تشہد
تشہد کا مطلب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے رسولﷺ کی رسالت کی گواہی دینا ہے۔ نماز میں یہ گواہی ایک قسم کی تجدیدِ ایمان اور توحیدی عقائد کا اعادہ سمجھی جاتی ہے۔
تشہد کی اہمیت اور مقام
دینی اور عرفانی اصطلاح میں تشہد کا مطلب حق تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول اکرمﷺ کی رسالت کی گواہی دینا ہے۔[1] اہلِ معرفت نے نماز میں تشہد کے حوالے سے وارد ہونے والی روایات کی روشنی میں تشہد کے مقام، اس کی اقسام اور ولایت کے ساتھ اس کے تعلق پر بحث کی ہے۔[2] امام خمینی نے بھی بعض روایات کی روشنی میں تشہد، نماز میں اس کے مقام، اس کی حقیقت اور ولایت کے ساتھ اس کے تعلق پر گفتگو کی ہے۔[3]
تشہد کی حقیقت
اہلِ معرفت کے نزدیک تشہد کی حقیقت پروردگار کی بارگاہ میں حاضری ہے؛ کیونکہ مقامِ تشہد میں سالک کثرت (تکثر) سے نجات پا کر وحدت تک پہنچ جاتا ہے۔ نمازی حالتِ تشہد میں حضرتِ حق کا مشاہدہ کرنے والا اور اسی میں غرق ہوتا ہے؛ اسی لیے تشہد میں نہ کثرت، وحدت کے لیے حجاب بنتی ہے اور نہ ہی وحدت، کثرت کے لیے رکاوٹ بنتی ہے۔ اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کی یکتائی اور اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ تمام اسماء اسی کے ہیں، اور کوئی ان میں اس کا شریک نہیں ہے۔[4] نمازی تشہد میں پروردگارِ متعال کی وحدانیت اور یکتائی کی گواہی دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ہر قسم کے شرک کی نفی کرتا ہے۔ نیز، تشہد میں وہ رسولِ خداﷺ کے بندے اور عبد ہونے کی بھی گواہی دیتا ہے۔ درحقیقت، یہ اقرار اور گواہیاں ایک قسم کی تجدیدِ ایمان اور پاکیزہ توحیدی عقائد کا اعادہ سمجھی جاتی ہیں۔[5]
امام خمینی بھی تشہد کی حقیقت کو فنا سے بقا کی طرف اور وحدت سے کثرت کی طرف نکلنا قرار دیتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ نمازی (سالک) کو یہ جاننا چاہیے کہ نماز کی حقیقت حقیقی توحید کا حصول اور حق تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی ہے، جو پوری نماز میں جاری و ساری رہتی ہے۔ اور یہ حق تعالیٰ کی «اولیت» اور «آخریت» کا وہی راز ہے، وہ راز جو اللہ کی طرف سے اور اللہ کی طرف کا سفر ہے، لہٰذا اس الٰہی سفر میں سالک کے دل کی گواہی حقیقی ہونی چاہیے اور اسے نفاق اور شرک سے پاک ہونا چاہیے۔[6]
امام خمینی نماز کے آغاز اور نماز کے آخر میں دی جانے والی گواہی کے فرق کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نماز کے آغاز میں اور سلوک سے پہلے کی گواہی ایک تعبدی (عبادتی) یا تعقلی گواہی ہوتی ہے اور سالک ابھی خلقی تعینات (مخلوق کی حدود) میں ہوتا ہے، لیکن نماز کے آخر میں گواہی یعنی تشہد، سلوک کی انتہا، خلقی تعینات سے گزر کر مقامِ حق تک پہنچنے اور وحدت سے کثرت کی طرف لوٹنے کا نام ہے، اور اس قسم کی گواہی ہی حقیقی اور تمکنی (مستحکم) گواہی ہے۔[7]
تشہد اور مسئلہ ولایت
نمازی تشہد میں رسولِ خداﷺ کے بندے اور عبد ہونے کی گواہی دیتا ہے، اور نماز کے تشہد میں حضرت رسول اکرمﷺ اور خاندانِ عصمت و طہارتؑ پر جو واجب درود (صلوات) بھیجا جاتا ہے، وہ الٰہی حکم اور فرمان کے تحت مقرر کیا گیا ہے، جو نماز میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور یکتائی کی گواہی اور مسئلہ ولایت کے درمیان گہرے ربط اور تعلق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔[8]
امام خمینی بھی تشہد اور ولایت کے تعلق کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ سالک تشہد کے وقت پیغمبرﷺ کی رسالت اور عبودیت کے ذریعے رسول اکرمﷺ کی رسالت اور ائمہ اطہارؑ کے مقامِ ولایت سے مدد اور شفاعت طلب کرتا ہے، اور یوں اس پر «اولیت» اور «آخریت» کے ظہور کا راز، جو مقاماتِ ولایت میں سے ہے، آشکار ہو جاتا ہے؛ کیونکہ رسول اکرمﷺ اور ان کی آلؑ کی حرمت کی معرفت انتہائی اہم ہے، اور سالک کو اپنے دل کو یہ سمجھانا چاہیے کہ اگر کشفِ تامِ محمدیﷺ نہ ہوتا تو کسی کو بھی حق تعالیٰ کی عبودیت، مقامِ قرب تک رسائی اور معرفت کی معراج کا راستہ نہ ملتا؛ کیونکہ پیغمبرﷺ اور آئمہ معصومینؑ حق تعالیٰ کی ذاتی، صفاتی اور فعلی تجلی کے مکمل آئینہ دار ہیں۔[9]
تشہد فقہی اصطلاح میں تشہد یہ ہے کہ نمازی تمام واجب نمازوں کی دوسری رکعت میں، نماز مغرب کی تیسری رکعت میں اور نماز ظہر، عصر اور عشاء کی چوتھی رکعت میں، دوسرے سجدے کے بعد بیٹھ کر اور جسم کے پرسکون ہونے کی حالت میں ایک مخصوص ذکر پڑھے۔[10] تشہد واجب ہے، لیکن رکن نہیں ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ صرف جان بوجھ کر چھوڑنے کی صورت میں نماز باطل ہوتی ہے، اور بھول کر چھوٹ جانے کی صورت میں نماز باطل نہیں ہوتی۔[11] تشہد کا ذکر بھی واجب ہے اور وہ یہ ہے: «اَشْهَدُ اَنْ لا اِلهَ اِلاَّ الله ُ وَحْدَهُ لا شَریکَ لَهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، اَللهمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ»۔[12]
حوالہ جات
- ↑ گوہرین، شرح اصطلاحات تصوف، ج ۷، ص ۴۷؛ ہجویری، کشف المحجوب، ص ۳۷۸؛ نسفی، ارشاد در معرفت، ص ۱۹۲؛ میبدی، کشف الاسرار وعدة الابرار، ج ۱۰، ص ۵۷۵۔
- ↑ میبدی، کشف الاسرار و عدة الابرار، ج ۱۰، ص ۵۷۵؛ نسفی، ارشاد در معرفت، ص ۱۹۲؛ صدوق، علل الشرایع، ج ۲، ص ۳۱۶؛ ملکی تبریزی، اسرار الصلاة، ص ۳۶۲-۳۷۶؛ ہجویری، کشف المحجوب، ص ۳۷۸؛ قمی، اسرار العبادات و حقیقة الصلاة، ص ۱۸۱؛ نراقی، معراج السعادہ، ص ۸۶۳؛ شیرازی، مناهج انوار المعرفة فی شرح مصباح الشریعه، ج ۱، ص ۳۷۵۔
- ↑ امام خمینی، آداب الصلاة، ص ۳۶۳؛ سرّالصلاة، ص ۱۰۸-۱۱۲۔
- ↑ قشیری، لطائف الاشارات، ج ۱، ص ۲۲۷؛ قمی، اسرار العبادة و حقیقة الصلاة، ص ۱۱۲-۱۱۳؛ کاشانی، مجموعه رسائل و مصنفات، ص ۴۴۲۔
- ↑ گوہرین، شرح اصطلاحات تصوف، ج ۷، ص ۴۷-۴۸؛ سمندری، اسرارالصلاة، ص ۱۷۵؛ یزدانپناہ، آئین بندگی، ص ۴۵۰-۴۵۱؛ شیرازی، مناهج انوار المعرفة فی شرح مصباح الشریعه، ج ۱، ص ۳۷۵۔
- ↑ امام خمینی، آداب الصلاة، ص ۳۶۲-۳۶۳؛ سرّالصلاة، ص ۱۰۸-۱۰۹۔
- ↑ امام خمینی، آداب الصلاة، ص ۳۶۳۔
- ↑ فرغانی، مشارق الدراری، ص ۹۰؛ یزدانپناہ، آئین بندگی، ص ۵۱۷-۵۱۸۔
- ↑ امام خمینی، آداب الصلاة، ص ۳۶۳؛ سرّالصلاة، ص ۱۱۱-۱۱۲۔
- ↑ شیخ طوسی، المبسوط، ج ۱، ص ۱۱۵؛ علامہ حلی، تذکرۃ الفقہاء، ج ۳، ص ۲۲۷؛ امام خمینی، تحریر الوسیلہ، ج ۱، ص ۱۸۸، توضیح المسائل، ص ۱۷۱۔
- ↑ شیخ طوسی، المبسوط، ج ۱، ص ۱۱۵؛ علامہ حلی، تذکرۃ الفقہاء، ج ۳، ص ۲۲۷؛ امام خمینی، تحریر الوسیلہ، ج ۱، ص ۱۸۸، توضیح المسائل، ص ۱۷۱۔
- ↑ شیخ طوسی، المبسوط، ج ۱، ص ۱۱۵؛ علامہ حلی، تذکرۃ الفقہاء، ج ۳، ص ۲۲۷؛ امام خمینی، تحریر الوسیلہ، ج ۱، ص ۱۸۸، توضیح المسائل، ص ۱۷۱۔
مآخذ
- امام خمینی، سید روح اللہ، تحریر الوسیلہ، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، طبع سوم، 1392ش۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، رسالہ توضیح المسائل، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، طبع ہشتم، 1391ش۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، آداب الصلاۃ، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1384ش۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، سرّالصلاۃ، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1378ش۔
- سمندری، مہدی، اسرار الصلاۃ، قم، بوستان کتاب، 1410ھ۔
- شیخ طوسی، ابو جعفر محمد بن حسن، المبسوط فی فقہ الامامیۃ، تہران، المکتبۃ المرتضویۃ لاحیاء الآثار، 1387ھ۔
- شیرازی، ابو القاسم، مناہج انوار المعرفۃ فی شرح مصباح الشریعۃ، تہران، خانقاہ احمدی، بغیر تاریخ۔
- صدوق، محمد بن علی، علل الشرایع، قم، کتابفروشی داوری، بغیر تاریخ۔
- علامہ حلی، حسن بن یوسف، تذکرۃ الفقہاء، قم، مؤسسہ آل البیتؑ، 1414ھ۔
- فرغانی، سعید الدین، مشارق الدراری، قم، بوستان کتاب، 1379ش۔
- قشیری، عبد الکریم، لطائف الاشارات، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1428ھ۔
- قمی، قاضی سعید، اسرار العبادۃ و حقیقۃ الصلاۃ، تصحیح: محمد باقر سبزواری، تہران، دانشگاہ تہران، 1339ش۔
- کاشانی، عبد الرزاق، مجموعہ رسائل و مصنفات، تہران، میراث مکتوب، 1380ش۔
- گوہرین، صادق، شرح اصطلاحات تصوف، قم، نشر زورا، 1388ش۔
- مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، موسسۃ الوفاء، 1404ھ۔
- ملکی تبریزی، جواد، اسرار الصلاۃ، تہران، پیام آزادی، 1372ش۔
- میبدی، احمد بن محمد، کشف الاسرار وعدۃ الابرار، تہران، امیر کبیر، 1371ش۔
- نراقی، احمد، معراج السعادۃ، انتشارات ہجرت، (بغیر تاریخ)۔
- نسفی، عبد اللہ بن محمد، ارشاد در معرفت و وعظ و اخلاق، تہران، میراث مکتوب، 1385ش۔
- ہجویری، علی بن عثمان، کشف المحجوب، تہران، طہوری، 1375ش۔
- یزدانپناہ، ید اللہ، آئین بندگی و دلدادگی، قم، نشر فردا، 1398ش۔