تصوف
تصوف، ایک عرفانی اصطلاح ہے۔
تصوف کی حقیقت اور مقام
عرفانی اصطلاح میں، ظاہر و باطن میں شریعت کے آداب کی پابندی کو تصوف کہا جاتا ہے۔[1] تصوف، ایک اسلامی فکری تحریک کے طور پر، ہمیشہ علمائے اسلام کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ سماجی اور ثقافتی نقطہ نظر سے تصوف کا ایک خاص مقام ہے اور اس کے اپنے مخصوص افکار، نظریات اور آداب ہیں۔[2] البتہ بعض صورتوں میں صوفی تحریکوں میں پیدا ہونے والے انحرافات نے عرفان اور تصوف کے حقیقی چہرے کو داغدار کیا ہے، تاہم کچھ مستند حوالوں اور حقیقی عارفوں کے اقوال کی روشنی میں، صوفیہ ایک ایسی معرفتی میراث کے حامل ہیں جسے شریف ترین دینی علوم میں شمار کیا گیا ہے۔[3]
امام خمینی نے بھی اپنی تصانیف میں تصوف اور صوفی پر توجہ دی ہے اور عرفان و تصوف کی حقیقت کو ایک ہی قرار دیا ہے جن میں کوئی بنیادی (جوہری) فرق نہیں ہے، بلکہ آپ عرفان اور تصوف کے فرق کو نظری اور عملی پہلوؤں سے متعلق سمجھتے ہیں۔[4] البتہ آپ جاہل صوفیوں سے سختی سے گریز کرتے ہیں اور ان پر تنقید کرتے ہیں۔[5] امام خمینی نے تصوف کے بعض سلسلوں، جیسے سلسلہ نعمت اللہی گنابادی کے ساتھ نرمی کا اظہار کیا ہے اور انہیں توجہ کا مرکز بنایا ہے۔[6]
امام خمینی کی نظر میں تصوف
امام خمینی تصوف کے حوالے سے دو بنیادی نقطہ نظر اور تصورات رکھتے ہیں؛ پہلے تصور کے مطابق، تصوف ایک ایسا علم ہے جو دیگر دینی علوم کے ہم پلہ ہے، اور دوسرے تصور میں، تصوف ایک وسیع میدان ہے جس کے ثقافتی، تربیتی اور معرفتی پہلو ہیں۔ آپ پہلے تصور میں نہ صرف تصوف پر تنقید نہیں کرتے بلکہ اسے دینی علوم میں شمار کرتے ہیں۔[7] تصوف کا دفاع کرتے ہوئے امام خمینی کا ماننا ہے کہ تصوف، عرفان تک پہنچنے کا واحد عملی طریقہ ہے؛ یعنی جس شخص نے علم عرفان کو عملی جامہ پہنایا اور اسے عقل کے درجے سے قلب (دل) تک اتارا، وہی صوفی ہے۔ آپ کا عقیدہ ہے کہ عرفا اور اہلِ تصوف کی باتوں کو ہر کوئی نہیں سمجھ سکتا سوائے اس کے جو خود صوفی ہو؛ کیونکہ ان کی باتوں کو سمجھنے کے لیے عرفانی ذوق کی ضرورت ہوتی ہے۔[8]
آپ کے عقیدے کے مطابق صوفیہ کا لفظ سننے سے گریز نہیں کرنا چاہیے، بلکہ عرفاء اور صوفیہ کی باتیں دلیل و برہان سے بالاتر ہیں؛ اہلِ تصوف کا کہنا ہے کہ جب تک کشف و شهود حاصل نہ ہو اور الٰہی نور دل میں نہ اترے، تب تک یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ عرفاء اور صوفیہ کیا کہہ رہے ہیں۔[9]
دوسرے تصور میں، امام عوامِ صوفیہ کو ان کے خواص سے الگ قرار دیتے ہیں اور عوامِ صوفیہ کے طریق کار پر تنقید کرتے ہیں۔[10] آپ کے نزدیک، سالک کو بعض جاہل اہلِ تصوف کی افراط و تفریط سے دور رہنا چاہیے تاکہ اس کے لیے سیر الی اللہ ممکن ہو سکے۔ امام خمینی کی نظر میں بعض متصوفین نے اپنے اس عقیدے کی بنا پر انتہا پسندی (افراط) کا راستہ اختیار کر لیا ہے کہ ظاہری علم اور عمل غیر ضروری ہے اور یہ صرف جاہلوں اور عوام کے لیے ہے، اور اہلِ حقیقت کو باطنی حقائق حاصل ہو جانے کی وجہ سے ظاہری اعمال کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔[11]
صوفیہ کے استحسانات
اہلِ تصوف کے کچھ مخصوص شعائر، آداب اور رویے ہیں جنہیں صوفیہ کے استحسانات یا اجتہادات کہا جاتا ہے۔[12] صوفیہ کے اہم ترین استحسانات درج ذیل ہیں:
- خرقہ پوشی: خرقہ اونی لباس کو کہا جاتا ہے جسے صوفیہ اپنا سب سے بڑا شعار مانتے ہیں، عرفان میں یہ ایک خاص لباس ہے جو پیروں اور مرشدوں کی طرف سے ایک مخصوص مرحلے پر مریدوں اور شاگردوں کو عطا کیا جاتا ہے۔[13] امام خمینی اس قسم کی ظاہری خرقہ پوشی کو تسلیم نہیں کرتے اور بہت سے مقامات پر آپ نے خرقہ اور ظاہری خرقہ پوشی کی تردید کی ہے۔[14] البتہ بعض مواقع پر آپ نے اپنی تصانیف میں خرقہ کی اصل کو تسلیم کیا ہے، اسے معنوی رفعت عطا کی ہے اور اس کے لیے ایک خاص ملکوتی معنی کے قائل ہوئے ہیں۔[15]
- خانقاہ: یہ صوفیوں کی قیام گاہ، خلوت گاہ اور عبادت گاہ ہوتی ہے جو مخصوص رسومات اور اعمال انجام دینے کے لیے ہوتی ہے۔ صوفیوں نے خانقاہ کے بے شمار فوائد بیان کیے ہیں۔[16] امام خمینی نے بھی اپنی بعض تصانیف میں خانقاہ کی طرف توجہ دی ہے اور اسے عالمِ ملکوت اور حریمِ قلب کے کنایے کے طور پر پیش کیا ہے؛[17] البتہ بعض مقامات پر امام کی تصانیف میں، خانقاہ اس جگہ کو بھی کہا گیا ہے جہاں نہ تو معبودِ برتر کا کوئی نشان ہو اور نہ ہی دوست (اللہ) کا کوئی ذکر ہو۔[18]
- چلہ کشی (چلہ نشینی): چالیس دن تک خلوت اختیار کرنا اور چلہ کشی کرنا صوفیہ کے دیگر استحسانات میں سے ہے۔[19] امام خمینی نے بھی چلہ اور چلہ کشی کی اصل کو تسلیم کیا ہے اور اس حدیث «من اخلص لله اربعین صباحاً جرت ینابیع الحکمة من قلبه علی لسانه» سے استدلال کرتے ہوئے،[20] ان کا ماننا ہے کہ جو شخص چالیس دن تک خالص عمل کرے اور خود کو اللہ کے لیے خالص کر لے، اس کے دل سے حکمت کے چشمے پھوٹتے ہیں اور اس کی زبان حکمت بولنے لگتی ہے۔[21] امام خمینی بعض مقامات پر جاہل صوفیوں کے نزدیک خلوت نشینی کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ کی خلوت سے مراد یہ ہے کہ انسان تمام امور میں اللہ کے ساتھ ہو، نہ کہ گوشہ نشینی اختیار کر کے گھر کے کسی کونے میں اپنے وہموں اور خیالوں کے ساتھ خلوت کر لے۔[22]
- سماع: صوفیہ کا ایک اور استحسان سماع ہے جس کا مطلب وجد، حال، رقص اور دھمال ہے جو انفرادی یا اجتماعی صورت میں مخصوص آداب اور رسومات کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے۔[23] امام خمینی اہلِ تصوف کے سماع کو تسلیم نہیں کرتے اور سماع اور غناء کی حقیقت بیان کرتے ہوئے آپ کا ماننا ہے کہ اگر غناء اور موسیقی طرب (مستی) کا باعث نہ ہو، تو چاہے وہ باطل لہو ہو اور فاسقوں کی دھنوں سے مشابہت رکھتی ہو، وہ غناء نہیں ہے۔[24]
شریعت کی پابندی
بعض جاہل صوفی اور نام نہاد عارف ظاہری علم اور عمل کو صرف عوام اور جاہلوں کے لیے مخصوص سمجھتے ہیں اور اہلِ سرّ اور اصحابِ قلوب کو ظاہری اعمال سے بے نیاز گردانتے ہیں اور اس آیت «واعبد ربّک حتی یأتیک الیقین»،[25] کا سہارا لیتے ہوئے یہ گمان کرتے ہیں کہ ظاہری اعمال صرف قلبی حقائق کے حصول اور منزل تک پہنچنے کے لیے ہوتے ہیں، اور جب سالک اپنی منزل تک پہنچ جائے تو ان اعمال کی پابندی کرنا حقیقت سے دور ہونا ہے۔[26]
امام خمینی تصوف اور صوفیہ کے اس گروہ کو اہلِ معرفت کے دائرے سے خارج اور الٰہی مقامات سے جاہل سمجھتے ہیں؛ کیونکہ ظاہر کو ترک کرنا، شریعت کے ظاہر اور باطن دونوں کے باطل ہونے کا سبب بنتا ہے۔[27] مذکورہ بالا آیت کی غلط فہمی اور حقیقت تک پہنچنے کے بعد عبادت ختم ہونے اور شرعی احکام ساقط ہونے کے تصور کے بارے میں آپ کا عقیدہ یہ ہے کہ جب تک انسان بندگی کے لباس میں ہے، اس کی نماز اور تمام اعمال اسی کی طرف سے ہیں، اور جب وہ حق میں فانی ہو جاتا ہے اور اسے موتِ کلی اور مطلق فنا حاصل ہو جاتی ہے، تو تمام اعمال حق کی طرف سے ہوتے ہیں اور سالک کا ان میں کوئی تصرف نہیں ہوتا۔ منزلِ مقصود تک پہنچنے کے بعد عبادت کے منقطع ہونے کا یہی اصل مفہوم ہے، نہ کہ وہ جو بعض جاہل متصوفین گمان کرتے ہیں کہ عبادت اور شرعی ذمہ داری ساقط ہو جاتی ہے۔[28]
حوالہ جات
- ↑ بکری، ابو القاسم، انوار فی علم الاسرار و مقامات الابرار، ص ۱۹۴؛ سلمی، عبد الرحمان، طبقات الصوفیه، ص ۳۴۶۔
- ↑ مطہری، مرتضی، مجموعه آثار، ج ۲، ص ۸۴-۸۵؛ روحانی نژاد، حسین، نقد عرفانهای صوفیانه، ص ۲۲۔
- ↑ آملی، سید حیدر، جامع الاسرار و منبع الانوار، ص ۴۴؛ روحانی نژاد، حسین، مواجید عرفانی، ص ۲۷-۲۸۔
- ↑ امام خمینی، سید روح اللہ، تقریرات فلسفه امامخمینی، ج ۲، ص ۱۵۶۔
- ↑ امام خمینی، سید روح اللہ، سرّالصلاة، ص ۱۳؛ آداب الصلاة، ص ۸۱، ۹۸ و ۹۰؛ شرح چهل حدیث، ص ۴۵۶؛ دیوان امام، ص ۷۱ و ۷۴۔
- ↑ عرب، علی رضا، تصوف و عرفان از دیدگاه علمای متأخر شیعه، ص ۳۶۵-۳۶۶ و ۳۶۷۔
- ↑ امام خمینی، سید روح اللہ، تقریرات فلسفه امامخمینی، ج ۱، ص ۴۵، ۲۸۴-۲۸۵؛ ج ۲، ص ۲۰۴، ۲۴۳؛ ج ۳، ص ۴۹۹؛ صحیفه امام، ج ۱۸، ص ۴۴۷ و، ج ۴، ص ۱۸۳؛ دیوان امام، ص ۱۱۰ و ۱۶۱۔
- ↑ امام خمینی، سید روح اللہ، تقریرات فلسفه امامخمینی، ج ۲، ص ۱۵۶ و ۱۹۸۔
- ↑ امام خمینی، سید روح اللہ، تقریرات فلسفه امامخمینی، ج ۱، ص ۲۰۴؛ ۲۸۴-۲۸۵؛ سرّالصلاة، ص ۳۹۔
- ↑ امام خمینی، سید روح اللہ، سرّالصلاة، ص ۱۳؛ آداب الصلاة، ص ۸۱ و ۸۹؛ شرح چهل حدیث، ص ۴۵۶۔
- ↑ امام خمینی، سید روح اللہ، آداب الصلاة، ص ۷۹-۸۱؛ شیخ، مکتب حکمی تهران، ص ۱۸۵۔
- ↑ کاشانی، عز الدین محمود، مصباح الهدایه و مفتاح الکفایه، ص ۶۳-۷۰؛ ۱۱۶ و ۱۴۶؛ سجادی، ضیاء الدین، مقدمهای بر مبانی عرفان و تصوف، ص ۲۴۶-۲۴۷۔
- ↑ ہجویری، علی بن عثمان، کشف المحجوب، ص ۶۲؛ باخزری، یحیی، اوراد الأحباب و فصوص الآداب، ج ۲، ص ۲۷؛ امینی نژاد، علی، آشنایی با مجموعه عرفان اسلامی، ص ۵۲۲۔
- ↑ امام خمینی، سید روح اللہ، صحیفه امام، ج ۱، ص ۱۸؛ ج ۱۸، ص ۴۵۳۔
- ↑ امام خمینی، سید روح اللہ، دیوان امام، ص ۷۴ و ۵۲۔
- ↑ قشیری، ابو القاسم، رساله قشیریه، ص ۱۹-۲۱؛ ہجویری، علی بن عثمان، کشف المحجوب، ص ۵۵؛ سجادی، ضیاء الدین، مقدمهای بر مبانی عرفان و تصوف، ص ۲۵۱-۲۵۳۔
- ↑ امام خمینی، سید روح اللہ، دیوان امام، ص ۴۶؛ فرشبافیان، احمد، بررسی مضامین مشترک عرفانی اشعار امامخمینی و حافظ، ص ۱۲۶۔
- ↑ امام خمینی، سید روح اللہ، دیوان امام، ص ۱۰۶-۱۰۸۔
- ↑ سہروردی، ابو حفص عمر، عوارف المعارف، ص ۱۲۱؛ کاشانی، عز الدین محمود، مصباح الهدایه و مفتاح الکفایه، ص ۱۶۰ و ۱۷۱؛ زرکوب شیرازی، احمد بن ابی الخیر، الطرایق الحقایق، ج ۲، ص ۳۱۹۔
- ↑ کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، ج ۲، ص ۱۶۔
- ↑ امام خمینی، سید روح اللہ، آداب الصلاة، ص ۲۲۲؛ شرح چهل حدیث، ص ۳۹۴۔
- ↑ امام خمینی، سید روح اللہ، شرح حدیث جنود عقل و جهل، ص ۳۲۶؛ تقریرات فلسفه امامخمینی، ج ۳، ص ۴۴۵۔
- ↑ کاشانی، عز الدین محمود، مصباح الهدایه و مفتاح الکفایه، ص ۱۷۹؛ سجادی، ضیاء الدین، مقدمهای بر مبانی عرفان و تصوف، ص ۲۵۷-۲۶۲۔
- ↑ امام خمینی، سید روح اللہ، المکاسب المحرمه، ج ۱، ص ۳۰۱-۳۰۶؛ ۳۱۶-۳۱۸؛ تحریر الوسیله، ج ۱، ص ۴۳۷۔
- ↑ حجر: ۹۹۔
- ↑ جوادی آملی، عبد اللہ، تسنیم، ج ۱، ص ۴۳۱؛ دینشناسی، ص ۶۹ و ۲۴۸؛ روحانی نژاد، حسین، درآمدی بر مبادی و مبانی سلوک، ص ۲۳۷۔
- ↑ امام خمینی، سید روح اللہ، آداب الصلاة، ص ۸۰ و ۲۹۱؛ شرح حدیث جنود عقل و جهل، ص ۷۰۔
- ↑ امام خمینی، سید روح اللہ، سرّالصلاة، ص ۸۳؛ صاحبی، باقر، اوج معرفت، ص ۵۰-۵۱۔
مآخذ
- امام خمینی، سید روح اللہ، المکاسب المحرمه، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1385ش۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، آداب الصلاة، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1384ش۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، تحریر الوسیله، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1379ش۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، تقریرات فلسفه امامخمینی، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1385ش۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، دیوان امام، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1374ش۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، سرّالصلاة، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1378ش۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، شرح چهل حدیث، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1388ش۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، شرح حدیث جنود عقل و جهل، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1387ش۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، صحیفه امام، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1389ش۔
- امینی نژاد، علی، آشنایی با مجموعه عرفان اسلامی، قم، انتشارات مؤسسہ آموزشی پژوہشی امام خمینی، 1390ش۔
- آملی، سید حیدر، جامع الاسرار و منبع الانوار، تصحیح: ہنری کوربن، تہران، انجمن ایران شناسی فرانسہ و شرکت انتشارات علمی و فرہنگی، 1368ش۔
- باخزری، یحیی، اوراد الأحباب و فصوص الآداب، تہران، انتشارات دانشگاہ تہران، 1345ش۔
- بکری، ابو القاسم، انوار فی علم اسرار و مقامات الابرار، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1421ھ۔
- جوادی آملی، عبد اللہ، دینشناسی، قم، نشر اسراء، 1382ش۔
- جوادی آملی، عبد اللہ، تسنیم، قم، نشر اسراء، 1384ش۔
- روحانی نژاد، حسین، درآمدی بر مبادی و مبانی سلوک، تہران، فرہنگ اندیشہ، 1396ش۔
- روحانی نژاد، حسین، مواجید عرفانی، تہران، فرہنگ و اندیشہ، 1394ش۔
- روحانی نژاد، حسین، نقد عرفانهای صوفیانه، تہران، فرہنگ و اندیشہ، 1396ش۔
- زرکوب شیرازی، احمد بن ابی الخیر، الطرایق الحقایق، انتشارات احمدی و معرفت، بغیر مقام، 1310ش۔
- سجادی، ضیاء الدین، مقدمهای بر مبانی عرفان و تصوف، تہران، نشر سمت، 1372ش۔
- سلمی، عبد الرحمان، طبقات الصوفیه، تحقیق: عبد القادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1424ھ۔
- سہروردی، ابو حفص عمر بن محمد بن عبد اللہ، عوارف المعارف، تصحیح: خالدی، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1426ھ۔
- صاحبی، باقر، اوج معرفت، تہران، نشر عروج، 1398ش۔
- عرب، علی رضا، تصوف و عرفان از دیدگاه علمای متأخر شیعه، مشہد، نشر ضامن آہو، 1388ش۔
- فرشبافیان، احمد، بررسی مضامین مشترک عرفانی اشعار امامخمینی و حافظ، تہران، 1374ش۔
- قشیری، ابو القاسم، رساله قشیریه، تصحیح: بدیع الزمان فروزانفر، تہران، شرکت انتشارات علمی و فرہنگی، 1379ش۔
- کاشانی، عز الدین محمود، مصباح الهدایه و مفتاح الکفایه، تصحیح: ہمائی، تہران، نشر ہما، 1376ش۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1365ش۔
- مطہری، مرتضی، مجموعه آثار، تہران، نشر صدرا، 1389ش۔
- ہجویری، علی بن عثمان، کشف المحجوب، تہران، نشر طہوری، 1376ش۔