مندرجات کا رخ کریں

مصباحُ الہدایۃ الی الخلافۃ والولایۃ (کتاب)

وکی امام خمینی سے

سانچہ:خانہ معلومات کتاب مصباحُ الہدایۃ الی الخلافۃ والولایۃ امام خمینی کی عرفان کے موضوع پر لکھی ایک کتاب ہے جو خلافتِ محمدیؐ اور ولایتِ علویؑ کی حقیقت کے بارے میں ہے۔ اس کتاب کو عربی زبان میں تحریر کیا گیا ہے۔

امام خمینی نے اس کتاب کی تدوین مارچ 1931ء میں، 28 برس کی عمر میں مکمل کی۔ امام خمینی کے مطابق اس کتاب کی تصنیف کا مقصد اہلِ سلوک و عرفان کے لیے خلافتِ محمدیہؐ کی حقیقت کی ایک جھلک اور ولایتِ علویہؑ کی حقیقت کی ایک کرن بیان کرنا ہے، تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ یہ دونوں حقائق وجود کے تمام مراحل میں کس طرح جلوہ گر ہوتے ہیں اور نزول و صعود کے مراتب میں ان کا ظہور و وجود کیسے ہوتا ہے۔

مصباح الہدایۃ درسی متن کی مانند نہایت مختصر، رواں، پختہ اور علمی مقام کی حامل کتاب ہے اور خلاصہ مگر گہرے علمی متون میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔

یہ کتاب ایک مقدمہ، مشکات کے عنوان سے دو حصوں اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے۔ پہلی مشکات میں مصباح کے نام سے 56 فصلیں جبکہ دوسری مشکات میں مصباح کے نام سے 3 فصلیں شامل ہیں۔ پہلا مصباح 21 نور، دوسرا مصباح 13 مطلع اور تیسرا مصباح 12 ومیض پر مشتمل ہے۔

امام خمینی نے کتاب کے "خاتمہ و وصیت" میں اس کتاب میں بیان کردہ عرفانی اسرار کی حفاظت پر زور دیا ہے، نااہل افراد کے سامنے ان اسرار کے افشا کرنے سے پرہیز کی تاکید کی ہے اور عرفانی مطالب کو سمجھنے کے لیے متألّہین (اہلِ حکمت و عرفان) کے آثار اور اقوال سے استفادہ کرنے کی سختی سے سفارش کی ہے۔

کتاب "مصباح الہدایۃ الی الخلافۃ والولایۃ" کا سید احمد فہری نے امام خمینی کی اجازت سے فارسی میں ترجمہ کیا، جسے پیام آزادی نامی پبلشرز نے سنہ 1982ء میں شائع کیا۔ بعد ازاں "مؤسسہ تنظیم و نشر آثارِ امام خمینی" نے اسے سنہ 1994ء میں سید جلال الدین آشتیانی کے مقدمے کے ساتھ 315 صفحات میں شائع کیا۔

یہ کتاب سنہ 2014ء میں "موسوعۃُ الامام خمینی" کی جلد نمبر 44 میں بھی شائع ہو چکی ہے۔

تفصیلی تعارف

امام خمینی نے 25 شوال 1349ھ کو، 28 برس کی عمر میں، "شرحِ دعائے سحر" اور "التعلیقۃ علی الفوائد الرضویۃ" کی تصنیف کے بعد اپنی تیسری عرفانی کتاب مصباحُ الہدایۃ کی نگارش مکمل کی۔[1] آپ نے اس کتاب کی تحریر کا مقصد اہلِ سلوک و عرفان کے لیے خلافتِ محمدیہؐ کی حقیقت کی ایک ابتدائی جھلک اور ولایتِ علویہؑ کی حقیقت کی ایک درخشاں کرن بیان کرنا قرار دیا، تاکہ وجود کے تمام مراحل میں ان دونوں حقائق کے جلوے، نیز نزول و صعود کے مراتب میں ان کے ظہور اور جاری ہونے کی کیفیت واضح ہو جائے۔ اسی کے ساتھ آپ کا ارادہ یہ بھی تھا کہ سلسلۂ نزول و صعود میں واقع وجودی دو قوس کے اُن اسرار سے پردہ اٹھائیں جو عالمِ ملکوت کے دائرے میں قرار پاتے ہیں۔[2]

اگرچہ امام خمینی کی اکثر عرفانی تصانیف میں عرفانی پیچیدہ مباحث اور نظریات کو نہایت رواں اور دلنشیں انداز میں بیان کرنے کی ان کی غیر معمولی صلاحیت واضح طور پر نظر آتی ہے، لیکن مصباح الہدایۃ کو درسی متن کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ کتاب اختصار، روانی، فکری پختگی اور علمی متون کی دشواری؛ سب کو یکجا کرتی ہے اور اسی وجہ سے ایک خاص اور ممتاز مقام رکھتی ہے۔ اس کی نثر مسجّع ہے؛ اکثر مقامات پر جملوں کے دونوں حصے ہم آہنگ اور ہم قافیہ الفاظ پر ختم ہوتے ہیں، جو مصنف کی ادبی و فکری مہارت کو اجاگر کرتے ہیں۔[3]

اس کتاب میں عبارت کی خوب صورتی، معنوی گہرائی اور فکری دقت ایک ساتھ جمع ہوگئی ہیں۔ خلافتِ محمدیؐ اور ولایتِ علویؑ کی حقیقت کو عرفانی ذوق کے ساتھ اس انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ وہ نہ صرف منظم و مرتب ہے بلکہ قرآنی آیات، روایات اور فلسفی دلائل کے مفہوم سے بھی مکمل ہم آہنگی رکھتی ہے۔ یہ امتیاز محی الدین ابن عربی کی عرفانی تصانیف میں؛ باوجود اس کے کہ وہ عرفانِ نظری کے نہایت دقیق اور پیچیدہ مباحث پیش کرتی ہیں؛ اس درجہ نمایاں نہیں ملتا۔ امام خمینی نے اُس عرفانی نگاہ کے ساتھ، جو صرف کامل عرفا ہی کو میسر ہوتی ہے،[4] وحدت سے کثرت کے ظہور کی کیفیت کو بیان کیا ہے، تاکہ یہ واضح کیا جاسکے کہ کس طرح غیبِ مطلق؛ جو خالص لا تعیّن ہے اور کسی بھی مظہر میں جلوہ گر نہیں ہوتا؛ سے اسماء اور صفات کا ظہور ہوتا ہے۔[5]

عمومی طور پر قدیم عرفانی متون میں یا تو مناسب نظم و ترتیب نہیں پائی جاتی ہے یا عرفانی مباحث کو کلامی، فلسفی اور تاریخی بحثوں کے ساتھ اس طرح خلط ملط کر دیتے ہیں کہ خلافت اور ولایت کے سلسلے میں ایک منظم اور مربوط عرفانی تصور اخذ کرنا نہایت دشوار ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس امام خمینی نے مصباح الہدایۃ میں مقام خلافت اور ولایت کو عرفانِ نظری کے جامع تصور کائنات اور اس کی بنیادی اصطلاحات کے ساتھ نہایت واضح اور مربوط انداز میں پیش کیا ہے۔[6]

کتاب کی ساخت اور مندرجات

یہ کتاب ایک مختصر مقدمہ، دو مشکات اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے۔ پہلی مشکات میں 56 مصباح شامل ہیں، جن میں خلافتِ محمدیؐ اور ولایتِ علویؑ کے بعض اسرار کو علمِ ذاتی کے مرتبے اور ظہور سے پہلے کے نظام کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔ دوسری مشکات میں خلافت و ولایت اور نبوت کے بعض اسرار کو نشۂ عینی اور عالمِ امر و عالمِ خلق میں واضح کیا گیا ہے۔ یہ مشکات خود تین مصباح پر مشتمل ہے۔ پہلا مصباح 21 ابواب پر مشتمل ہے جنہیں "نور" کا عنوان دیا گیا ہے۔ اس میں عالمِ امر کے بعض اسرار؛ یعنی عالمِ مجردات اور عالم عقول؛ پر بحث کی گئی ہے۔[7] دوسرا مصباح 13 ابواب پر مشتمل ہے جنہیں "مطلع" کہا گیا ہے۔ اس حصے میں خلافت، نبوت اور ولایت کے بعض اسرار کو غیبی نشئہ اور الٰہی عقلی انوار کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے اور چونکہ یہاں ایسے حقائق بیان کیے گئے ہیں جو نورانی افقوں سے طلوع ہوتے ہیں، اس لیے اس کے ابواب کو "مطلع" کا عنوان دیا گیا ہے۔[8] تیسرا مصباح 12 ابواب پر مشتمل ہے جنہیں "ومیض" (یعنی ضوفشانی) کہا جاتا ہے۔ اس میں خلافت، نبوت اور ولایت کے اسرار کو ظاہری اور مخلوقی نشئہ میں بیان کیا گیا ہے، جو بجلی کی چمک کی طرح ربوبی اسرار کو روشن کرتے ہیں۔[9]

امام خمینی پہلی مشکات میں اس حقیقت کو بیان کرنا چاہتے ہیں کہ ذاتِ حق تعالیٰ کی ہویت غیبِ محض ہے؛ ایسی حقیقت جو نہ ظہور رکھتی ہے اور نہ ہی اس کا ادراک اور مشاہدہ ممکن ہے۔ یہ ایک مطلق غیبی حقیقت ہے جس میں کسی قسم کی تعیین، نام، رسم یا وصف نہیں پایا جاتا اور وہ کسی بھی مظہر میں جلوہ گر نہیں ہوتی۔[10] یہ حقیقت ذاتی لحاظ سے تمام مخلوقاتِ عالم سے جدا ہے اور اسماء و صفات سے بھی اس کا براہِ راست تعلق نہیں؛ اسی بنا پر موجودات، بلاواسطہ حضرتِ غیبُ الغیوب سے فیض حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ لہٰذا اسماء کے ظہور کے لیے ایک خلیفہ کا ہونا ضروری ہے جو اسماء کے ظہور کا متکفل ہو اور ان کے نور کو منعکس کردے۔[11] یہ الٰہی خلیفہ دو رُخ رکھتا ہے؛ ایک رخ اس کی غیبی تشخص سے متعلق ہے اور دوسرا رخ عالمِ اسماء و صفات سے۔ پہلا رخ کسی ظہور اور بروز سے خالی ہے اور جو کچھ ظہور اور نمود ہے وہ سب اسماء و صفات سے متعلق ہے۔ سب سے پہلا وجود جو فیضِ اقدس اور خلیفۂ کبریٰ سے فیض پاتا ہے، اسمِ اعظم ہے اور اسمِ اعظم کے مظاہر میں سے سب سے پہلی چیز جو صادر ہوتی ہے وہ مقامِ رحمانیت اور رحیمیتِ ذاتی ہے۔ مقامِ واحدیت، الٰہی خلیفہ کے واسطے سے اسمائی اور صفاتی کثرتوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور تمام دوسری کثرتوں کی بنیاد بنتا ہے۔[12]

یہ خلافت درحقیقت اسمِ اعظم "اللہ" کا مقام ہے۔ چونکہ اسمِ اعظم "اللہ" تمام اسمائے جمال و جلال کا جامع ہے اس لیے اس کی تجلی کسی بھی ممکن الوجود کی آنکھ سے براہِ راست ممکن نہیں؛ چنانچہ ایک ایسے آئینے کا ہونا ضروری ہے جو اس اسمِ اعظم کے نور کو منعکس کرے اور وہ آئینہ انسانِ کامل ہے۔[13] جس طرح اسمِ "اللہ" دیگر اسماء کے درمیان عدل اور توازن برقرار رکھنے والا ہے، اسی طرح نبی اکرم حضرت خاتمؐ؛ جو اسمِ "اللہ" کے مظہر ہیں؛ کا منصب بھی حدودِ الٰہی کی حفاظت اور احکامِ الٰہی میں توازن و اعتدال قائم کرنا ہے۔[14] اسمِ اعظم "اللہ" کا مقام دراصل ربوبی قضا و قدر کا مقام ہے اور ہر صاحبِ مقام اسی مرتبے میں اپنے مقام تک پہنچتا ہے۔ یہ مرتبہ الٰہی علمِ مکنون اور مخزون کا ہے، جس سے کوئی آگاہ نہیں، اور بداء کا ظہور بھی اسی مقام سے ہوتا ہے؛[15] اگرچہ اس کا ظہور عالمِ عین میں ہوتا ہے۔

امام خمینی، امیرالمؤمنین علیؑ کی ایک حدیث کے ذیل میں "سرّ القدر" کی تشریح کرتے ہیں اور اسے ایسی حقیقت قرار دیتے ہیں جو پردۂ خفا میں پوشیدہ اور الٰہی مہر سے مہمور ہے اور جس کی معرفت کا واحد راستہ الٰہی عطا ہے؛ کیونکہ یہ ایک نہایت عظیم اور گہرا سمندر ہے جس کی پوری حقیقت صرف خدا ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔[16] امام خمینی پہلی مشکات میں متعدد فصول کو قاضی سعید قمی کے اسماءِ الٰہی کے مراتب اور صفات سلبی[17] سے متعلق کلام کی وضاحت اور اس پر تنقید کے لیے مختص کرتے ہیں۔ اسی طرح عَماء، بداء، قضا و قدرِ الٰہی کی حقیقت، عبد الرزاق کاشانی کے کلام میں لفظ اِنباء کے معنی اور ان کے اقوال پر تنقید، اس مشکات کے آخری ابواب کے اہم مباحث ہیں۔[18]

دوسری مشکات میں، تین مصباح کے تحت، خلافت، ولایت اور نبوت کے بعض اسرار کو نشۂ عینی اور عالمِ امر و خلق میں بیان کیا گیا ہے۔ امام خمینی پہلے مصباح میں وضاحت کرتے ہیں کہ ذاتِ غیبیِ حق، جب تک اسمائی تعیین کے بغیر ہو، کسی ظہور اور بروز کی اصل نہیں بنتی؛ لہٰذا حق تعالیٰ کی ذاتی محبت اس بات کی متقاضی ہوئی کہ وہ اپنے آپ کو اسماء و صفات کے آئینے میں ظاہر کرے۔ ذاتِ حق کی پہلی تجلی مشیتِ مطلقہ ہے، جو غیر متعین ظہور رکھتی ہے اور جسے فیضِ مقدس کہا جاتا ہے۔ امام خمینی مشیتِ مطلقہ کے لیے دو لحاظ بیان کرتے ہیں: ایک لا تعیّن اور وحدت کا لحاظ اور دوسرا کثرت کا مقام۔ آپ امر و خلق کی صورت میں مشیتِ مطلقہ کی تعیین کو تمام اسمائی مراتب کا جامع قرار دیتے ہیں، جس کے علمی دائرے سے کوئی ذرہ خارج نہیں۔ اس کے مطابق ذاتِ مقدسِ حق اپنی پوری قداست کے ساتھ تمام اشیاء میں ظاہر ہے۔[19] وجود کے مراتب میں حق کے ظہور کے مسئلے میں، امام خمینی عارفانہ نقطۂ نظر اختیار کرتے ہیں، جو تمام وجودی تعینات کو تعیّنِ احدی میں مستغرق دیکھتا ہے۔[20] آپ کے نزدیک خود حضرتِ حق ہی متنِ ظہور ہیں اور ان کی ساحتِ قدس پر کوئی حجاب نہیں؛ تمام حجاب دراصل حدود اور تعینات ہی سے جنم لیتے ہیں۔[21] اسی مصباح کے ذیل میں آپ اسماءِ الٰہی کے توقیفی ہونے،[22] تنزیہ و تشبیہ کے مسئلے[23] اور تخلیق سے متعلق بعض روایات کی تشریح بھی پیش کرتے ہیں۔[24]

امام خمینی دوسرے مصباح میں خلافت، نبوت اور ولایت کے غیبی عوالم اور عقلی انوار میں ظہور سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ آپ مشیتِ مطلقہ کی پہلی تعیین کو معصومینؑ کی پاک ارواح قرار دیتے ہیں اور امام جعفر صادقؑ سے منقول ایک روایت کے ذیل میں نورِ محمدیؐ کی تشریح کرتے ہوئے اس حدیث کے لطیف نکات بیان کرتے ہیں۔[25] نیز وہ صادرِ اوّل کے بارے میں فلاسفہ اور عرفا کے اختلافِ نظر کا ذکر کر کے اپنی ایک اختراعی رائے پیش کرتے ہیں جو دونوں آرا کے درمیان جمع و تطبیق کی حیثیت رکھتی ہے۔[26] آپ کے نزدیک صادرِ اوّل حقیقتِ عقلیہ ہے جو تمام عوالم کی حقیقت ہے اور باقی سب عوالم اس کے سائے ہیں۔ یہ حقیقت تمام موجودات پر حاکم ہے اور حق تعالیٰ کی طرف سے مخلوقات کی ہدایت پر مامور ہے۔[27]

تیسرا مصباح ظاہری اور مخلوقی نشئہ میں خلافت، نبوت اور ولایت کے اسرار سے بحث کرتا ہے۔ اس حصے میں اسفارِ اربعہ (چار عرفانی سفر) کے معانی اور حدود بیان کر کے انبیاؑ کی بعثت کے راز اور اسفارِ اربعہ میں ان کے مراتب کے فرق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[28] امام خمینی اس حصے لکھتے ہیں کہ بعض الٰہی اسماء بعض دیگر اسماء پر احاطہ رکھتے ہیں، مگر اسمِ "اللہ" تمام اسماء پر کامل احاطہ رکھتا ہے اور جملہ الٰہی شئون کا حامل ہے۔[29] لہٰذا عالمِ ظاہر میں بھی خلیفۃ اللہ کو اسی شان کا حامل ہونا چاہیے تاکہ وہ اسمِ اعظم "اللہ" کی حکومت کی طرح تمام اسمائی مراتب اور اعیانِ حقائق پر حاکم ہو۔[30] اسی بنا پر وہ خلیفہ، قوسِ نزول و صعود میں اشیاء کے الٰہی اسماء کے ساتھ تعلق کی کیفیت کو دیکھتا ہے، جس حقیقت کو "لیلۃُ القدرِ محمدیہؐ" سے تعبیر کیا جاتا ہے۔[31] امام خمینی خلافت اور نبوت کی وسعت کو اُن اسمائی حدود کے مطابق سمجھتے ہیں جو صاحبِ خلافت و نبوت پر حاکم ہوتی ہیں اور انبیاؑ کے مراتب کے فرق کو خاتم النبیینؐ کے ساتھ واضح کرتے ہیں؛ کیونکہ رسولِ خاتمؐ اسمِ اعظمِ الٰہی کے مظہر ہیں، جبکہ دیگر انبیا دوسرے اسماء کے مظاہر ہیں۔[32] اسی مصباح کے اختتام پر امام خمینی عظیم المرتبت عارف آقا محمد رضا قمشہ‌ای کے اسفارِ اربعہ سے متعلق کلام کو نقل اور اس پر نقد کرتے ہیں پھر اپنا نقطۂ نظر بیان کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ یہ چاروں سفر ہر صاحبِ شریعت کے لیے؛ ان کے مراتب و مقامات کے اختلاف کے ساتھ؛ تحقق پاتے ہیں؛ حتیٰ کہ کامل اولیاء کے لیے بھی یہ اسفار واقع ہوتے ہیں، جیسا کہ امیرالمؤمنین علی اور دیگر ائمہ معصومینؑ کے لیے بھی ہوئے ہیں۔[33]

کتاب کے آخر میں امام خمینی "خاتمہ و وصیت" کے عنوان کے تحت اس بات کی پر زور تاکید کرتے ہیں کہ کتاب میں مذکور عرفانی اسرار کی حفاظت کی جائے، نااہل لوگوں پر ان کا انکشاف نہ کیا جائے اور عرفانی معانی کو سمجھنے کے لیے متألّہین (اہلِ حکمت و عرفان) کے آثار اور اقوال سے مدد لی جائے۔[34] کتاب کے چند نمایاں نکات یہ ہیں:

  • ائمہ معصومینؑ کی روایات سے استفادہ، ان کی عرفانی شرح و توضیح اور عارفین کے آرا کی ان پر تطبیق؛[35]
  • انسانِ کامل کی ولایت کے مقام کو فیضِ اقدس کے ساتھ ہم آہنگ کرنا؛[36]
  • لیلۃُ القدر اور اس کی حقیقت کی وضاحت؛[37]
  • "عَماء"، حقیقت قضا و قدرِ الٰہی، بداء اور اس کے منبع کی تشریح؛[38]
  • خلافت و ولایت کی حقیقت کا ان کے مظاہر سے تعلق واضح کرنا؛[39]
  • انبیاؑ اور اولیاؑ کے معجزات و کرامات کے اظہار سے امتناع کے راز کی توضیح؛[40]
  • اسفارِ اربعہ کی بحث؛[41]
  • ابنِ عربی، محمد رضا قمشہ‌ ای اور محمد علی شاہ آبادی جیسے مفکرین کے آرا کی نقل و نقد کے ساتھ اپنے مخصوص نظریات کا بیان۔[42]

فرانسیسی محقق یحیی بونو نے اس کتاب تک رسائی کو اپنے لیے ایک عظیم دریافت قرار دیا ہے، جو انہیں خالص اسلامی عرفان کی لا متناہی دنیا تک لے گئی۔ ان کے نزدیک یہ کتاب اُن مصادر میں سے ہے جو مغرب کو امام خمینی کے عرفانی چہرے سے روشناس کراسکتی ہے اور اُسے ائمہ معصومینؑ کی تعلیمات سے جنم لینے والے خالص عرفان سے سیراب کرسکتی ہے۔[43]

کتاب کا نام جیسا کہ اسی کتاب کے مقدمے میں آیا ہے، "مصباحُ الہدایۃ الی الخلافۃ والولایۃ" ہے؛[44] تاہم امام خمینی نے اپنی دوسری تصانیف میں کبھی اسے مختصراً "مصباح الہدایۃ"،[45] کبھی "مشکوٰۃُ الہدایۃ الی حقیقۃِ الخلافۃ والولایۃ"[46] اور کبھی "مصباحُ الہدایۃ الی حقیقۃِ الرسالۃ والولایۃ"[47] کے نام سے یاد کیا ہے۔ آقا بزرگ تہرانی نے اس کا نام "مصباح الہدایۃ فی حقیقۃِ الخلافۃ والولایۃ" درج کیا ہے۔[48]

اشاعت سے متعلق معلومات

کتاب "مصباحُ الہدایۃ الی الخلافۃ والولایۃ" کو سب سے پہلے امام خمینی کے شاگرد محمد علی گرامی نے، امام کے ایک اور شاگرد محمد محمدی گیلانی کے نسخے سے کتابت کیا۔[49] بعد ازاں سید احمد فہری زنجانی نے امام خمینی کی اجازت سے اس کا فارسی ترجمہ کیا، جسے پیامِ آزادی نامی پبلشرز نے سنہ 1982ء میں 222 صفحات (اصل متن کے ساتھ) شائع کیا۔ موسسہ تنظیم و نشر آثارِ امام خمینی نے سنہ 1994ء میں اسے سید جلال الدین آشتیانی کے تحقیقی مقدمے کے ساتھ 315 صفحات میں، آیات، احادیث، اشعار، اعلام، کتب، اصطلاحات اور مصادر کے مفصل اشاریوں کے ہمراہ شائع کیا۔ اسی ادارے نے حسن ممدوحی کے قلم سے فارسی شرح "عرفان در منظر وحی و برہان" سنہ 2000ء شائع کی۔ نیز سید ید اللہ یزدان پناہ کی دو جلدوں پر مشتمل شرح "فروغِ معرفت در اسرارِ خلافت و ولایت" سنہ 2016ء میں شائع ہوئی۔ حسین مستوفی نے سنہ 2010ء میں اس کتاب کا اس میں موجود اصطلاحات کے ساتھ ترجمہ کیا، جسے اسی ادارے نے شائع کیا۔ محمد حسنیں سابقی نجفی نے اس کا اردو زبان میں ترجمہ کیا، جسے شیعہ مرکز تبلیغات اسلامی اور جامعۃ الثقلین پاکستان نے امام خمینی کے حالاتِ زندگی کے مقدمے کے ساتھ 1404ھ میں شائع کیا۔ سلام جودی نے سنہ 2010ء میں اسے انگریزی میں "The Lamp of Guidance into Vicegerency and Sanctity" کے عنوان سے 135 صفحات میں ترجمہ کیا۔ یہ کتاب سنہ 2013ء میں موسوعۃُ الامام خمینی کی جلد 44 میں تازہ تحقیقات کے ساتھ بھی شائع ہوچکی ہے۔

حوالہ جات

  1. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 90؛ انصاری، حدیث بیداری، 217۔
  2. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 12۔
  3. غفوریان، مبانی و ویژگی‌ہای عرفان نظری امام‌خمینی، 35–36۔
  4. آشتیانی، مقدمہ کتاب مصباح الہدایۃ الی الخلافۃ و الولایہ تألیف امام‌خمینی، 9۔
  5. آشتیانی، مقدمہ کتاب مصباح الہدایۃ الی الخلافۃ و الولایہ تألیف امام‌خمینی، 14؛ عابدی، نیم‌نگاہی بہ استادان و آثار عرفانی امام‌خمینی، 199۔
  6. غفوریان، مبانی و ویژگی‌ہای عرفان نظری امام‌خمینی، 39۔
  7. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 43۔
  8. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 59۔
  9. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 81۔
  10. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 13–14۔
  11. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 13–17۔
  12. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 18–19۔
  13. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 35۔
  14. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 41۔
  15. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 31۔
  16. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 32۔
  17. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 23۔
  18. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 29–42۔
  19. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 43–46۔
  20. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 47۔
  21. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 51۔
  22. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 44۔
  23. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 52۔
  24. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 55۔
  25. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 61۔
  26. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 64–66۔
  27. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 67۔
  28. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 81۔
  29. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 81۔
  30. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 82۔
  31. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 83۔
  32. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 83۔
  33. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 87–89۔
  34. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 90۔
  35. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 32، 39، 67 و 71۔
  36. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 17–18۔
  37. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 27۔
  38. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 29–31۔
  39. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 37–38۔
  40. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 53۔
  41. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 88–90۔
  42. امام‌خمینی، مصباح الہدایہ، 87–89۔
  43. بونو، انقلاب اسلامی پرتوی از افکار عرفانی و فلسفی امام‌خمینی، 69 و 73۔
  44. امام‌خمینی، مصباح الہدایۃ، 12۔
  45. امام‌خمینی، آداب الصلاۃ، 136؛ امام‌خمینی، سرّ الصلاۃ، 111؛ امام‌خمینی، حدیث جنود، 28۔
  46. امام‌خمینی، تعلیقات فصوص، 233۔
  47. امام‌خمینی، مصباح الہدایۃ الی حقیقۃ الرسالۃ و الولایہ، 276۔
  48. طہرانی، الذریعہ، 21/123۔
  49. گرامی، مصباح الہدایہ۔

مآخذ

سانچہ:مآخذ

  • آشتیانی، سیدجلال‌الدین، مقدمہ کتاب مصباح الہدایۃ الی الخلافۃ و الولایہ تألیف امام‌خمینی، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام‌خمینی، چاپ‌ششم، 1386ہجری شمسی۔
  • آقابزرگ طہرانی، محمدمحسن، الذریعۃ الی تصانیف الشیعہ، بیروت، دارالاضواء، چاپ سوم، 1403ھ۔
  • امام‌خمینی، سیدروح‌اللہ، آداب الصلاۃ، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام‌خمینی، چاپ شانزدہم، 1388ہجری شمسی۔
  • امام‌خمینی، سیدروح‌اللہ، تعلیقات علی شرح فصوص الحکم و مصباح الانس، قم، پاسدار اسلام، چاپ دوم، 1410ھ۔
  • امام‌خمینی، سیدروح‌اللہ، سرّ الصلاۃ (معراج السالکین و صلاۃ العارفین)، تہران، مؤسسہ تنظیم …، چاپ سیزدہم، 1388ہجری شمسی۔ *امام‌خمینی، سیدروح‌اللہ، شرح حدیث جنود عقل و جہل، تہران، مؤسسہ تنظیم …، چاپ دوازدہم، 1387ہجری شمسی۔
  • امام‌خمینی، سیدروح‌اللہ، مصباح الہدایۃ الی الخلافۃ و الولایہ، تہران، مؤسسہ تنظیم …، چاپ ششم، 1386ہجری شمسی۔
  • انصاری، حمید، حدیث بیداری، تہران، مؤسسہ تنظیم …، چاپ بیستم، 1380ہجری شمسی۔
  • بونو، یحیی، انقلاب اسلامی پرتوی از افکار عرفانی و فلسفی امام‌خمینی، مجلہ حضور، شمارہ 12، 1374ہجری شمسی۔
  • عابدی، احمد، نیم‌نگاہی بہ استادان و آثار عرفانی امام‌خمینی، مجلہ آینہ پژوہش، شمارہ 58، 1378ہجری شمسی۔
  • غفوریان، محمدرضا، مبانی و ویژگی‌ہای عرفان نظری امام‌خمینی، تہران، مؤسسہ تنظیم …، چاپ اول، 1388ہجری شمسی۔
  • گرامی، محمدعلی، مصباح الہدایہ، کتابخانہ مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام‌خمینی بہ شمارہ ثبت 11096۔

سانچہ:پایان