مندرجات کا رخ کریں

تنقیح‌الاصول (کتاب)

وکی امام خمینی سے

تنقیح الأصول، امام خمینی کے حوزہ علمیہ قم میں دیے گئے درسِ اصولِ فقہ کے ایک مکمل دورے کی تقریرات کا مجموعہ ہے جو عربی زبان میں ہے، جسے حسین تقوی اشتهاردی نے تحریر کیا ہے۔  

کتاب کی اہمیت

کتاب "تنقیح الأصول" علمِ اصولِ فقہ میں امام خمینی کے درس کے ایک مکمل دورے کی تقریر ہے جو آپ کے [[تدریس امام‌خمینی|درس]] کے دوسرے دور میں پیش کیا گیا۔ یہ کتاب آپ کے درس کی سب سے مکمل تقریرات میں سے ہے، جس کا قلم رواں اور دقیق ہے۔[1] حوزہ علمیہ کے طلاب اس کتاب کے ذریعے نہ صرف امام خمینی کے اصولی نظریات سے آشنا ہوتے ہیں، بلکہ کتاب "کفایة الاصول"، "نھایۃ الاصول"، "مقالات الاصول" اور "بدائع الافکار" کے حوالوں کے ساتھ دیگر علماء کے نظریات سے بھی آگاہی حاصل کرتے ہیں۔[2]  

مصنف (مقرر)

حسین تقوی اشتهاردی، ایک روحانی اور امام خمینی کے درسِ خارجِ فقہ و اصول کے شاگردوں میں سے ہیں۔ آپ 1331ش سے مسجد سلماسی میں امام خمینی کے درسِ خارجِ اصول کے دوسرے دور میں شامل ہوئے اور 1341ش تک ان دروس سے استفادہ کرتے رہے۔[3] آپ نے اس درس کو چار جلدوں میں مرتب کیا جسے [[مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام‌خمینی]] نے "تنقیح الأصول" کے نام سے شائع کیا ہے۔ تقوی اشتهاردی امام خمینی کے درس میں اپنی دس سالہ حاضری کو سب سے بڑی نعمت الهی مانتے تھے۔[4]  

ساختار

کتاب تنقیح الأصول میں امام خمینی کی طرف سے اصولی مباحث کا خاکہ منظم انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ دوسری طرف، شیعہ اصولیوں کے نظریات کے جائزے میں شیخ انصاری، آخوند خراسانی اور میرزا نائینی کے نظریات پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔[5]کتاب کی ہر جلد کے آخر میں اس میں بیان کردہ موضوعات کی تفصیلی فہرست دی گئی ہے۔ ناشر کا مقدمہ پہلی جلد کے شروع میں درج ہے۔[6]  

مشمولات کا خلاصہ

یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے، جس کے مطالب فہرست میں ترتیب وار امر (12 امر)، مطلب (چھ مطلب) اور ان کے ذیلی فصول میں تقسیم کیے گئے ہیں:   جلد 1: اصولِ فقہ کے مقدماتی مباحث، بشمول مقدمہ اور 12 امور جیسے علمِ اصول کی تعریف اور اس کی ضرورت، علوم کا آپس میں امتیاز اور اسلامی علوم کے مجموعے میں علمِ اصول کا مقام، "وضع" کی بحث اور الفاظ کے استعمال کے قواعد، علمِ اصول کا موضوع، استنباط کے مقدمات وغیرہ؛[7]   جلد 2: مباحثِ الفاظ کا تسلسل، بشمول اوامر میں پہلے مطلب کا تکمیلی حصہ اور نواہی، منطوق و مفہوم، عام و خاص اور مطلق و مقید کے موضوع پر چار مزید مطالب؛[8]   جلد 3: چھٹا مطلب یعنی معتبر شرعی و عقلی امارات پر مشتمل ہے، جس میں اصولِ عملیہ کے موضوعات جیسے قطع، ظن، برائت اور اشتغال کے تین ابواب شامل ہیں۔[9]   جلد 4: استصحاب، تعارض و اختلافِ ادلہ اور آخر میں اجتهاد و تقلید کے مباحث کا احاطہ کرتی ہے۔[10]   کتاب کی چوتھی جلد کو زیادہ توجہ حاصل ہوئی ہے۔ اس جلد میں بیان کردہ مباحث اور موضوعات کسی حد تک اس موضوع کے روایتی مباحث سے مطابقت نہیں رکھتے اور امام خمینی نے سیاست و حکومت کی طرف توجہ کے پیشِ نظر، ایک فصل ولی فقیه کے شؤون و اختیارات اور دوسرے مجتہدین کے ساتھ ان کے تعلق کے لیے مختص کی ہے اور ولایت فقیہ کے سیاسی پہلوؤں کو اجتہاد و مرجعیت کے فقہی پہلوؤں کے ساتھ ایک مربوط تعلق میں پیش کیا ہے۔[11]  

اشاعت کی صورتحال

کتاب تنقیح الأصول عربی زبان میں پہلی بار بتدریج 1376ش میں مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام‌خمینی کی کوششوں سے چار جلدوں میں وزیری سائز میں شائع ہوئی۔ نیز اس انسٹی ٹیوٹ نے اس کتاب کو 1380ش اور 1385ش میں بھی شائع کیا ہے۔ پہلے ایڈیشن میں کتاب کی تعداد 3000 نسخے اور 1385ش کے ایڈیشن میں 2000 نسخے تھی۔ اگرچہ ان تمام ادوار کا ناشر "مؤسسه نشر آثار امام‌خمینی" ہے، لیکن 1375ش اور 1380ش کے ایڈیشن کی شناخت میں، دونوں کو پہلا ایڈیشن درج کیا گیا ہے، اور 1385ش کا سال، دوسرا ایڈیشن ہے۔ کتاب کی پہلی جلد 320 صفحات، دوسری 466، تیسری 658 اور چوتھی جلد 724 صفحات پر مشتمل ہے۔[12]  

حوالہ جات

  1. تنقیح الاصول (ج. ۱): تقریر ابحاث روح‏ الله الموسوی الامام الخمینی (س)
  2. تنقیح الأصول، اشاعتِ عروج کی ویب سائٹ۔
  3. التقوی الاشتهاردی، تنقیح الأصول، ص6؛ محمدی اشتهاردی، «حاج شیخ حسین تقوی اشتهاردی، محقق وارسته»، ص58-59۔
  4. محمدی اشتهاردی، «حاج شیخ حسین تقوی اشتهاردی، محقق وارسته»، ص58-60؛ التقوی الاشتهاردی، تنقیح الأصول، ص7۔
  5. ملاحظہ کریں: اشتهاردی، تنقیح الأصول۔
  6. ملاحظہ کریں: اشتهاردی، تنقیح الأصول۔
  7. ملاحظہ کریں: اشتهاردی، تنقیح الأصول، ج1۔
  8. ملاحظہ کریں: اشتهاردی، تنقیح الأصول، ج2۔
  9. ملاحظہ کریں: اشتهاردی، تنقیح الأصول، ج3۔
  10. ملاحظہ کریں: اشتهاردی، تنقیح الأصول، ج4۔
  11. اشتهاردی، تنقیح الأصول، ج4، ص585۔
  12. تنقیح الأصول، نیٹ ورک جامع کتاب، گیسوم؛ لائبریری میں موجود کتابوں کی شناخت۔

مآخذ