مندرجات کا رخ کریں

توحید صفاتی

وکی امام خمینی سے

توحیدِ صفاتی، صفات کا ذاتِ حق کے ساتھ عینیت (ایک ہونا) ہے۔  

توحیدِ صفاتی کی اہمیت و مقام

علمِ کلام اور فلسفے کی اصطلاح میں توحیدِ صفاتی کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی صفات اس کی ذات کے عین (مطابق) ہیں اور خارج میں ذات اور صفات ایک ہی وجود کے ساتھ موجود ہیں۔[1]   ذاتِ حق تعالیٰ کے ساتھ صفات کی عینیت پر بحث ایک کلامی، فلسفی اور عرفانی بحث شمار ہوتی ہے جس میں ہر گروہ نے الگ الگ نظریہ پیش کیا ہے۔ معتزلہ اور بعض حکما ذات سے صفات کی نفی کے قائل ہوئے ہیں جس کا نتیجہ خدا کی صفات کو سمجھنے سے عقلوں کا معطل ہو جانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کے برعکس اشاعرہ صفاتِ کثیرہ (متعدد صفات) اور ذات سے زائد ہونے کے قائل ہوئے ہیں۔[2]   امامیہ متکلمین اور بعض حکماءِ الہی کا عقیدہ ہے کہ واجب تعالیٰ کی صفات اس کی ذات کے عین ہیں اور اسی عقیدے کو توحیدِ صفاتی کہا گیا ہے۔[3] [[امام خمینی]] نے بھی امامیہ متکلمین اور حکماءِ الہی کے ہم آہنگ صفاتِ الہی کے بارے میں توحیدِ صفاتی اور اس بات پر کہ الہی صفات عالمِ واقع اور خارج میں ذاتِ حق کے عین ہیں، اپنی تالیفات میں بہت سے مطالب بیان کیے ہیں۔[4]  

صفاتِ الہی کے بارے میں اقوال

صفاتِ الہی اور ذاتِ حق کے ساتھ ان کے تعلق کے بارے میں متکلمین اور حکماءِ الہی کے درمیان اختلاف ہے اور اس سلسلے میں مختلف اقوال پیش کیے گئے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:  

اشاعرہ کا قول

اسلامی متکلمین کا یہ گروہ صفاتِ الہی کو قدیم اور ذات سے زائد مانتا ہے جو ازل سے ذات پر عارض ہوئے ہیں اور اس میں حلول کیے ہوئے ہیں۔ اشاعرہ اس بارے میں دو دعوے رکھتے ہیں: اول، صفاتِ الہی کا قدیم ہونا؛ اشاعرہ کے نزدیک صفات کے قدیم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ خدا ہمیشہ اپنی صفات سے متصف ہے اور اس بات کا لازمہ یہ ہے کہ اگر خدا کسی کمالی صفت کے ساتھ نہ ہو، تو ناگزیر اس کی ضد کے ساتھ متصف ہوگا۔ دوم، ذاتِ الہی پر صفات کی زیادتی؛ یعنی مثال کے طور پر خدا کے عالم ہونے کی تعبیر اس علم سے کی ہے جو ذات سے زائد ہے۔[5] [[فخر رازی]] نے ذاتِ خدا پر اس کی صفات کے زائد ہونے پر آٹھ دلیلیں قائم کی ہیں اور اس کا عقیدہ ہے کہ اگر صفتِ علم، واجب تعالیٰ کی ذات کے عین ہو، تو علم کے نقص سے وجود بھی لازم آئے گا، جبکہ ایسا نہیں ہے اور صفات میں سے کسی ایک کے نقص سے ذات نقص پذیر نہیں ہوتی۔[6]  

معتزلہ کا قول

اسلامی متکلمین کا یہ گروہ صفاتِ الہی کے معاملے میں "نیابت" کا قائل ہے؛ یعنی ذاتِ واجب تعالیٰ صفات کا نائب ہے اور جو بھی اثرات غیرِ واجب الوجود پر صفات کے ذریعے مترتب ہوتے ہیں، وہی اثرات بغیر کسی واسطے کے ذاتِ واجب تعالیٰ پر بھی مترتب ہوتے ہیں۔[7] یہ نظریہ دو دعووں کا مجموعہ ہے؛ ایک خدا سے صفات کی نفی کرنا اور دوسرا ذات کا صفات سے نائب ہونے کا قول؛ یعنی اگرچہ خدا کے لیے صفت کے وجود کی نفی کرتے ہیں، لیکن صفات کے اثرات کو ذات کے لیے محفوظ مانتے ہیں، یعنی ذاتِ الہی ان تمام توقعات کو تنہا پورا کر سکتی ہے جو صفات امکانی موجودات میں انجام دیتی ہیں۔[8]  

امامیہ اور حکماءِ الہی کا قول

یہ گروہ مانتا ہے کہ صفاتِ الہی ذات سے زائد نہیں ہیں، بلکہ اس کی ذات کے عین ہیں۔[9] امام خمینی بھی اشاعرہ اور معتزلہ کے قول کو رد کرتے ہوئے اس بات کے قائل ہیں کہ دونوں گروہوں نے افراط و تفریط کی راہ اپنائی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ خدا کی صفات لفظ اور مفہوم کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لیکن مصداق کے اعتبار سے ہر ایک دوسرے کے عین ہے اور سب ذات کے عین ہیں۔[10] امام خمینی کے عقیدے کے مطابق توحیدِ صفاتی میں نزاع کی جگہ، باری تعالیٰ کی صفات کی تمام اقسام نہیں ہیں؛ کیونکہ صفات سلبی یقیناً واجب تعالیٰ کی ذات کے عین نہیں ہو سکتے؛ کیونکہ اگر کوئی عدمی یا سلبی مفہوم اس کی ذات کا حصہ ہو، تو ذاتِ حق میں عدمی جہت لازم آئے گی، لہذا عینیت صفاتِ ثبوتی کی قسم میں ہے۔[11]   امام خمینی نے دو دلائل بیان کر کے، پہلے خدا کے لیے صفات کو ثابت کیا ہے، پھر اس کی عینیت کو ثابت کیا ہے:

  • دلیل اول: کمالات کی نسبت صرفِ وجود کی

جامعیت؛ وجود میں صرفیت کا لازمہ یہ ہے کہ وہ ہر کمال اور جمال کا حامل ہو اور کوئی بھی کمالی حیثیت اس سے باہر نہ ہو۔

  • دلیل دوم: کمال و جمال کی صفات کا حقیقتِ

وجود کی طرف پلٹنا؛ ہر کمال اور جمال خارج کے اعتبار سے وجود کی طرف پلٹتا ہے اور اسی سے نشأت پاتا ہے؛ کیونکہ یہ فرض کیا گیا ہے کہ ہر کمال اور جمال، تحقق رکھتا ہے اور اس بنیاد پر اگر ہر کمال اور جمال وجود کی طرف نہ پلٹے تو ایسے مفاسد کا مستلزم ہوگا جو ایک دوسرے کے لیے زمینہ ساز ہیں اور بالآخر وجودِ واجب کے امکان کا موجب بنتے ہیں۔ یہ لوازم عبارت ہیں: تحقق کے مقام میں اصولِ متعدد، ذاتِ الہی میں ترکیب اور واجب الوجود میں امکان کا راہ پانا۔ لہذا ان مقدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے، خدا کی ذات کے ساتھ صفات کی عینیت کا نظریہ ثابت ہوتا ہے۔[12]  

حوالہ جات

  1. ملاصدرا، مفاتیح الغیب، ص332-334؛ الحکمة المتعالیه، ج6، ص145؛ مطهری، مجموعه آثار، ج2، ص101۔
  2. شهرستانی، الملل والنحل، ج1، ص104 اور 164؛ رازی، تبصرة العوام، ص109؛ اشعری، اللمع فی الرد علی اهل الزیغ والبدع، ص31 اور 27؛ مقالات الاسلامین، ص165-166 اور 298۔
  3. لاهیجی، گوهر مراد، ص241؛ ملاصدرا، الحکمة المتعالیه، ج2، ص315-317، مفاتیح الغیب، ص333-334۔
  4. امام‌خمینی، الطلب والاراده، ص12-13؛ شرح چهل حدیث، ص609؛ تقریرات فلسفه، ج2، ص117 اور 127۔
  5. اشعری، اللمع فی الرد علی اهل الزیع والبدع، ص26-31۔
  6. فخر رازی، المطالب العالیه، ج3، ص143؛ جرجانی، شرح المواقف، ج8، ص44-45؛ تفتازانی، شرح المقاصد، ج3، ص52؛ صاحبی، حکمت معنوی، ص419۔
  7. جامی، الدرة الفاخرة، ص167؛ اشعری، مقالات الاسلامیین، ص165-166؛ فخر رازی، المطالب العالیه، ج3، ص228-230؛ صاحبی، حکمت معنوی، ص417-419۔
  8. شهرستانی، الملل والنحل، ج1، ص57 اور 64؛ حلی، کشف المراد، ص296؛ سبزواری، اسرار الحکم، ص123۔
  9. لاهیجی، گوهر مراد، ص241؛ جامی، الدرة الفاخرة، ص168؛ ابن‌سینا، الالهیات الشفاء، ص394۔
  10. امام‌خمینی، الطلب و اراده، ص12-13؛ شرح چهل حدیث، ص609؛ تقریرات فلسفه، ج2، ص127۔
  11. امام‌خمینی، تقریرات فلسفه، ج2، ص117 اور 121-122؛ صاحبی، حکمت معنوی، ص423-424۔
  12. امام‌خمینی، الطلب والاراده، ص12-13، شرح چهل حدیث، ص416 اور 606-607؛ صاحبی، حکمت معنوی، ص426-430۔

مآخذ

  • ابن‌سینا، حسین‌بن عبدالله، الهیات الشفاء، قم، مکتبة المرعشی، 1404ق۔
  • اشعری، ابوالحسن، اللمع فی الرد علی اهل الزیع والبدع، قاہرہ، المکتبة الازهریة، بغیرتاریخ۔
  • اشعری، ابوالحسن، مقالات الاسلامیین، بیروت، المکتبة العصریة، 1419ق۔
  • امام‌خمینی، سیدروح‌الله، الطلب والاراده، تہران، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام‌خمینی، 1421ق۔
  • امام‌خمینی، سیدروح‌الله، تقریرات فلسفه امام‌خمینی، تہران، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام‌خمینی، 1385ش۔
  • امام‌خمینی، سیدروح‌الله، شرح چهل حدیث، تہران، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام‌خمینی، 1388ش۔
  • تفتازانی، سعدالدین، شرح المقاصد، قم، شریف رضی، 1409ق۔
  • جامی، عبدالرحمن، الدرّة الفاخرة، تہران، نشر دانشگاه تہران، 1382ش۔
  • جرجانی، سیدشریف، شرح المواقف، قم، شریف رضی، 1325ق۔
  • رازی، محمدبن‌حسین، تبصرة العوام، تہران، نشر اساطیر، 1364ش۔
  • سبزواری، ملاهادی، اسرار الحکم، قم، مطبوعات دینی، 1383ش۔
  • شهرستانی، عبدالکریم، الملل و النحل، قم، شریف رضی، 1364ش۔
  • صاحبی، باقر، حکمت معنوی، تہران، نشر عروج، 1401ش۔
  • علامه حلّی، کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد، قم، نشر اسلامی، 1419ق۔
  • فخر رازی، محمدبن‌عمر، المطالب العالیه، بیروت، دار الکتاب العربی، 1407ق۔
  • لاهیجی، عبدالرزاق، گوهر مراد، تہران، نشر سایہ، 1383ش۔
  • مطهری، مرتضی، مجموعه آثار، تہران، نشر صدرا، 1389ش۔
  • ملاصدرا، محمدبن‌ابراهیم، الحکمة المتعالیه فی الاسفار العقلیة الاربعه، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1981م۔
  • ملاصدرا، محمدبن‌ابراهیم، مفاتیح الغیب، تصحیح خواجوی، تہران، مؤسسه تحقیقات فرهنگی، 1363ش۔