مندرجات کا رخ کریں

منشور روحانیت

وکی امام خمینی سے

منشور روحانیت، علماء اور حوزات علمیہ کے نام امام خمینی کا تاریخی پیغام ہے جو 3 اسفند 1367ش (23 فروری 1989ء) کو جاری کیا گیا، اور اپنے گہرے مفہوم اور مخاطبین کی وسعت کے باعث اسے ایک فکری اور سیاسی وصیت نامہ سمجھا جاتا ہے۔

اس پیغام کو علماء اور حوزات کے بارے میں امام خمینی کے تجزیے اور نقطہ نظر کا خلاصہ قرار دیا جا سکتا ہے، اور اس میں معاشرے کے اس طبقے کے حوالے سے ان کے خدشات اور پریشانیوں کی فہرست بھی شامل ہے۔ یہ پیغام صحیفہ امام میں «پیام به روحانیت» (علماء کے نام پیغام) کے عنوان سے درج ہے اور بیس صفحات پر مشتمل اس پیغام میں علماء کے مختلف پہلوؤں، ان کی خدمات، فرائض اور ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

تاریخی پس منظر اور پیغام جاری کرنے کی ضرورت

کتاب منشور روحانیت

امام خمینی کا منشور روحانیت کے نام سے معروف یہ پیغام ایسے حالات میں جاری کیا گیا جب انقلابِ اسلامی کی کامیابی کو تقریباً ایک دہائی گزرنے کے بعد، اسلامی جمہوریہ ایران کو مختلف تبدیلیوں اور بحرانوں کا سامنا تھا۔ ایران عراق جنگ کے خاتمے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 598 کی منظوری (تیر 1367ش) نے ملک میں تعمیرِ نو اور تبدیلی کی ایک نئی فضا پیدا کر دی تھی۔ اندرونی محاذ پر، علماء کے ایک طبقے کے درمیان اختلافات، حسین علی منتظری کی قائم مقام رہبری سے علیحدگی اور پھر برطرفی (فروردین 1368ش)، اور حوزاتِ علمیہ میں متحجر (رجعت پسند) یا مغرب زدہ دھڑوں کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات، ان عوامل میں شامل تھے جنہوں نے امام خمینی کو یہ پیغام مرتب اور جاری کرنے پر آمادہ کیا۔ خارجی محاذ پر بھی سلمان رشدی کے ارتداد کے فتوے کے اجراء (بہمن 1367ش) اور اس کے وسیع اثرات نے عالمی سطح پر علماء اور دینی مرجعیت کے مقام کو مزید نمایاں کر دیا تھا۔[1]

امام خمینی کے پیغام کے بنیادی نکات

منشورِ روحانیت مختلف حصوں پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر ایک میں کلیدی اور اسٹریٹجک نکات شامل ہیں:

علماء کی شناخت اور اصالت

امام خمینی اس پیغام میں واضح طور پر حقیقی علماء کی سرمایہ داروں اور دولت پرستوں سے وابستگی کو مسترد کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسلام کے حقیقی علماء کبھی سرمایہ داروں کے دباؤ میں نہیں آئے۔ آپ پُرعزم اور دیندار علماء کو "خون چوسنے والے سرمایہ داروں کے خون کا پیاسا" قرار دیتے ہیں اور انہیں زہد، تقویٰ اور دنیاوی آسائشوں سے بے نیاز قرار دیتے ہیں۔[2]

علماء کی خدمات کی بدولت عوام کا ان کی طرف رجحان

امام خمینی نے اس پیغام میں تاکید کی ہے کہ علماء اور فقاہت کی ترویج میں نہ تو بندوق کی نوک کا زور شامل تھا اور نہ ہی دولت پرستوں کا سرمایہ، بلکہ یہ ان کا اپنا ہنر، سچائی اور لگن تھی جس کی وجہ سے عوام نے انہیں منتخب کیا۔[3] قناعت، شجاعت، صبر، زہد، حصول علم، طاقتوں سے عدم وابستگی جیسی عظیم خصوصیات اور سب سے بڑھ کر عوام کے تئیں احساسِ ذمہ داری نے علماء کو زندہ، پائیدار اور مقبول بنایا ہے۔[4]

تحجر (رجعت پسندی) اور تقدس مآبی کا خطرہ

امام خمینی اس پیغام میں واضح کرتے ہیں کہ علماء کے مقام اور خدمات کو بیان کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ تمام علماء کا دفاع کر رہے ہیں، بلکہ ان کا ماننا ہے کہ حوزاتِ علمیہ میں کچھ ایسے افراد بھی موجود ہیں جو انقلاب اور خالص محمدی اسلام کے خلاف سرگرمِ عمل ہیں اور تقدس کا لبادہ اوڑھ کر دین، انقلاب اور نظام کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔[5] منشور کا ایک اہم ترین حصہ تحجر (رجعت پسندی/تنگ نظری) اور تقدس مآبی کے خطرے کے حوالے سے امام خمینی کا انتباہ ہے۔ آپ تحجر کو فقہ کی ترقی اور متحرک اجتہاد کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔ امام خمینی دو ٹوک الفاظ میں متحجرین کو «امریکی اسلام کے مروج» اور «رسول اللہﷺ کا دشمن» قرار دیتے ہیں اور طلاب پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایک لمحے کے لیے بھی ان «خوش نما سانپوں» کی فکر سے غافل نہ ہوں۔[6] آپ اس متحجر طبقے کی جانب سے اٹھائی جانے والی ان تکالیف کا ذکر کرتے ہوئے، جو آپ نے خود سہی ہیں، یاد دلاتے ہیں کہ جدوجہد کے آغاز میں بعض رجعت پسند تقدس مآبوں نے یہ جواز پیش کر کے حکومت کے خلاف جدوجہد کی مخالفت کی تھی کہ محمد رضا پہلوی شیعہ ہے۔[7]

امریکی اسلام کے خلاف جدوجہد

امام خمینی اس پیغام میں، امریکی اسلام کے مقابلے میں خالص محمدیﷺ اسلام کا تصور یاد دلاتے ہوئے، انقلاب کی فکری لکیر کو عالمی استکبار کے ساتھ کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے الگ کر دیتے ہیں۔ امریکی اسلام کو ایک ایسی سوچ کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے جو مذہبی نعروں کے ذریعے بڑی طاقتوں کے مفادات کی خدمت کرتا ہے۔ آپ علماء کو اس سوچ کا مقابلہ کرنے اور حقیقی اسلام کی ترویج کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔[8]

پیغام کے اجراء کے بعد کے اثرات

پیغام کے اجراء کے بعد، نظام کی سرکردہ شخصیات کی جانب سے اس کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کے لیے متعدد تقاریر کی گئیں۔ اسفند 1367ش میں سید علی خامنہ ای کا خطاب، جس میں انہوں نے تہران کے نمازِ جمعہ میں منشورِ روحانیت کی تشریح کی، اخبارات میں وسیع کوریج کا حامل رہا۔[9] مقررین کے خیال میں یہ پیغام ایسے وقت میں جاری کیا گیا جب حوزات کی فکری فضا شدید سستی اور جمود کا شکار تھی۔ منشورِ روحانیت نے حوزوی دروس کو نئے اور معاشرے کو درپیش مسائل کی جانب گامزن کیا۔ بعض علماء اور اساتذہ، اس دور کے حوزہ کی فضا کا حوالہ دیتے ہوئے، اس بات پر زور دیتے ہیں کہ امام خمینی کا پیغام اہم فکری تبدیلیوں کا سنگِ بنیاد بنا جو برسوں تک جاری رہیں۔[10]

نتیجہ

منشور روحانیت امام خمینی کی رحلت سے قبل ان کی آخری تفصیلی تحریر تھی۔ درحقیقت، یہ پیغام علماء کے موضوع اور ان کی خوبیوں اور خامیوں کا ایک مجموعہ ہے جس میں علماء کو درپیش خطرات اور مواقع کا جائزہ لیا گیا ہے۔ امام خمینی اس پیغام میں سب سے زیادہ اس بات پر توجہ دلاتے ہیں کہ پوری تاریخ میں، انبیاء کے مدمقابل کھڑی ہونے والی تحریکیں دین مخالف تحریکیں نہیں تھیں، بلکہ وہ لوگ تھے جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کر کے مذہبی نعرے لگاتے تھے اور اس اشتعال انگیز جملے کے ساتھ آگے بڑھتے تھے کہ انبیاء آپ سے آپ کے اصول اور مقدسات چھیننا چاہتے ہیں۔ آپ اس منشور میں اس گروہ کو بے دین ولایتیوں (ولایتی‌های بی‌دین) کے نام سے تعبیر کرتے ہیں؛ کیونکہ یہ وہ لوگ تھے جو پوری تاریخ میں ایک عالم دین کے مقابلے میں دوسرے عالم کو کھڑا کرتے تھے، اور پیغمبر کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔[11] عبد اللہ جوادی آملی کے مطابق، منشورِ روحانیت علماء کی جماعت کے لیے امام خمینی کا خصوصی وصیت نامہ ہے۔[12]

حوالہ جات

  1. ذوعلم، علی، «تحلیلی بر منشور روحانیت»، ویب گاہ مرکز تعلیمات اسلامی واشنگٹن۔
  2. امام خمینی، سید روح اللہ، صحیفہ امام، ج 21، ص 276۔
  3. امام خمینی، سید روح اللہ، صحیفہ امام، ج 21، ص 273–293۔
  4. امام خمینی، سید روح اللہ، صحیفہ امام، ج 21، ص 277۔
  5. امام خمینی، سید روح اللہ، صحیفہ امام، ج 21، ص 277–278۔
  6. امام خمینی، سید روح اللہ، صحیفہ امام، ج 21، ص 278۔
  7. امام خمینی، سید روح اللہ، صحیفہ امام، ج 21، ص 278۔
  8. امام خمینی، سید روح اللہ، صحیفہ امام، ج 21، ص 276۔
  9. مثال کے طور پر ملاحظہ کریں: روزنامہ جمہوری اسلامی، 13 اسفند 1367ش، ص 10۔
  10. رخوت و انفعال حوزه‌های علمیه دلیل صدور منشور روحانیت، خبر رساں ادارہ فارس؛ سخنان سیدعلی خامنه‌ای در تشریح منشور روحانیت، حوزہ کی باضابطہ خبر رساں ایجنسی۔
  11. شاخص‌های روحانیت در منشور روحانیت امام خمینی؛ پایگاہ اطلاع رسانی حوزہ۔
  12. «گفتاری منتشرنشده از آیت‌الله جوادی آملی»، ویب گاہ دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ خامنہ ای۔

مآخذ