مندرجات کا رخ کریں

تسلیم

وکی امام خمینی سے

تسلیم کا مطلب اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنا، مصائب و مشکلات پر اعتراض نہ کرنا، اور توحید میں اخلاص پیدا کرنا ہے، اور یہ روحانی سکون اور نجات حاصل کرنے کے لیے ایک بنیادی اصول ہے۔

تسلیم کی اہمیت اور مقام

علم اخلاق اور عرفان کی اصطلاح میں تسلیم کا مطلب اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اس کے ارادے کو مکمل اور غیر مشروط طور پر قبول کرنا ہے۔[1] علمائے اخلاق اور اہلِ معرفت نے اپنی تصانیف میں مقامِ تسلیم، اس کی حقیقت و مراتب، دیگر مقامات سے اس کے فرق، اور تسلیم کے اثرات پر تفصیلی بحث کی ہے۔[2]

امام خمینی نے بھی اپنی تصانیف میں تسلیم کی حقیقت، اس کے مراتب، دیگر مقامات کے ساتھ اس کے فرق، اور تسلیم پر مرتب ہونے والے اثرات و نتائج پر بحث کی ہے۔[3]

تسلیم کی حقیقت

علمائے اخلاق اور اہلِ معرفت مصائب اور آزمائشوں کے وقت ظاہر و باطن کے ثابت قدم رہنے اور تبدیل نہ ہونے کو ہی تسلیم قرار دیتے ہیں۔[4] امام خمینی بھی تسلیم کی حقیقت کو باطنی اطاعت، قلبی اعتقاد، اور نفس کا عیوب اور بری صفات سے پاک ہونا قرار دیتے ہیں۔ آپ کا ماننا ہے کہ تسلیم مومن کی ان نیک صفات میں سے ایک ہے جو روحانی مقامات اور الٰہی معارف طے کرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے، اور جو شخص حق اور اولیائے الٰہی کے سامنے تسلیم ہو جائے، وہ جلد اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ جاتا ہے؛ لہٰذا، انسانِ سالک کو چاہیے کہ وہ کسی ماہر طبیب (روحانی رہنما) کی تلاش کرے اور خود کو اس کے حوالے کر دے۔ اگر وہ حیل و حجت کرے، اس کے سامنے تسلیم نہ ہو، اور اپنی عقل سے اپنا علاج کرنا چاہے تو بہت ممکن ہے کہ وہ ہلاکت میں پڑ جائے۔ بعض علمائے اخلاق مقامِ تسلیم کو مقامِ رضا سے بلند تر مانتے ہیں؛ کیونکہ مقامِ رضا میں اللہ جو بھی کرتا ہے، وہ بندے کی طبیعت اور مرضی کے موافق ہوتا ہے، لیکن مقامِ تسلیم میں انسان اپنی طبیعت اور مرضی کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے۔

امام خمینی مقامِ رضا کو مقامِ تسلیم سے بالاتر سمجھتے ہیں، اگرچہ آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ مقامِ تسلیم کا ایک درجہ مقامِ توکل اور رضا سے بھی بلند ہے؛ کیونکہ اگر سالک سچی طلب اور محبت رکھنے والا ہو اور انانیت و نفسانیت سے دور ہو، تو اللہ تعالیٰ ایک ہی جلوے اور کشش کے ذریعے اسے فنا اور صعقِ مطلق (مکمل بیخودی) تک پہنچا دیتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ(ع) کے ساتھ پیش آیا۔ اور اگر سالک میں کوئی خامی ہو، تو اللہ کی خاص عنایت سے حاصل ہونے والے اسی رحمانی جلوے کی بدولت وہ خامی دور ہو جاتی ہے، اور یہ مقامِ تسلیم، توکل اور قضائے الٰہی پر راضی رہنے سے بالاتر ہے۔[5]

تسلیم کے اثرات اور نتائج

علمائے اخلاق نے مقامِ تسلیم کے بہت سے اثرات اور نتائج بیان کیے ہیں، جن میں یہ شامل ہیں: قلبی اطمینان، دین میں بصیرت، قرآنی بشارتوں سے مستفید ہونا، صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت پانا، توکل، اور الٰہی آزمائش میں کامیابی۔[6] امام خمینی نے بھی مقامِ تسلیم کے بے شمار اثرات اور نتائج بیان کیے ہیں۔ آپ آیت «لا یؤمنون حتى یحکموک فیما شجر بینهم ثم لا یجدوا فی انفسهم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما»،[7] کا حوالہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انسانی روح کو ایمان کا ذائقہ تب نصیب ہوتا ہے جب وہ الٰہی احکام کے سامنے اس حد تک مکمل تسلیم ہو جائے کہ اس کے وجود میں ان احکام کے حوالے سے کوئی تنگی پیدا نہ ہو۔ امام خمینی تسلیم کو عقل اور رحمان کے لشکر میں شمار کرتے ہیں جو کہ فطرتِ مخمورہ کا لازمی جزو ہے اور آپ کا ماننا ہے کہ انسان کی فطرت کی سلامتی کی وجہ سے ہی وہ حق کے سامنے تسلیم ہوتا ہے۔ اسی لیے تسلیم کے مدمقابل تزلزل اور شک ہے۔ اگر انسان کی روح تسلیم ہو گئی، تو انسان کی پوری وجودی سلطنت تسلیم ہو جائے گی اور پھر اس میں اپنی کوئی انانیت، حرکت اور سکون باقی نہیں رہے گا۔[8]

حوالہ جات

  1. طوسی، خواجہ نصیر، اخلاق ناصری، ص ۱۱۶؛ جرجانی، سید شریف، التعریفات، ص ۸۰-۸۵؛ کاشانی، عبد الرزاق، شرح منازل السائرین، ص ۳۴۱-۳۴۵۔
  2. ملا صدرا، محمد بن ابراہیم، شرح اصول کافی، ج ۱، ص ۲۳۳؛ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج ۷۹، ص ۱۳۶؛ طوسی، خواجہ نصیر، اوصاف الاشراف، ص ۸۵-۸۶؛ اخلاق ناصری، ص ۱۱۶؛ سلمی، عبد الرحمان، طبقات الصوفیه، ج ۱، ص ۵۹۔
  3. امام خمینی، سید روح اللہ، شرح حدیث جنود عقل و جهل، ص ۴۰۱-۴۰۷؛ آداب الصلاة، ص ۲۳؛ شرح چهل حدیث، ص ۴۷؛ سرّالصلاة، ص ۷۸۔
  4. سلمی، عبد الرحمان، طبقات الصوفیه، ج ۱، ص ۵۹؛ جرجانی، سید شریف، التعریفات، ص ۸۵؛ کاشانی، عبد الرزاق، شرح منازل السائرین، ص ۳۴۱-۳۴۵۔
  5. امام خمینی، سید روح اللہ، شرح حدیث جنود عقل و جهل، ص ۴۰۲-۴۰۵۔
  6. طباطبائی، محمد حسین، المیزان، ج ۱۲، ص ۳۴۷؛ ج ۱۷، ص ۲۳۱؛ طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان، ج ۵، ص ۲۱۷؛ حویزی، عبد علی، نور الثقلین، ج ۳، ص ۹۴؛ مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، ج ۳، ص ۵۰۵۔
  7. النساء: ۶۵۔
  8. امام خمینی، سید روح اللہ، شرح حدیث جنود عقل و جهل، ص ۴۰۱-۴۰۷۔

مآخذ

  • امام خمینی، سید روح اللہ، آداب الصلاة، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی۔
  • امام خمینی، سید روح اللہ، سرّالصلاة، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی۔
  • امام خمینی، سید روح اللہ، شرح چهل حدیث، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی۔
  • امام خمینی، سید روح اللہ، شرح حدیث جنود عقل و جهل، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی۔
  • جرجانی، سید شریف، التعریفات، تہران، ناصر خسرو۔
  • حویزی، عبد علی، نور الثقلین، قم، نشر مطبعیۃ العلمیہ، 1383ھ۔
  • سلمی، عبد الرحمان، طبقات الصوفیه، تہران، نشر توس۔
  • طباطبائی، محمد حسین، تفسیر المیزان، قم، انتشارات اسلامی، 1417ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان، بیروت، دار العلوم، 1379ھ۔
  • طوسی، خواجہ نصیر، اخلاق ناصری، تہران، انتشارات خوارزمی۔
  • طوسی، خواجہ نصیر، اوصاف الاشراف، تہران، وزارت ارشاد اسلامی۔
  • کاشانی، عبد الرزاق، شرح منازل السائرین، تحقیق بیدارفر، قم، انتشارات بیدار۔
  • مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، بیروت، موسسۃ الوفاء، 1404ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تہران، دار الکتب الاسلامیہ۔
  • ملا صدرا، محمد بن ابراہیم، شرح اصول کافی، تہران، پژوہشگاہ علوم انسانی۔