دینی اقلیتیں
دینی اقلیتیں، جمہوری اسلامی ایران میں دیگر آسمانی ادیان کے پیروکاروں کو کہا جاتا ہے۔
دینی اقلیت سے مراد کسی معاشرے کے عام لوگوں کے مذہب سے ہٹ کر کسی دوسرے دین یا مذہب کا پیروکار ہونا ہے۔ اسلامی فقہ میں، دینی اقلیتوں کو «اہل ذمہ» یا «ذمی» کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔ دینی اقلیتوں کو معاشرے میں کچھ حقوق حاصل ہیں، جن پر اسلام اور بین الاقوامی قوانین دونوں میں توجہ دی گئی ہے۔
ایران میں، فقہی تعلیمات اور قانونی متون کی بنیاد پر، صرف انہی دینی اقلیتوں کو تسلیم کیا گیا ہے جن کا ذکر اسلامی جمہوریہ کے آئین کے آرٹیکل 13 اور 64 میں کیا گیا ہے (یعنی زرتشتی، یہودی اور عیسائی)۔
امام خمینی اسلام کو دینی اقلیتوں کے حقوق کا محافظ سمجھتے تھے اور ان کا ماننا تھا کہ یہ گروہ اسلامی حکومت کی پناہ میں ہے اور ان پر بھی مسلمانوں کی طرح اسلام کے احکام نافذ ہوں گے اور ان کی جان و مال محترم ہیں؛ البتہ شرط یہ ہے کہ وہ اسلامی معاشرے کے قوانین کو تسلیم کریں۔ آپ نے دینی اقلیتوں کے سماجی احکام کے ساتھ ساتھ، ایک فقیہ کی حیثیت سے، اہل کتاب سے متعلق احکام اور مسائل کو بھی تفصیل سے بیان کیا ہے۔
مفہوم شناسی
دینی یا مذہبی اقلیت کسی ملک یا شہر کے لوگوں کے اس چھوٹے گروہ کو کہا جاتا ہے جو اسی ملک یا شہر کے عام لوگوں کے مذہب سے مختلف کسی اور دین یا مذہب کے پیروکار ہوں،[1] چونکہ ایران کی قاطع اکثریت اسلام کی پیروکار اور مسلمان ہے، اس لئے ایران میں دیگر آسمانی ادیان کے پیروکار دینی اقلیت شمار ہوتے ہیں۔ عملی لحاظ سے یہ اصطلاح عموماً مذہبی اقلیتوں کے مقابلے میں استعمال ہوتی ہے جس سے مراد دیگر اسلامی مذاہب کی اقلیتیں ہیں۔ امام خمینی بھی اقلیت کا لفظ صرف مسلمانوں کے مقابلے میں دینی اقلیتوں کے معنی میں تسلیم کرتے تھے اور کردوں، بلوچوں اور دیگر قوموں اور گروہوں کے لئے اس کے استعمال کو مسلمان بھائیوں کے درمیان تفریق کا باعث سمجھتے ہوئے اسے مسترد کرتے تھے۔[2]سانچہ:مزید دیکھیں
اسلامی فقہ میں، دینی اقلیتوں کو «اہل ذمہ» یا «ذمی» کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔[3] ذمہ کے لغوی معنی عہد، پیمان، ضمانت، کفالت، امان اور پناہ کے ہیں[4] اور اہل ذمہ اہل کتاب کے اس گروہ کو کہا جاتا ہے جو حاکم اسلامی کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی بدولت اسلامی حکومت کی پناہ میں، آزادی سے اور اپنے مذہبی قانون کے مطابق زندگی گزارنے کے مجاز ہیں اور حکومت کے حوالے سے باہمی حقوق و فرائض رکھتے ہیں۔[5]
پس منظر
قرآن کریم میں، تورات اور انجیل کا آسمانی کتابوں کے طور پر ذکر ہوا ہے[6] اور دو مذہبی گروہوں صابئین اور مجوسیوں (زرتشتیوں) کا نام بھی یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ آیا ہے،[7] تاہم ان کے اہل کتاب ہونے کی صراحت نہیں کی گئی ہے،[8] اس کے باوجود، اہل بیت(ع) کی بعض روایات کے مطابق،[9] زرتشتیوں کو اہل کتاب کے ساتھ ملحق کیا گیا ہے اور ان پر اہل کتاب کے احکام جاری ہوتے ہیں،[10] سانچہ:مزید دیکھیں لیکن صابئین کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں: بعض انہیں ادیان الہی میں سے کسی ایک کا پیروکار مانتے ہیں[11] اور بعض کا نظریہ ہے کہ صابئین کا مذہب زرتشتی، یہودی اور حرانی عقائد کا مرکب ہے[12] نیز ایک روایت میں انہیں بت پرست اور ستارہ پرست کے طور پر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔[13]
یہ لوگ بھی دیگر اقلیتوں کی طرح ہماری قوم کا حصہ ہیں، اور ہم اور وہ اس ملک میں ایک ساتھ زندگی گزاریں گے ان شاء اللہ؛ اور سب کی فلاح و بہبود یقینی بنائی جائے گی۔
صحیفہ امام، ج6، ص192۔
فقہا[14] بشمول امام خمینی[15] کا یہ ماننا ہے کہ عقدِ ذمہ صرف اہل کتاب (زرتشتیوں، یہودیوں اور عیسائیوں) کے ساتھ ہی طے پا سکتا ہے اور ان کے علاوہ مشرکین اور باطل فرقوں کے ساتھ منعقد نہیں ہو سکتا۔
بین الاقوامی قوانین میں بھی اقلیتوں کے حقوق پر توجہ دی گئی ہے؛ جیسا کہ 1992ء کی اقوام متحدہ کی اقلیتوں کے حقوق کی دستاویز اور دیگر عالمی دستاویزات میں اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کی ممانعت کی بات کی گئی ہے۔[16] اس کے باوجود بعض ممالک میں، جیسے سعودی عرب میں شیعیان کے مذہبی اور قانونی حقوق کی پامالی،[17] افغانستان کی معاصر تاریخ میں اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی،[18] حالیہ دہائیوں میں کرد اقلیت اور ترکیہ کی حکومت کے درمیان تصادم،[19] میانمار میں مسلمانوں کی نسل کشی[20] اور یورپ میں مسلمانوں کے بعض حقوق کی پامالی کے ذریعے،[21] اقلیتوں کے حقوق کو پامال کیا گیا ہے۔
ایران میں، اسلام کی فقہی تعلیمات اور قانونی متون کی رو سے، صرف انہی دینی اقلیتوں کو سرکاری طور پر تسلیم کیا گیا ہے جن کا ذکر اسلامی جمہوریہ کے آئین کے آرٹیکل 13 اور 64 میں کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے آئین کے آرٹیکل 13 کے تحت «زرتشتی»، «یہودی» جو ایران میں کلیمی کہلاتے ہیں اور «عیسائی» ملک کی باضابطہ دینی اقلیتیں شمار ہوتے ہیں۔[22]
امام خمینی نے ایک فقیہ اور دینی عالم کے طور پر، اہل کتاب سے متعلق احکام اور مسائل کو بیان کیا ہے۔ آپ نے اہل ذمہ کے فقہی احکام کو تفصیل سے بیان کرنے کے ساتھ ساتھ، اس مسئلے کی کلامی بحث کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور اہل کتاب میں سے ان افراد کی اخروی نجات کے امکان اور ان پر عذاب نہ ہونے کی بات کی ہے جو (حق کو پہچاننے میں) قصور وار نہیں ہیں۔[23][24] آپ ملک کی دینی اقلیتوں کے حقوق کا خصوصی خیال رکھتے تھے اور اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے ہی، ان کے احترام، حقوق کی پاسداری اور اسلامی حکومت کی طرف سے ان کے ساتھ حسن سلوک کا وعدہ کر چکے تھے،[25] جیسا کہ اسلامی نظام کے قیام کے بعد بھی، انہوں نے ہمیشہ دیگر ایرانی شہریوں کی طرح ان کے حقوق کے تحفظ، فلاح و بہبود، مفادات کی فراہمی اور ان کے ساتھ منصفانہ رویہ اپنانے پر تاکید کی۔[26]
دینی اقلیتوں نے امام خمینی کے مواقف اور نظریات کے پیش نظر اور انقلاب کے عمل کو مثبت نگاہ سے دیکھتے ہوئے، انقلابی عوام کے عظیم کارواں میں شمولیت اختیار کی[27] اور انقلاب کی کامیابی کے بعد، دینی اقلیتوں کے اکابرین، جن میں زرتشتی انجمن کے نمائندے، آرمینیائی خلیفہ گری کے نمائندے اور ایران کی کلیمی برادری کے ارکان شامل تھے، امام خمینی کی قیادت کی تائید اور تسلیم کے لئے ان سے ملاقات کے لئے گئے،[28] اسی طرح مسلط کردہ جنگ (ایران عراق جنگ) کے آغاز اور مقدس دفاع کے سالوں کے دوران، دینی اقلیتوں نے مختلف انداز میں، جیسے بیانات جاری کرکے اور محاذ جنگ پر حاضر ہو کر، قوم اور انقلاب کے ساتھ اپنی وابستگی کا ثبوت دیا اور ایران اور انقلاب کی خاطر متعدد جانیں قربان کیں اور ایثار کا مظاہرہ کیا۔[29][30]
دینی اقلیتوں کے حقوق اور فرائض
وہ مذہبی اقلیتیں جو صدر اسلام سے، اسلام کی فتح کے بعد، مسلمانوں کے درمیان موجود تھیں، وہ ان سازشی مشرکین یا بعض ان گروہوں سے مختلف ہیں جو سازشیں کرتے تھے اور انسانی نظام کو درہم برہم کرنا چاہتے تھے۔ ان مذہبی اقلیتوں کا اسلام میں مکمل احترام تھا۔
صحیفہ امام، ج7، ص289۔
دینی اقلیتیں، جیسا کہ امام خمینی نے یاد دہانی کرائی ہے، عقدِ ذمہ کے تحت اسلامی حکومت کی پناہ میں ہیں اور ان پر بھی مسلمانوں کی طرح اسلام کے احکام نافذ ہوتے ہیں اور ان کی جان و مال محترم ہیں۔[31] اسلام کی تعلیمات اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لزوم پر واضح طور پر تاکید کرتی ہیں، جیسے عقیدے کی آزادی کا حق، اظہارِ رائے کا حق، امن اور جان، مال اور عزت کے تحفظ کا حق، معاشرتی انصاف سے بہرہ مند ہونے کا حق، مالی و اقتصادی حقوق اور ذاتی و شہری حقوق۔ اس امر پر قرآنی آیات[32] اور معصومین(ع) کے قول و فعل میں بارہا توجہ اور تاکید کی گئی ہے۔[33][34]
مذکورہ حقوق کے مقابلے میں دینی اقلیتوں کی کچھ ذمہ داریاں اور فرائض بھی ہیں؛ جن میں سے ایک یہ ہے کہ انہیں مسلمانوں کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی پابندی کرنی چاہئے، اسلام کے قوانین کا احترام کرنا چاہئے اور اس معاشرے کے مالی حقوق (جزیہ) ادا کرنے چاہئیں جس میں وہ زندگی گزار رہے ہیں۔[35] تاہم، دینی حکومت اور انقلابی نظام میں اقلیتوں کے حقوق کی صورتحال اور ان کے ساتھ سلوک کا طریقہ ان اہم ترین مسائل اور سوالات میں سے تھا جو صحافیوں نے انقلاب کی دہلیز پر اور اس کی کامیابی کے بعد بارہا امام خمینی سے پوچھے۔[36] آپ نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ایسے سوالات اور شکوک و شبہات پهلوی حکومت اور غیر ملکیوں کے ذرائع ابلاغ کی جانب سے اسلام اور اسلامی حکومت کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کا نتیجہ ہیں جو انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے ہیں،[37] اس جانب اشارہ کیا کہ دینی اقلیتوں کے ساتھ پہلوی حکومت کا سلوک مسلمانوں کے ساتھ کئے جانے والے سلوک سے کچھ بہتر نہیں تھا اور وہ بھی ظلم و ستم کا شکار تھے اور ان کے حقوق اور آزادی کو بھی دیگر ایرانیوں کی طرح پامال کیا گیا تھا اور وہ بھی اس حکومت کے مخالف ہیں۔[38] آپ تاکید فرماتے تھے کہ اسلامی نظام میں، دینی اقلیتیں دیگر ایرانی شہریوں کی طرح لائق احترام[39] اور فلاح و بہبود کے ساتھ زندگی گزاریں گی[40] اور ان کے ساتھ انصاف اور قانون کے مطابق مساوی سلوک کیا جائے گا[41] اور ان کے تمام جائز حقوق فراہم کئے جائیں گے۔[42] چنانچہ آپ نے واضح کیا کہ اسلامی حکومت کے قیام کے بعد، ان ایرانی یہودیوں کو بھی ایران واپس آنے کی دعوت دی جائے گی جو اسرائیل چلے گئے ہیں،[43] نیز آپ نے زرتشتی ہم وطنوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کی طرف سے ملک اور اسلامی معاشرے کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور ان میں سے بہت سے لوگ شریف انسان ہیں۔[44]
امام خمینی کے عقیدے کے مطابق، دینی اقلیتوں کے حوالے سے اسلام کے قوانین دیگر تمام ادیان اور مکاتبِ فکر کی نسبت زیادہ ترقی یافتہ اور صف اول میں ہیں[45] اور یہ ہمیشہ اقلیتوں کے جائز حقوق کے محافظ ہیں،[46] اور انہوں نے اسلامی معاشرے میں ان کے احترام کی پاسداری،[47] اور اسلامی حکومت کے ہاتھوں ان کے حقوق کی فراہمی پر تاکید کی ہے۔[48] آپ کی نگاہ میں، چونکہ اقلیتیں اسلام اور مسلمانوں کی پناہ میں ہیں، اس لئے ان پر کسی قسم کی زیادتی نہیں ہونی چاہئے۔[49] آپ نے اس سلسلے میں اور اسلامی حکومت میں اقلیتوں کے حقوق کی رعایت کی ایک واضح مثال کے طور پر، بارہا امام علی(ع) کی حکومت میں ایک یہودی عورت کے پاؤں سے پازیب اتارے جانے کے واقعے اور اس پر امامؑ کے شدید دفاعی ردعمل کی طرف اشارہ کیا ہے۔[50]
امام خمینی، بنیادی اور ابتدائی حقوق کی فراہمی میں مسلمان ایرانیوں اور ایرانی دینی اقلیتوں کے درمیان کسی قسم کی تفریق اور امتیاز کے قائل نہیں تھے[51] اور اقلیتوں کی آزادی کے بارے میں آپ کا ماننا تھا کہ اسلام نے کسی بھی دوسرے دین اور مسلک سے زیادہ دینی اقلیتوں کو آزادی دی ہے[52] اور انہیں اظہار رائے اور اپنے شعائر، مذہبی اور سماجی رسومات کی ادائیگی میں آزاد قرار دیا ہے[53] اور اسلامی حکومت بھی ان کے حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کی پابند ہے۔[54] البتہ امام خمینی، ان کی آزادی کو اس شرط کے ساتھ مشروط سمجھتے تھے کہ وہ کسی سازش اور تخریب کاری کا باعث نہ بنے، اسلام کے احکام اور آئین کی خلاف ورزی نہ کرے اور قوم و ملک کے لئے نقصان دہ نہ ہو۔[55]
امام خمینی دینی اقلیتوں کے سیاسی حقوق کو بھی مدنظر رکھتے تھے؛ اسی لئے عبوری حکومت کے وزیر اعظم کو آئین کی تدوین اور منظوری کے حوالے سے جاری کردہ اپنے حکم نامے میں اس بات کی صراحت کی کہ دینی اقلیتوں کے نمائندے بھی آئین ساز اسمبلی میں موجود ہونے چاہئیں۔[56] آپ نے بارہا اقلیتوں کے اس حق پر بھی تاکید کی کہ وہ پارلیمنٹ کے لئے اپنا نمائندہ منتخب کریں۔[57] آپ دینی اقلیتوں کو سماجی میدانوں میں حاضر ہونے اور توحید کے پرچم تلے اتحاد اور یکجہتی برقرار رکھنے کی دعوت دیتے تھے[58] اور اپنے وصیت نامے میں بھی آپ نے انہیں یہ نصیحت کی ہے کہ وہ پہلوی دورِ حکومت سے عبرت حاصل کرتے ہوئے، ایسے نمائندے منتخب کریں جو اپنے مذہب اور اسلامی جمہوری نظام کے وفادار ہوں، بیرونی طاقتوں سے وابستہ نہ ہوں اور الحادی، انحرافی اور ملغوبہ نظریات کی طرف مائل نہ ہوں۔[59]
آئین میں مقام اور حقوق
یقیناً اسلامی حکومت میں مذہبی اقلیتوں کے لئے جگہ موجود ہے۔ اور اس وقت بھی ان کے نمائندے ہیں اور وہ پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔ ہم اسلامی حکومت میں بھی ان کے لئے اس حق کو تسلیم کرتے ہیں۔
صحیفہ امام، ج5، ص141۔
اسلامی جمہوریہ ایران کا آئین جو امام خمینی کی رہنمائی کی بنیاد پر مدون ہوا اور جسے آپ کی تائید حاصل ہوئی، دینی اقلیتوں کے حقوق پر صراحت کے ساتھ تاکید کرتا ہے۔ اس میں دینی اقلیتوں کے وجود اور شناخت کو تسلیم کرنا، نیز امتیازی سلوک کی ممانعت اور بنیادی حقوق اور آزادیوں کی فراہمی میں مساوات جیسے امور شامل ہیں۔
آئین کے آرٹیکل 12 اور 13 نے ملک کا سرکاری دین اسلام اور اثنا عشری جعفری مذہب قرار دیا ہے؛ اور آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت اسلامی جمہوریہ کی حکومت اور مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ غیر مسلموں کے ساتھ حسن اخلاق، اسلامی عدل و انصاف کی بنیاد پر سلوک کریں اور ان کے انسانی حقوق کا خیال رکھیں۔
آئین میں اقلیتوں کے لئے تسلیم شدہ سب سے اہم حقوق میں سے ایک، دیگر ایرانیوں کے ساتھ ان کے حقوق کی برابری ہے جس کا ذکر آئین کے تیسرے باب میں کیا گیا ہے جو کہ «قوم کے حقوق» سے مختص ہے۔ آئین کے بیشتر آرٹیکلز جیسے آرٹیکل 19 اور 20 میں، «ایران کے عوام»، «قوم کے تمام افراد» اور «ہر ایرانی فرد» جیسی عبارات استعمال ہوئی ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بنیادی حقوق اور آزادیاں نسلی، قومی، لسانی اور مذہبی وابستگیوں کی پرواہ کئے بغیر، ایران کے تمام شہریوں اور عوام کے لئے مدنظر رکھی گئی ہیں۔
آئین کے آرٹیکل 13 کے مطابق، دینی اقلیتیں اپنے دینی عقائد کی پابندی اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے شعائر اور مذہبی رسومات کی ادائیگی میں آزاد ہیں؛ اسی طرح ذاتی اور عائلی قوانین کے حوالے سے، جیسے نکاح، طلاق، وراثت، وصیت اور مذہبی تعلیمات کے معاملے میں وہ اپنے مذہب کے مطابق عمل کر سکتے ہیں اور آئین کے آرٹیکل 26 کی رو سے، وہ سماجی اور سیاسی حقوق، جیسے سیاسی جماعتیں، تنظیمیں اور انجمنیں بنانے کے حق سے بھی بہرہ مند ہیں۔ دوسری جانب، آئین کے بعض آرٹیکلز، جیسے آرٹیکل 3 جو عوامی شرکت پر، آرٹیکل 6 جو عوام کی آراء پر انحصار کرتے ہوئے ملکی امور چلانے پر، اور آرٹیکل 19 اور 20 جو قوم کے تمام افراد کی مساوات پر زور دیتے ہیں، کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اقلیتوں کو بھی دیگر ایرانی عوام کی طرح ملک کے عہدیداروں کے انتخاب میں سیاسی شرکت کا حق حاصل ہے۔ آئین نے اقلیتوں کے لئے اسلامی مشاورتی اسمبلی (پارلیمنٹ) کا نمائندہ منتخب کرنے کا حق تسلیم کیا ہے، اور آئین کے آرٹیکل 164 میں بھی زرتشتیوں اور کلیمیوں میں سے ہر ایک کے لئے ایک نمائندہ، آشوری اور کلدانی عیسائیوں کے لئے مجموعی طور پر ایک نمائندہ اور شمال اور جنوب کے آرمینیائی عیسائیوں میں سے ہر ایک کے لئے ایک نمائندہ مقرر کیا گیا ہے اور آئین کے آرٹیکل 67 کی رو سے، ان کی آسمانی کتاب کا احترام کرتے ہوئے، اقلیتوں کے نمائندوں کے حلف برداری کی تقریب میں انہیں اپنی آسمانی کتاب پر حلف اٹھانے کا حق بھی دیا گیا ہے۔
حوالہ جات
- ↑ دہخدا، لغت نامہ دہخدا، 2/2679۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 11/290۔
- ↑ طوسی، المبسوط، 2/42؛ علامہ حلی، تذکرۃ الفقہاء، 9/275؛ نجفی، جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام، 21/227۔
- ↑ دہخدا، لغت نامہ دہخدا، 7/10129۔
- ↑ شریعتی، حقوق و وظایف غیر مسلمانان در جامعہ اسلامی، ص30۔
- ↑ آل عمران، 65؛ مائدہ، 68۔
- ↑ بقرہ، 62؛ مائدہ، 69؛ حج، 17۔
- ↑ طباطبائی، المیزان فی تفسیر القرآن، 3/306–308۔
- ↑ حر عاملی، تفصیل وسائل الشیعۃ الی تحصیل مسائل الشریعہ، 15/126۔
- ↑ طوسی، النہایہ، ص193؛ نجفی، جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام، 21/228؛ یزدی، شرح و تبیین قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران، ص173؛ شریعتی، حقوق و وظایف غیر مسلمانان در جامعہ اسلامی، ص32–33۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1/341–342۔
- ↑ طباطبائی، المیزان فی تفسیر القرآن، 1/196۔
- ↑ طباطبائی، المیزان فی تفسیر القرآن، 1/194۔
- ↑ طوسی، النہایہ، ص194؛ طوسی، المبسوط، 2/36؛ نجفی، جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام، 21/227۔
- ↑ امام خمینی، تحریر الوسیلہ، 2/472۔
- ↑ مناقبی، اقلیتها و نقض حقوق بشر در افغانستان، ص91۔
- ↑ فولر و فرانکہ، شیعیان عربستان سعودی، ص129۔
- ↑ مناقبی، اقلیتها و نقض حقوق بشر در افغانستان، ص92–112۔
- ↑ جمالی و خانی، اتحادیہ اروپا، ترکیہ و تحول در حقوق فرہنگی کردہای ترکیہ 2002–1991، ص9۔
- ↑ زرنی، ناسیونالیسم بودایی در میانمار: نسلکشی و نژادپرستی نہادینہ علیہ مسلمانان روہنگیا، ص125–126۔
- ↑ میر محمدی، عدم ممنوعیت حجاب اسلامی از منظر حقوق بینالملل اقلیتها، ص50–51۔
- ↑ ادارہ کل امور، صورت مشروح مذاکرات مجلس بررسی نہایی قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران، 1/493–495؛ یزدی، شرح و تبیین قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران، ص173۔
- ↑ امام خمینی، تحریر الوسیلہ، 2/472–482؛ امام خمینی، استفتائات، 3/127–128۔
- ↑ امام خمینی، مکاسب، 1/199–200۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 4/359، 363 اور 5/186، 261۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 6/192؛ 11/290 اور 13/103۔
- ↑ بوداغیانس، گل مریم: بررسی نقش ارامنہ ایران در ہشت سال دفاع مقدس، ص201–202۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 6/192، 258 اور 7/287۔
- ↑ جمہوری اسلامی، روزنامہ، ص3۔
- ↑ منصور نژاد، بررسی ریشههای ہمگرایی بین اہل کتاب با سایر ایرانیان در دفاع مقدس، ص93–105۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 18/304۔
- ↑ توبہ، 4–6؛ ممتحنہ، 8۔
- ↑ نہج البلاغہ، خط 53، ص453–456؛ نوری، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، 11/168۔
- ↑ عمید زنجانی، امام علی(ع)، و حقوق اقلیتها، ص50–68۔
- ↑ علامہ حلی، تذکرۃ الفقہاء، 9/317؛ نجفی، جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام، 21/265؛ امام خمینی، تحریر الوسیلہ، 2/476۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 4/3، 337، 441، 508 اور 5/141، 519–520۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 3/457؛ 4/425 اور 5/186، 260–261، 432۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 4/3، 425، 5/185، 401 اور 6/258۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 4/425؛ 5/313 اور 17/100۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 5/261؛ 11/282 اور 12/364۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 5/401؛ 6/192 اور 14/290۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 4/244؛ 5/292 اور 6/133۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 5/261۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 10/145۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 4/242۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 4/363–364 اور 5/188، 540۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 4/430؛ 5/186؛ 6/83، 177 اور 12/364۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 5/188؛ 7/150 اور 14/290۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 5/251 اور 7/291۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 4/426؛ 6/258؛ 12/39 اور 17/100۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 7/289؛ 11/290 اور 13/103۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 4/363۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 4/410–411؛ 5/292، 401، 520 اور 6/434۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 4/441، 508 اور 5/424۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 5/520، 261 اور 299۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 7/482۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 5/141، 292، 432 اور 6/434۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 6/192؛ 14/284 اور 17/98۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 21/421۔
مآخذ
- قرآن کریم۔
- ادارہ کل امور فرہنگی و روابط عمومی مجلس شورای اسلامی، صورت مشروح مذاکرات مجلس بررسی نہایی قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران، تہران، طبع اول، 1364ہجری شمسی۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، استفتائات، قم، دفتر انتشارات اسلامی، طبع اول، 1381ہجری شمسی۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، تحریر الوسیلہ، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، طبع اول، 1379ہجری شمسی۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، صحیفہ امام، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، طبع پنجم، 1389ہجری شمسی۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، المکاسب المحرمہ، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، طبع دوم، 1385ہجری شمسی۔
- بوداغیانس، آرمان، گل مریم: بررسی نقش ارامنہ ایران در ہشت سال دفاع مقدس، قم، نسیم حیات با ہمکاری صریر، طبع اول، 1385ہجری شمسی۔
- جمالی، حسین و حسین خانی، اتحادیہ اروپا، ترکیہ و تحول در حقوق فرہنگی کردہای ترکیہ 2002–1991، مجلہ پژوہشنامہ علوم سیاسی، شمارہ 14، 1388ہجری شمسی۔
- جمہوری اسلامی، روزنامہ، 14/7/1359ہجری شمسی۔
- حر عاملی، محمد بن حسن، تفصیل وسائل الشیعۃ الی تحصیل مسائل الشریعہ، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، طبع اول، 1409ھ۔
- حلی، علامہ، حسن بن یوسف، تذکرۃ الفقہاء، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، طبع اول، 1414ھ۔
- دہخدا، علی اکبر، لغت نامہ دہخدا، تہران، دانشگاہ تہران، طبع اول، 1373ہجری شمسی۔
- زرنی، ماونگ، ناسیونالیسم بودایی در میانمار: نسلکشی و نژادپرستی نہادینہ علیہ مسلمانان روہنگیا، ترجمہ: جواد طاہری، مجلہ سیاحت غرب، شمارہ 118–119، 1392ہجری شمسی۔
- شریعتی، روح اللہ، حقوق و وظایف غیر مسلمانان در جامعہ اسلامی، قم، بوستان کتاب، طبع اول، 1381ہجری شمسی۔
- طباطبائی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی، طبع پنجم، 1417ھ۔
- طوسی، محمد بن حسن، المبسوط فی فقہ الامامیہ، تحقیق: سید محمد تقی کشفی، تہران، مرتضوی، طبع سوم، 1387ھ۔
- طوسی، محمد بن حسن، النہایۃ فی مجرد الفقہ و الفتاوی، بیروت، دار الکتاب العربی، طبع دوم، 1400ھ۔
- عمید زنجانی، عباسعلی، امام علی(ع)، و حقوق اقلیتها، مجلہ کتاب نقد، شمارہ 18، 1380ہجری شمسی۔
- فولر، گراہم و رند رحیم فرانکہ، شیعیان عربستان سعودی، ترجمہ: خدیجہ تبریزی، مجلہ شیعہشناسی، شمارہ 8، 1383ہجری شمسی۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، طبع اکاون، 1386ہجری شمسی۔
- مناقبی، محمد تقی، اقلیتها و نقض حقوق بشر در افغانستان، مجلہ سفیر، شمارہ 12، 1388ہجری شمسی۔
- منصور نژاد، محمد، بررسی ریشههای ہمگرایی بین اہل کتاب با سایر ایرانیان در دفاع مقدس، مجلہ مطالعات ملی، شمارہ 22، 1384ہجری شمسی۔
- میر محمدی، سید مصطفی، عدم ممنوعیت حجاب اسلامی از منظر حقوق بینالملل اقلیتها، مجلہ مطالعات راہبردی زنان، شمارہ 37، 1386ہجری شمسی۔
- نجفی، محمد حسن، جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام، تحقیق: عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، طبع ہفتم، 1404ھ۔
- نوری، میرزا حسین، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، طبع اول، 1408ھ۔
- نہج البلاغہ، ترجمہ: سید جمال الدین دین پرور، تہران، بنیاد نہج البلاغہ، طبع اول، 1379ہجری شمسی۔
- یزدی، محمد، شرح و تبیین قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران، قم، نشر امام عصر(عج)، طبع اول، 1382ہجری شمسی۔
بیرونی روابط
- حسین احمدی منش، «دینی اقلیتیں»، دانشنامہ امام خمینی، ج2، ص169-173۔