مندرجات کا رخ کریں

امام خمینی کی فلسفیانہ حیات

وکی امام خمینی سے

امام خمینی کی فلسفیانہ حیات، فلسفہ صدرائی کی جانب توجہ کے باعث فلسفیانہ مسائل کو حل کرنے کے لیے خاص صلاحیتیں اور امکانات فراہم ہوئے ہیں۔

امام خمینی کی فلسفیانہ حیات کی اہمیت اور مقام

اصطلاح میں فلسفہ کا مطلب نظری اور عملی حقائق کا علم اور انسانی بساط کی حد تک موجودات کے حقائق کی معرفت کے ذریعے انسانی نفس کی تکمیل ہے۔[1]

امام خمینی کی علمی سرگرمیوں کا ایک نمایاں ترین میدان فلسفہ اور حکمت ہے۔ امام خمینی کی فلسفیانہ شخصیت میں، صدرائی فلسفے پر توجہ ان کے فلسفیانہ افکار کی تشریح و توسیع کے لیے ایک اہم نمونہ (ماڈل) کی حیثیت رکھتی ہے، اور اس نے امام کے مدنظر فلسفیانہ مسائل کو حل کرنے کے لیے خاص امکانات فراہم کیے ہیں۔ انہی امکانات کی بنیاد پر، امام خمینی اپنے فلسفی نظام میں غور و فکر کے ذریعے بہت سے لوازم اور فروع اخذ کرنے اور انہیں الٰہی معارف کے بیان اور وسعت میں استعمال کرنے میں کامیاب رہے۔ امام خمینی فلسفیانہ مباحث کو نظری عرفان کے افق تک لے جاتے ہیں اور اسے ایک عرفانی حکمت میں تبدیل کر دیتے ہیں، اس طرح کہ ان کی تصانیف میں عرفان کے مبانی کی بنیاد پر بہت سی دقیق اور فنی فلسفیانہ باریکیاں اور تجزیے کثرت سے دیکھنے کو ملتے ہیں۔[2]

امام خمینی کی فلسفیانہ حیات کی خصوصیات

امام خمینی کی فلسفیانہ حیات کی نمایاں خصوصیات میں درج ذیل شامل ہیں:

  • فلسفے میں گہری مہارت اور دسترس (تضلع و توغل): امام خمینی اپنے دور کے نمایاں ترین حکیم اور فلسفی ہیں۔ حکماء کے اقوال و نظریات پر مکمل عبور اور متقدمین و متاخرین کے افکار پر گہری نظر ان کی فلسفے میں وسیع معلومات اور مطالعے کی عکاسی کرتی ہے۔[3]
  • اسلامی فلسفے کا دفاع: امام خمینی فلسفیانہ تصانیف کی تشریح، تفسیر اور احیاء کے ذریعے فلسفے کو ایک خاص اصالت کا حامل قرار دیتے ہیں۔ آپ ان لوگوں کے نظریے کی مخالفت کرتے تھے جو فلسفے کو صرف یونانی فلسفے کی نقل سمجھتے تھے، اور ان لوگوں سے بھی اختلاف رکھتے تھے جو اسلامی فلسفے کے افکار کو غیر اسلامی مآخذ سے ماخوذ سمجھتے تھے۔ آپ کا ماننا تھا کہ اسلامی فلسفے کی جڑیں قرآن اور اہل بیتؑ کے اقوال میں پیوست ہیں۔[4]
  • حکمی اور فلسفی مسائل کو سمجھنے اور ان کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت: امام خمینی کی فلسفے اور حکمت میں غیر معمولی صلاحیت، ان کی اعلیٰ ذہانت اور اس نوعیت کے مباحث کے ساتھ ان کی ذاتی مناسبت نے انہیں اس علم کی بلندیوں پر سفر کرتے ہوئے مسائل کی نئی تشریحات اور جدت طرازی کے قابل بنایا۔ ان کا سلیس، مضبوط اور انتہائی مستحکم فلسفیانہ قلم، جو کبھی فلسفے کے علمی دائرے سے باہر نہیں نکلا، اس بات کا سبب بنا کہ ان کی تصانیف بے مثال عقلی استحکام کی حامل ہوں۔[5]
  • منطقی مباحث پر مکمل عبور: امام خمینی، فلسفیانہ ذوق اور عقلی تفکر کے ساتھ ساتھ، منطق کے مباحث پر بھی مکمل عبور رکھتے تھے، بالخصوص قیاس سے متعلق مباحث کو بخوبی جانتے تھے۔ آپ شکلِ اقترانی کو شکلِ استثنائی سے بخوبی ممتاز کرتے تھے اور ان کے نتائج کے استخراج کی شرائط سے واقف تھے، نیز قیاسِ برہانی کی شرائط اور لفظی و معنوی مغالطوں کی اقسام کا مکمل علم رکھتے تھے۔[6] یہ بلاوجہ نہیں ہے کہ امام اس بات کی سخت تاکید کرتے ہیں کہ دقیق اور گہرے فلسفیانہ اور منطقی مباحث کو ان لوگوں کے سامنے پیش کرنے سے گریز کیا جائے جو ضروری فکری پختگی اور فہم و فراست نہیں رکھتے۔ امام خمینی کے عقیدے کے مطابق ہر علم کے کچھ اہل ہوتے ہیں اور الٰہیات کے مباحث سب سے گہرے مباحث ہیں۔ یہ مباحث اس قدر گہرے اور دقیق ہیں کہ شیخ الرئیس (ابن سینا) جیسی شخصیت، جو ذہن کی تیزی، حسنِ ذوق اور بے مثال صلاحیت میں یکتا ہیں، انہوں نے بھی عاجزی کا اظہار کیا اور مابعد الطبیعیات کے مسائل کو سمجھنے کے لیے فارابی کی کتاب کا چالیس مرتبہ مطالعہ کیا؛ اسی طرح بعض مسائل کو سمجھنے سے قاصر رہنے پر، وہ بارگاہِ ربوبی میں گریہ و زاری کے ساتھ ان کے حل کی دعا کرتے تھے۔ اسی لیے، امام خمینی تاکید کرتے ہیں کہ علم کے ماہرین کی کتابوں کی طرف رجوع کرتے وقت جلد بازی سے گریز کیا جائے اور انانیت و نفسانیت سے دور رہا جائے، مبادا انسان لاشعوری طور پر ہلاکت کا شکار ہو جائے۔[7]

امام خمینی کے فلسفی مکتب کے عناصر

امام خمینی کے فلسفی مکتب میں کئی اہم عناصر (مؤلفے) پائے جاتے ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

  • امام کے فلسفیانہ طریقہ کار کا ترکیبی ہونا: فلسفے میں امام خمینی کی حکمت کا طریقہ کار (میتھڈالوجی) ترکیبی ہے؛ یعنی آپ نے تین طریقوں: برہان، عرفان اور قرآن سے استفادہ کیا ہے؛ اگرچہ آپ اپنے مکتب کے اخذ کردہ نظریات کی حتمی سچائی کا معیار وحی کو قرار دیتے ہیں۔ لہٰذا، امام جامعیت کے ساتھ ساتھ فلسفے کے حقیقی مقصد تک پہنچنے کے طریقے کو یعنی ہستی کے حقائق کی معرفت کے ذریعے حق تعالیٰ کے قرب کو لازمی قرار دیتے ہیں۔
  • امام خمینی کی عرفانی حکمت کی وسعت اور ہمہ گیریت: امام خمینی کا فلسفہ اس قدر وسعت کا حامل ہے جس کی ایک عقلی مکتب کو ضرورت ہوتی ہے؛ کیونکہ امام اپنا فلسفیانہ نظام، حکمتِ متعالیہ کی طرح، وجود سے شروع کرتے ہیں؛ لہٰذا جو کچھ بھی وجود کے دائرے میں آتا ہے، وہ ان کی فلسفیانہ تحقیق کا حصہ بن جاتا ہے۔[8]
  • حقیقت کے مطابق معرفت کا حصول: امام خمینی کے فلسفی نظام کا اہم ترین مقصد ایسی معرفت کا حصول ہے جو حقیقت اور واقع کے عین مطابق ہو۔ آپ اس مقصد کو دین اور حکمت کے درمیان مشترک قرار دیتے ہیں؛ اسی لیے اپنا مقصود بیان کرنے کے لیے پیغمبر اسلامﷺ کی اس حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: «ربّ أرنی الأشیاء کما هی» (اے پروردگار! مجھے چیزیں ویسی ہی دکھا جیسی وہ حقیقتاً ہیں)۔[9] [10]
  • امام خمینی کے فلسفی نظام کی ہم آہنگی اور انسجام: اس مکتب کے اجزاء کے درمیان کوئی دوری یا ٹوٹ پھوٹ نہیں ہے، کیونکہ آپ کی فلسفیانہ کاوشیں آپ کے مشاہدات اور شریعت کی مسلمات سے الگ نہیں ہیں؛ اسی طرح آپ کے وجودیات (آنٹولوجی) کے مباحث خداشناسی سے ہٹ کر تشکیل نہیں پائے؛ اور اس مکتب کی انسان شناسی بھی خدا شناسی اور وجودیات سے جدا نہیں ہے۔[11]
  • امام خمینی کی عرفانی حکمت کی سماجی وسعت: ایک فکری اور ثقافتی لہر پیدا کرنے کی صلاحیت اور معاشرے کے اندر اس کا پھیلاؤ امام خمینی کے فلسفے کے اہم عناصر میں سے ہے۔ امام کا فلسفی نظام معاشرے کی فکر و ثقافت اور سماجی حقائق کے میدان میں تحریکیں پیدا کرنے میں کامیاب رہا ہے۔[12]

حوالہ جات

  1. ابن‌سینا، عیون الحکمة، ص ۱۶-۱۷؛ قطب‌الدین شیرازی، شرح حکمة الاشراق، ص ۳۰؛ ملاصدرا، الحکمة المتعالیه، ج ۱، ص ۲۰؛ امام خمینی، آداب الصلاة، ص ۲۰۔
  2. صاحبی، حکمت معنوی، ص ۷۳-۷۴؛ صاحبی، سیری در حکمت معنوی امام خمینی، ص ۱۵۹۔
  3. صاحبی، حکمت معنوی، ص ۷۴-۷۵۔
  4. امام خمینی، آداب الصلاة، ص ۳۰۴؛ تقریرات فلسفه، ج ۱، ص ۸۷؛ صحیفه امام، ج ۱۸، ص ۸۷؛ کشف اسرار، ص ۳۲-۳۴؛ صاحبی، سیری در حکمت معنوی امام خمینی، ص ۱۵۷۔
  5. صاحبی، حکمت معنوی، ص ۷۵۔
  6. امام خمینی، تنقیح الاصول، ج ۱، ص ۱۱، ج ۴، ص ۵۸۹؛ الاجتهاد والتقلید، ص ۱۰؛ کشف اسرار، ص ۴۲؛ تقریرات فلسفه، ج ۳، ص ۵۶۲، ج ۲، ص ۱۲۷۔
  7. امام خمینی، مصباح الهدایة، ص ۶۸-۶۹؛ صاحبی، حکمت معنوی، ص ۷۵-۷۶۔
  8. صاحبی، حکمت معنوی، ص ۸۲-۸۳؛ سیری در حکمت معنوی امام خمینی، ص ۱۶۵۔
  9. احسائی، عوالی اللئالی، ج ۴، ص ۱۳۲۔
  10. امام خمینی، تقریرات فلسفه، ج ۳، ص ۳۱۴؛ صحیفه امام، ج ۱۹، ص ۲۲۵؛ آداب الصلاة، ص ۱۱؛ صاحبی، حکمت معنوی، ص ۸۳-۸۴۔
  11. صاحبی، حکمت معنوی، ص ۸۴؛ سیری در حکمت معنوی امام خمینی، ص ۱۶۶۔
  12. صاحبی، حکمت معنوی، ص ۸۴-۸۵؛ سیری در حکمت معنوی امام خمینی، ص ۱۶۶۔

مآخذ

  • ابن‌سینا، حسین بن عبداللہ، عیون الحکمة مع شرح عیون الحکمة، تہران، مؤسسۃ الصادق للطباعۃ والنشر، 1373ش۔
  • احسائی، ابن ابی جمہور، عوالی اللئالی، قم، مطبعۃ سید الشہداء، 1403ھ۔
  • امام خمینی، سید روح اللہ، الاجتهاد و التقلید، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1426ھ۔
  • امام خمینی، سید روح اللہ، آداب الصلاۃ، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1384ش۔
  • امام خمینی، سید روح اللہ، تقریرات فلسفہ امام خمینی، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1385ش۔
  • امام خمینی، سید روح اللہ، تنقیح الاصول، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1385ش۔
  • امام خمینی، سید روح اللہ، صحیفہ امام، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1389ش۔
  • امام خمینی، سید روح اللہ، کشف اسرار، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی،بغیر تاریخ۔
  • امام خمینی، سید روح اللہ، مصباح الہدایۃ، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1386ش۔
  • شیرازی، محمود بن مسعود کازرونی، قطب الدین، شرح حکمة الاشراق، بہ اہتمام: عبد اللہ نورانی، تہران، دانشگاہ تہران، 1380ش۔
  • صاحبی، باقر، حکمت معنوی، تہران، نشر عروج، 1401ش۔
  • صاحبی، باقر، سیری در حکمت معنوی امام خمینی، مجلہ حضور، نشر عروج، 1401ش۔
  • ملاصدرا، محمد بن ابراہیم، الحکمة المتعالیة فی الاسفار العقلیة الاربعة، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1981ء۔