرگ تہرانی، میرزای شیرازی، ص38؛ فوائد الرضویہ، شیخ عباس قمی، ج2، ص594۔
- ↑ فوائد الرضویہ، شیخ عباس قمی، ج2، ص594۔
- ↑ جوادی آملی، ولایت فقیہ، ص393-394۔
مآخذ
- شیخ مفید، محمد بن محمد بن نعمان عکبری بغدادی، المقنعہ، طبع دوم، قم، موسسہ نشر اسلامی، 1410ھ۔
- آخوند خراسانی، محمد کاظم، کفایۃ الاصول، قم، موسسہ آل البیت، طبع اول، 1409ھ۔
- آشتیانی، میرزا محمد حسن، کتاب القضاء، تحقیق: علی اکبر زمانی نژاد، قم، زہیر، کنگرہ علامہ آشتیانی، طبع اول، 1425ھ۔
- آقا بزرگ تہرانی، میرزای شیرازی، ناشر: ادارہ کل ارشاد، طبع اول۔
- ابن شعبہ حرانی، حسن بن شعبہ حرانی، تحف العقول، انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1404ھ۔
- ادارہ کل امور فرہنگی و روابط عمومی مجلس شورای اسلامی، صورت مشروح مذاکرات شورای بازنگری قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران، تہران، طبع اول۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، الرسائل، تقریر: مجتبیٰ تہرانی، اسماعیلیان، طبع سوم۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، صحیفہ امام، تہران، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، طبع پنجم۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، کتاب البیع، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، ولایت فقیہ، حکومت اسلامی (تقریر بیانات امام خمینی)، تہران، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، طبع 29۔
- انصاری، شیخ مرتضیٰ، القضا والشہادات، قم، منشورات کنگرہ شیخ انصاری، 1415ھ۔
- برقی، احمد بن محمد بن خالد برقی، المحاسن، قم، دار الکتب الاسلامیہ، 1371ھ۔
- جوادی آملی، عبد اللہ، ولایت فقیہ ولایت فقاہت و عدالت، نشر مرکز اسراء، طبع یازدہم۔
- حر عاملی، شیخ محمد بن حسن، وسائل الشیعہ الی تحصیل مسائل الشریعہ، تحقیق: عبد الرحیم ربانی شیرازی، دار احیاء التراث العربی، بیروت، طبع پنجم، 1403ھ۔
- حلبی، ابی الصلاح، الکافی فی الفقہ، رضا استادی، اصفہان، مکتبہ امیر المومنین، 1403ھ۔
- حلی، ابن ادریس، کتاب السرائر الحاوی لتحریر الفتاوی، قم، تصحیح و نشر دفتر انتشارات اسلامی، 1411ھ۔
- شہید اول، محمد بن مکی، الدروس الشرعیہ، قم، موسسہ نشر اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم۔
- شیخ مفید، محمد بن محمد بن نعمان عکبری بغدادی، الاختصاص، قم، کنگرہ شیخ مفید، 1413ھ۔
- قمی، شیخ عباس، فوائد الرضویہ، قم، بوستان کتاب، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم۔
- کاشف الغطاء، محمد جعفر، کشف الغطاء عن مبہمات شریعۃ الغراء، مہدوی اصفہان، طبع نامعلوم۔
- کرکی، محقق ثانی، علی بن حسین، رسائل المحقق الکرکی، قم، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی و دفتر انتشارات اسلامی، طبع اول، 1409ھ۔
- مجاہد طباطبائی، سید محمد، مفاتیح الاصول، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، طبع اول، 1296ھ۔
- نجفی، محمد حسن، جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام، تحقیق: عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، طبع ہفتم، 1404ھ۔
- نراقی، احمد بن محمد بن مہدی، مستند الشیعہ فی احکام الشریعہ، موسسہ آل البیت فی احیاء التراث، مشہد مقدس، طبع اول، 1419ھ۔
- نراقی، ملا احمد، عوائد الایام فی بیان قواعد الاحکام و مہمات مسائل الحلال و الحرام، قم، دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم، طبع اول، 1417ھ۔
- یزدی طباطبائی، سید محمد کاظم، العروۃ الوثقی فیما تعم بہ البلوی (المحشی)، تحقیق: احمد محسنی سبزواری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، طبع اول، 1420ھ۔