امام خمینی کی تدریس

امام خمینی کا طریقۂ تدریس، امامخمینی کی جانب سے مختلف اسلامی علوم کی تعلیم و تدریس۔
امام خمینی نے حوزہ علمیہ قم اور نجف میں مختلف موضوعات اور علمی سطحوں پر تدریس کے فرائض انجام دیے۔ آپ کے طریقۂ تدریس کی نمایاں خصوصیات میں: عام فہم بیان، تفکرِ نقادانہ کی پرورش، مجتہد پروری، انتہائی نفاست و دقت، اقناعی تدریس اور وقت کی پابندی شامل ہیں۔
امام خمینی نے ادبیات، فقہ اور اصول فقہ کی تدریس مقدمات، سطوحِ متوسطہ، سطوحِ عالیہ اور خارج جیسے چاروں تعلیمی مراحل میں کی۔ ان دروس کے علاوہ، آپ نے فلسفہ، عرفان اور اخلاق کا درس بھی دیا۔
امام خمینی قم کے مدرسہ دار الشفاء میں علومِ عقلی پڑھاتے تھے اور آپ نے کم از کم بیس سال تک شرح منظومہ اور اسفار کی تدریس کی۔ آپ فلسفے کے ساتھ ساتھ عرفانِ عملی میں کتاب "منازل السائرین" اور عرفانِ نظری میں "فصوص الحکم" پر شرحِ قیصری کا درس بھی دیتے تھے۔
سال ۱۹۴۵ء سے ۱۹۶۴ء کے دوران امام خمینی کے اصولِ فقہ کے درسِ خارج کا محور کتاب "کفایة الاصول" تھی، جبکہ ۱۹۴۵ء سے ۱۹۶۳ء تک آپ نے فقہ کا درسِ خارج دیا۔ نجف کی طرف جلاوطنی کے بعد، وہاں آپ کے درسِ فقہ کا آغاز ۱۹۶۵ء میں ہوا۔ آپ نے چودہ سالہ دورِ جلاوطنی میں سے بارہ سال مکاسبِ محرمہ، بیع اور خیارات پڑھائے اور آخری دو سالوں میں نماز میں واقع ہونے والے خلل (مباحثِ خلل) کی تدریس فرمائی۔
طلاب کے لیے علومِ عقلی و نقلی کی تدریس کے ساتھ ساتھ، امام خمینی اخلاق کا درس بھی دیتے تھے اور بعض دیگر علوم کی بھی تدریس کرتے تھے؛ جن میں منطق میں "شرح شمسیہ" اور علمِ کلام میں "شوارق الالہام" شامل ہیں۔
پس منظر
اسلام میں تدریس کی تاریخ انتہائی قدیم اور اس کا مقام بہت خاص ہے۔ اگرچہ پیغمبر اکرمؐ مسجد میں تعلیم دیتے تھے، لیکن دوسری صدی ہجری سے امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ نے عوامی سطح پر تدریس کا آغاز کیا[1] اور بعد میں یہ سلسلہ حوزہ ہائے علمیہ (جو تعلیمی، تحقیقی اور تبلیغی ادارے شمار ہوتے ہیں) میں عربی ادبیات، طبیعیات، منطق، الہیات، اعتقادات، فقہ، اصول فقہ، تفسیر، حدیث، عرفان وغیرہ کی شکل میں جاری رہا۔
ماضی میں اسلامی علوم کے حوزات میں طلاب کا انتخاب روایتی نظام اور نگرانی کے تحت ہوتا تھا۔[2] درس، استاد اور مدتِ تحصیل کا انتخاب خود طلاب کے ذمہ ہوتا تھا اور مدارس استاد محور ہونے کے باوجود[3] اساتذہ عام طور پر کسی مادی فائدے یا حق التدریس کے بغیر پڑھاتے تھے۔ اس تعلیمی نظام میں طلاب ایک مدت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے آموختہ علوم اپنے سے جونیئر طلاب کو پڑھاتے تھے۔ امام خمینی نے بھی دسیوں سال تک حوزہ علمیہ قم اور نجف میں فلسفہ، عرفان، فقہ، اصول اور اخلاق جیسے مختلف علوم کی سطحوں پر تدریسی فرائض انجام دیے اور خصوصاً فقہ و اصول میں متعدد شاگردوں کی تربیت کی۔
تدریس کی خصوصیات
امام خمینی علومِ دینی کے مدارس میں رائج روایتی طریقے کے مطابق ہی تدریس فرماتے تھے، جس میں استاد مدرسے یا مسجد میں منبر یا تدریسی کرسی پر بیٹھتا تھا اور کسی مادی تعلیمی وسائل کے بغیر صرف درسی متن کی وضاحت اور تشریح کرتا تھا۔[4]
عام فہم بیان
آپ کا بیان انتہائی شیریں اور عام فہم تھا۔ درس کے آغاز میں موضوعِ بحث کی بہترین وضاحت کرتے، علماء کے اقوال کی طرف اشارہ کرتے اور صاحبانِ نظریہ کے دلائل کو نقل و نقد کرتے تھے،[5] جس کے نتیجے میں شاگرد آزاد اور مستقل اندیش پیدا ہوتے تھے۔[6]
تفکرِ نقادانه کی پرورش
آپ شاگردوں میں تحقیق کی روح پھونکتے تھے، اس طرح کہ آپ کی اپنی سوچ بھی محض نقلِ اقوال پر غالب رہتی تھی۔ اس کے علاوہ، آپ شاگردوں کو مباحث پر نقد و اعتراض کرنے کی تلقین کرتے اور ان کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے[7]؛ اسی لیے وہ شاگردوں کو بجا اشکالات اٹھانے اور درس میں خاموش نہ رہنے کی تاکید کرتے اور خود ان کے سوالات کے جواب دیتے۔ آپ اپنے شاگردوں سے چاہتے تھے کہ صاحبِ نظر بننے کے لیے استاد کے نظریات کو بھی تنقیدی نگاہ سے دیکھیں اور آپ کی باتوں کو بلا دلیل نہ مانیں[8]؛ آپ کا ماننا تھا کہ جس درس میں اعتراض اور بحث نہ ہو، وہ مجلسِ وعظ یا مرثیہ خوانی سے مشابہ ہے۔[9] اسی بنا پر، آپ تقریر نویسوں سے فرماتے تھے کہ وہ صرف استاد کے درس کو لکھ لینے پر اکتفا نہ کریں بلکہ اس پر اپنی تنقید بھی لکھیں۔[10] بعض اوقات آپ مخصوص اشکال یا سوال اٹھانے پر بعض شاگردوں کی خاص حوصلہ افزائی بھی فرماتے تھے۔[11]
مجتہد پروری
امام خمینی کا درس مجتہد پرور تھا؛ فقہی، اصولی اور فلسفی مباحث میں آپ کا طرزِ ورود و خروج شاگردوں کے لیے استنباط کی راہ کھولتا تھا اور ان میں تحقیقی روح اور سوئی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کرتا تھا۔[12] شایستہ، فاضل، محقق، صاحبِ نظر اور زمان شناس شاگردوں کی ایک بڑی تعداد کی تربیت کرنا حوزہ ہائے علمیہ اور امتِ مسلمہ کے لیے آپ کی عظیم ترین خدمات میں سے ہے۔[13]
اعلیٰ درجے کی نفاست و آمادگی
امام خمینی ہمیشہ تدریس کے لیے پہلے خود مطالعہ فرماتے تھے اور بحث کے تمام پہلوؤں پر مکمل آمادگی کے ساتھ کلاس میں تشریف لاتے تھے۔[14] آپ کی کوشش ہوتی تھی کہ پہلے خود مطلب کو اچھی طرح درک کریں اور پھر اسے پڑھائیں۔[15] آپ کی تدریس اتنی عمیق اور دقیق ہوتی تھی کہ بعض اوقات کلاس معمول کے وقت سے زیادہ طویل ہو جاتی تھی۔[16]
اقناعی تدریس
تدریس میں آپ کا طریقہ کار اقناعی (مطمئن کر دینے والا) تھا[17] اور آپ حوزہ کی بعض کتابوں میں موجود پیچیدہ اور غیر متعارف اصطلاحات کے استعمال سے دور رہتے تھے۔[18] بحث کے ابعاد و فروع کو پیش کرنا، دلائل کی جانچ پڑتال اور مختلف اقوال کا جائزہ لینا آپ کی تدریس کے خاص نمونے مانے جاتے ہیں۔[19]
متن محور دروس میں امام خمینی کا طریقہ یہ تھا کہ آپ پہلے عبارت کی چند سطریں پڑھتے اور پھر مطلوبہ مبحث کو اتنے بہترین انداز میں بیان کرتے کہ اس میں الجھانے والی اصطلاحات نہیں ہوتی تھیں، جس کے نتیجے میں اکثر طلاب اسے سمجھ جاتے؛ اس کے بعد آپ ان توضیحات کو درسی عبارت پر لاگو (تطبیق) کرتے تھے۔[20]
فقہ اور اصول کے درسِ خارج میں (جو اجتہادی بنیادوں پر ہوتا ہے)، آپ پہلے اصل بحث کو دلائل کے ساتھ واضح کرتے؛ پھر دوسروں کے نظریات پیش کرتے اور مخالفت کی صورت میں انتہائی ادب کے ساتھ ان کے نظریات کو رد فرماتے۔[21] مباحث کی حدود کا خیال رکھنا آپ کے درس کی خاص خصوصیت تھی؛ جیسے فقہی و اصولی مباحث میں عرفی نگاہ اور فلسفیانہ نگاہ کو ایک دوسرے سے بالکل جدا رکھتے تھے۔[22]
امام خمینی روزانہ کے درس کا مطالعہ ایک رات پہلے کرتے اور اس کے نوٹس بناتے تھے[23] اور اپنے عمیق درس کو خوبصورت بیان اور سادہ و منظم عبارتوں میں پیش کرتے تھے۔[24] آپ درس کے بعد گھر تشریف لاتے اور تقریباً ایک گھنٹے تک کسی سے نہیں ملتے تھے تاکہ پڑھائے گئے مباحث کو تحریر کر سکیں۔[25] آپ نے اگرچہ یہ تمام مباحث عربی زبان میں تحریر فرمائے، لیکن تدریس ہمیشہ فارسی زبان میں ہی کی۔
وقت شناسی
آپ وقت کے انتہائی پابند تھے، یہاں تک کہ منقول ہے کہ بعض شاگرد اپنی گھڑیوں کا وقت آپ کے درس کے آغاز سے ملایا کرتے تھے۔[26] آپ طلاب کو درس اور زندگی میں نظم و ضبط کا عادی بنانا چاہتے تھے؛ ایک دن بعض طلاب کے تاخیر سے آنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے درس کی بجائے نظم و ضبط کی ضرورت پر گفتگو فرمائی اور یاد دلایا کہ صاحب جواهر نے اپنے بیٹے کی وفات والے دن بھی، جنازے کے لیے لوگوں کے اکٹھا ہونے سے پہلے تک، کتاب "جواہر" کا آدھا صفحہ تحریر کر لیا تھا۔[27] آپ کبھی بھی درس کو تعطیل کرنے کے حق میں نہیں تھے؛ یہاں تک کہ اصول فقہ کے ساڑھے چار سالہ دورے میں معمول کی تعطیلات کے علاوہ صرف دو دن آپ کا درس بند رہا۔[28]
دروس کی مقدار
امام خمینی سیکھنے کے عمل کو خود طلاب کی ذمہ داری سمجھتے تھے کہ وہ مطالب کو سمجھنے میں کوشاں رہیں۔ آپ ایک دن میں دو سے زیادہ دروس میں شرکت کو مناسب نہیں سمجھتے تھے اور آپ کا عقیدہ تھا کہ طالب علم کو صرف ایک بنیادی درس پر استاد کے سامنے پوری تحقیق کے ساتھ تمرکز کرنا چاہیے اور دوسرا درس ضمنی طور پر رکھنا چاہیے، نہ یہ کہ اصلی درس کو ضمنی درس پر قربان کر دیا جائے اور نہ ہی پوری عمر استاد کے سامنے بیٹھنے میں گزار دی جائے۔[29] آپ خود قم میں درسِ خارج کے سالوں میں روزانہ ایک درس فقہ اور ایک درس اصول پڑھاتے تھے، اور نجف میں تدریس کے دوران روزانہ صرف ایک درسِ خارجِ فقہ دیتے تھے؛ البتہ اس دور میں جب آپ سطح کے مرحلے میں عرفان، فلسفہ، فقہ اور اصول پڑھاتے تھے تو روزانہ متعدد کلاسیں لیتے تھے۔ امام خمینی کی طرف سے عام تعطیلات کے دنوں میں الگ سے کلاسیں لینے کی کوئی رپورٹ نہیں ملتی۔
درسی متون
امام خمینی حوزہ ہائے علمیہ اور روایتی مدارس کے فارغ التحصیل تھے جنہوں نے ادبیات، فقہ اور اصول کی تدریس چاروں مراحل (مقدمات، سطوحِ متوسطہ، سطوحِ عالیہ اور خارج) میں کی۔ ان دروس کے علاوہ آپ نے فلسفہ، عرفان اور اخلاق بھی پڑھایا۔ یہ دروس مختلف مقامات پر منعقد ہوتے تھے۔
موجودہ دستاویزات کے مطابق، پہلے دو مراحل میں امام خمینی نے اپنی زوجہ کو کتاب "جامع المقدمات"، کتاب "سیوطی" اور "شرح لمعه" کا کچھ حصہ پڑھایا تھا۔[30] حوزہ میں آپ کے ابتدائی سطوح کے دروس کی تدریس کی تاریخ تو واضح طور پر ثبت نہیں ہے، لیکن قاعدہ یہی ہے کہ جو اساتذہ سطوحِ عالیہ پڑھاتے ہیں وہ پہلے ابتدائی مراحل پڑھا چکے ہوتے ہیں، لہذا امام خمینی نے مقدماتی دروس بھی حوزہ میں لازماً پڑھائے ہوں گے۔ آپ کی جانب سے کتاب "رسائل"، "مکاسب" اور "کفایة الاصول" کی تدریس کی رپورٹیں موجود ہیں۔[31] آپ کی تدریس کی اکثر روایات سطوحِ عالیہ، خارجِ فقہ و اصول، فلسفہ، عرفان اور اخلاق سے مربوط ہیں۔
فلسفہ
امام خمینی نے سیدابوالحسن رفیعی قزوینی سے صدرائی فلسفہ اور حکمت متعالیہ سیکھنے کے بعد اس کی تدریس کا آغاز کیا۔[32]
شرح منظومہ اور اسفار
اگرچہ آپ کی فلسفے کی تدریس کے آغاز کی دقیق تاریخ معلوم نہیں ہے، لیکن یہ بات مسلم ہے کہ آپ سال ۱۳۴۸ھ (۱۹۲۹ء) سے پہلے قم کے مدرسہ دار الشفاء میں علومِ عقلی پڑھاتے تھے[33] اور آپ کی فلسفے کی تدریس، جیسا کہ آپ نے خود ذکر کیا ہے، عبدالکریم حائری یزدی کی وفات کے بعد بھی جاری رہی۔ سال ۱۹۴۴ء میں سیدحسین بروجردی کی قم آمد تک آپ کی اصلی علمی مصروفیات میں سے ایک علومِ عقلی کی تدریس تھی[34]؛ یہ تدریس ۱۹۴۹ء تک جاری رہی۔[35] پس آپ نے کم از کم بیس سال تک شرح منظومہ اور اسفار کی تدریس کی[36] اور علومِ عقلی کے رسمی دروس ۱۹۴۹ء کے لگ بھگ تمام ہوئے، جس کے بعد آپ کی طرف سے فلسفے کی کسی عمومی تدریس کی رپورٹ نہیں ملتی[37]؛ البتہ سیدمصطفی خمینی نے سال ۱۳۷۴ھ (۱۹۵۵ء) میں تہران میں اپنے والد سے اسفار کے بعض حصے پڑھے تھے۔[38] تقریراتِ فلسفہ جو سیدعبدالغنی موسوی اردبیلی نے لکھی ہیں، وہ بھی انہیں سالوں (۱۹۴۴–۱۹۴۹ء) سے مربوط ہیں۔[39]
دروس کی تعطیل کے اسباب
امام خمینی کے عقلی دروس کی تعطیلی کی مختلف وجوہات ذکر کی گئی ہیں۔[40] آپ خود فرماتے ہیں کہ ۱۹۴۴ء میں آیت اللہ بروجردی کی قم آمد کے بعد، مرتضی مطهری جیسے افراد کی تقاضا پر آپ درسِ خارج کی تدریس میں مشغول ہو گئے اور علومِ عقلی سے دور ہو گئے[41]؛ لیکن یہ بات کہ امام خمینی نے ۱۹۴۵ء سے ۱۹۴۸ء کے درمیان میرزامهدی آشتیانی کی قم آمد پر ان کے احترام میں اپنا فلسفے کا درس بند کر دیا تھا[42] یا سیدمحمدحسین طباطبائی (۱۹۰۲–۱۹۸۱ء) کی قم ہجرت کے بعد یہ درس بند ہوا تھا،[43] درست نہیں لگتی؛ کیونکہ اسناد کے مطابق آپ کی فلسفے کی عمومی تدریس ۱۹۴۹ء تک جاری رہی تھی جب کہ آشتیانی اور علامہ طباطبائی کی قم آمد اس تاریخ سے سالوں پہلے کی ہے۔ اسی طرح یہ دعویٰ بھی درست نہیں کہ درسِ فلسفہ کی تعطیلی کی وجہ بعض حوزوی افراد کی مخالفت تھی جو فلسفہ پڑھانے پر آپ کی تکفیر کرتے تھے،[44] کیونکہ امام خمینی خود ان واقعات کو اپنے بیٹے سیدمصطفی خمینی کے بچپن کے دور سے جوڑتے ہیں[45] جو کہ ۱۹۳۰ء میں پیدا ہوئے تھے، یعنی یہ مخالفتیں آپ کی فلسفے کی تدریس ختم ہونے سے سالوں پہلے کی ہیں۔
شرکاء کے بارے میں حساسیت
آپ خود علومِ عقلی کی تدریس کے آغاز ہی سے فلسفے کی کلاس میں شریک ہونے والوں کے بارے میں بہت حساس تھے اور بعض اوقات جو افراد علومِ دقیقہ کی اہلیت نہیں رکھتے تھے ان سے کلاس میں نہ آنے کی درخواست کرتے تھے۔ بیرونی مخالفتوں کی وجہ سے بعض اوقات مصلحت کے تحت درس کو عارضی طور پر معطل بھی کر دیتے تھے۔ آپ حوزہ میں فلسفے کے دروس کو بہت زیادہ علنی اور وسیع کرنے کے خلاف تھے۔[46] آپ کے فلسفے کے درس میں (جو خصوصی طور پر ہوتا تھا) شرکت کے لیے طالب علم کی قابلیت کا کسی استاد کی طرف سے تایید ہونا ضروری تھا؛ کچھ عرصے بعد آپ نے شاگردوں سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ درس کو لکھ کر آپ کو دکھائیں اور صرف تایید کی صورت ہی میں وہ کلاس جاری رکھ سکتے تھے۔[47]
عرفان
امام خمینی نے فلسفے کی تدریس کے ساتھ ساتھ سال ۱۹۳۱ء سے ۱۹۴۱ء کے دوران مخصوص افراد کو عرفانِ عملی میں کتاب "منازل السائرین"[48] اور عرفانِ نظری میں "شرح قیصری بر فصوص الحکم" پڑھائی۔[49] آپ کی جانب سے دو شاگردوں کو سال ۱۹۳۵ء اور ۱۹۳۸ء میں دیے گئے دو عرفانی اجازہ جات سے[50] یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان سالوں میں آپ عرفانِ نظری پڑھا رہے تھے۔ البتہ قم کا عمومی ماحول ایسا تھا کہ عرفان کے درس کو علنی کرنا ممکن نہیں تھا اور امام خمینی خود عرفان کو علنی پڑھانے کو خودکشی کے مترادف سمجھتے تھے[51] اور بعد میں آپ نے اسے ترک کر دیا۔ آپ کے دروس پر "صوفیوں کا درس" ہونے کا الزام لگنا[52] اسی ماحول کی گواہی دیتا ہے۔ جماران میں قیام کے دوران، آپ کی بہو سیدهفاطمه طباطبایی نے یونیورسٹی میں فلسفہ غرب کی تعلیم کے دوران امام خمینی سے عرفان کے میدان میں خصوصی اور غیر رسمی طور پر علمی استفادہ کیا۔[53]
فقہ اور اصول فقہ
آیت اللہ بروجردی کی قم آمد سے پہلے کے دور میں، اصول اور فقہ کے سطوحِ عالیہ کی تدریس امام خمینی کی بڑی علمی مصروفیات میں سے تھی۔[54] کہا جاتا ہے کہ آپ کی یہ تدریس ۱۹۳۳ء کے لگ بھگ تھی[55]؛ لیکن درسِ خارج کے مرحلے کا آغاز ۱۹۴۴ء میں آیت اللہ بروجردی کی آمد کے بعد ہوا، جو مرتضی مطهری اور آیت اللہ منتظری جیسے فضلائے حوزہ کی درخواست پر شروع کیا گیا تھا۔[56] زندان سے آزادی کے بعد، آپ نے محلہ یخچال قاضی میں واقع اپنے گھر میں کچھ عرصے تک فقہ کے مسائل مستحدثہ (جدید مسائل) کا درس بھی دیا۔[57] امام خمینی ۱۹۳۳ء سے ۱۹۶۴ء تک مسلسل قم میں سطوحِ عالیہ اور خارج کے مراحل میں فقہ و اصول پڑھاتے رہے۔[58] ان سالوں میں آپ نے خارجِ اصول کے دو سے زیادہ دورے اور فقہ کے متعدد ابواب پڑھائے۔[59]
تدریس کے ادوار
اصول کا پہلا دورہ ۱۹۴۵ء سے ۱۹۵۱ء تک تھا جس میں مباحثِ امارات اور اصول عملیه شامل تھے؛ دوسرا دورہ ۱۹۵۱ء سے ۱۹۵۸ء تک مکمل اصولِ فقہ پر مشتمل تھا؛ اور تیسرا دورہ ۱۹۵۸ء سے ۱۹۶۳ء تک آغازِ اصول سے مبحثِ حدیث رفع تک تھا،[60] جو آپ کی سیاسی جدوجہد، گرفتاری اور جلاوطنی کی وجہ سے ناتمام رہ گیا۔[61]
۱۹۵۰ء کا عشرہ امام خمینی کی خارجِ فقہ و اصول کی تدریس کا اوج تھا۔ آپ نے ۱۹۴۵ء سے ۱۹۶۴ء تک خارجِ اصول پڑھایا جس کا محور کتاب "کفایة الاصول" تھی اور ہر دورہ تقریباً چھ سے سات سال کا ہوتا تھا۔[62]
آپ نے ۱۹۴۵ء سے ۱۹۶۳ء تک خارجِ فقہ بھی پڑھایا۔ آپ کا پہلا درسِ خارجِ فقہ شیخمرتضی انصاری کی کتاب "مکاسب محرمہ" سے مبحثِ خیارات تھا جو مکمل نہ ہو سکا تھا۔[63] دوسرا درسِ خارج آپ کے گھر پر ۴-۵ افراد کی موجودگی میں شروع ہوا جس میں آپ نے خارجِ زکات پڑھایا اور یہ تقریباً دو ماہ تک جاری رہا۔[64] آپ نے ۱۹۵۱ء سے ۱۹۵۸ء تک مبحثِ طهارت پڑھایا؛ جس کے بعد مکاسبِ محرمہ اور بیع کی تدریس فرمائی۔[65] تاریخ کے اس حصے میں آپ کے درس میں شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ بتائی گئی ہے۔[66]
نجف کی طرف جلاوطنی کے بعد، وہاں آپ کے درسِ فقہ کا آغاز یکم ربیع الاول ۱۳۸۵ھ (۱۹۶۵ء) کو ہوا۔ آپ نے چودہ سالہ جلاوطنی کے دور میں سے بارہ سال مکاسبِ محرمہ، مباحثِ بیع اور خیارات پڑھائے۔[67] مبحثِ بیع ختم کرنے کے بعد، عراق میں جلاوطنی کے آخری دو سالوں یعنی ۱۹۷۶ء سے ۱۹۷۸ء تک آپ نے نماز میں واقع ہونے والے خلل کے مباحث پڑھائے۔
اصولی مبانی
امام خمینی کے اصولی مبانی آپ کے استاد عبدالکریم حائری یزدی سے ماخوذ تھے اور آپ درسِ اصول میں بنیادی طور پر محمدحسین اصفہانی، میرزامحمدحسین نایینی اور ضیاءالدین عراقی کے نظریات پر نظر رکھتے تھے۔[69] شیوہ بیان کی خوبصورتی کے سبب ان دروس میں بہت سے لوگ شریک ہوتے تھے۔[70]
آپ خارجِ فقہ کی تدریس میں فقہاء کے اقوال، آیات اور روایات پیش کر کے مسائل کی جانچ کرتے تھے۔ آپ مسائل میں اجماع یا مشہور نظریات کو بھی پیش کرتے تھے۔[71] آپ کے درس کا طریقہ ایسا تھا جس سے شاگرد درجۂ اجتهاد پر فائز ہو جاتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ ان دروس سے کثیر تعداد میں شاگرد اجتہاد کے رتبے تک پہنچے۔[72]
دروس کی تالیف
فقہ و اصول کے مباحث میں امام خمینی کے تقریباً تمام دروس خود آپ کے اپنے قلم سے لکھے گئے ہیں۔[73] یہ کتابیں آپ کے اپنے قلم سے اور آپ کی تدریسِ فقہ و اصول کا نتیجہ ہیں جو زیادہ تر تدریس کے ساتھ ساتھ ہی لکھی گئیں: "کتاب الطهاره" (۴ جلدیں)؛ "المکاسب المحرمہ" (۲ جلدیں)؛ "کتاب البیع" (۵ جلدیں)؛ "الخلل فی الصلاة" (۱ جلد)؛ "ولایت فقیہ" (۱ جلد)؛ "مناهج الوصول الی علم الأصول" (۲ جلدیں)؛ "انوار الهدایة فی التعلیقة علی الکفایہ" (۲ جلدیں)؛ "الإستصحاب" (۱ جلد)؛ "التعادل و الترجیح" اور "الإجتهاد و التقلید" (۱ جلد)؛ "قاعدۀ لاضرر" (۱ جلد)؛ "بدائع الدرر فی قاعدة لاضرر" اور "رسالۂ طلب و ارادہ" (۱ جلد)؛ رسالہ فی تقیہ اور کئی دیگر مختصر فقہی و اصولی رسائل۔
بعض دیگر فقہی موضوعات پر بھی آپ کے مختصر درسی نوٹس (تقریرات) باقی ہیں جو ان مباحث میں آپ کی تدریس کی حکایت کرتے ہیں، جیسے فروعِ اجمالی، نماز مسافر اور میت کی نمازوں کی قضا۔
اخلاق
امام خمینی طلاب کے لیے علومِ عقلی و نقلی کی تدریس کے ساتھ اخلاق کا درس بھی دیتے تھے۔ آپ ہمیشہ اخلاق اور تزکیه نفس کو خاص اہمیت دیتے تھے اور آزادانہ طور پر بھی اور دوسرے دروس کے ساتھ ملا کر بھی اخلاقی موضوعات پیش کرتے تھے۔ یہ دروس حوزہ علمیہ قم میں سالہا سال تک جاری رہے۔ بعض لوگوں نے اس درس کے آغاز کو آیت اللہ حائری یزدی کی وفات کے بعد اور اس کی مدت کو آٹھ سال بتایا ہے۔[74] یہ دروس قرآن کریم کی آیات اور احادیثِ معصومینؑ پر مبنی تھے[75] اور بعض نے اس کا ماخذ کمال الدین عبدالرزاق کاشانی کی تالیف کتاب "شرح منازل السائرین" کو قرار دیا ہے۔[76] اخلاق کا درس شروع میں محدود پیمانے پر ہوتا تھا لیکن رفتہ رفتہ وسیع ہو کر عمومی شکل اختیار کر گیا، یہاں تک کہ غیر طلاب بھی اس میں شریک ہونے لگے۔[77]
امام خمینی کا درسِ اخلاق درحقیقت معارف اور سیر و سلوک کا درس تھا نہ کہ محض خشک علمی تصورات کا اخلاق، اور یہ بعض شاگردوں کو اس حد تک وجد میں لاتا تھا کہ وہ کئی دنوں تک اس کے زیرِ اثر رہتے تھے[78] اور کئی روز تک حوزہ کا ماحول بدلا رہتا تھا۔[79] اس درسِ اخلاق کا استقبال اس حد تک تھا کہ اس وقت کی حکومتی سیکیورٹی ایجنسی (ساواک) کی حساسیت بڑھ گئی اور انہوں نے اسے بند کرنے کی کوشش کی؛ کیونکہ ان دروس میں صرف اخلاقی پند و نصائح ہی نہیں ہوتے تھے بلکہ یہ سیاست کا درس بھی تھا۔[80]
امام خمینی کا درسِ اخلاق پہلے مدرسہ فیضیہ میں غروب سے ایک گھنٹہ قبل منعقد ہوتا تھا۔ بعض روایات کے مطابق اس کا وقت جمعہ کا دن بتایا گیا ہے[81] اور بعض نے اسے ہر جمعرات اور جمعہ ذکر کیا ہے[82]؛ البتہ سیکیورٹی ایجنسی کے دباؤ کے باعث اس کا مقام مدرسہ فیضیہ سے تبدیل کر کے مدرسہ حاج ملا صادق (جو مدرسہ حاجی کے نام سے معروف تھا) منتقل کر دیا گیا اور آخر کار قم کی پولیس کے ذریعے اسے بند کروا دیا گیا۔ کتاب "شرح چهل حدیث" کو حوزہ علمیہ قم میں آپ کے ان ہی اخلاقی دروس کے ایک حصے کا ثمرہ کہا جا سکتا ہے۔[83] چونکہ امام خمینی بعض اوقات اپنے دوسرے دروس کے آغاز میں بھی اخلاقی مواعظ فرماتے تھے، اس لیے کتاب "جہادِ اکبر یا مبارزہ با نفس" میں موجود نکات دراصل حوزہ علمیہ نجف میں دیے گئے آپ کے ان ہی مواعظ اور اخلاقی دروس کا مجموعہ ہیں۔[84]
دیگر علوم
مختلف بکھری ہوئی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام خمینی نے بعض دیگر علوم میں بھی تدریس کی؛ جیسے منطق میں "شرح شمسیہ" اور سبزواری کی شرح منظومہ کے حصۂ منطق کی تدریس[85] اور علمِ کلام میں کتاب "شوارق الالہام" کی تدریس جو چند مخصوص افراد جیسے محمدصادق خلخالی اور حسن نوری کے لیے نجی طور پر ہوتی تھی[86]؛ اس کے علاوہ پیروزئ انقلابِ اسلامی کے بعد، قم میں آپ کے سورہ حمد کی زبانی اور شفاہی تفسیر کے پانچ سیشنز بھی کلاس کی شکل میں ریکارڈ کیے گئے جو بعد میں سیمائے جمہوریہ اسلامی ایران (ٹی وی) سے نشر کیے گئے۔
حوالہ جات
- ↑ رضایی، شیوههای تحصیل، ۲۹ اور ۳۲۔
- ↑ ضوابطی، پژوهشی در نظام طلبگی، ۳۲، ۸۷، ۲۰۰ اور ۲۰۱۔
- ↑ شریعتی، روش شناخت اسلام، ۴۵۹–۴۶۱۔
- ↑ فراهانی، سلسله موی دوست، ۳۳، ۴۶، ۸۴، ۸۷ اور ۱۷۶۔
- ↑ امینی، خاطرات، ۸۹۔
- ↑ جوادی آملی، بنیان مرصوص، ۲۷۔
- ↑ سبحانی، پابهپای آفتاب، ۴/۲۰۴ اور ۲۰۷؛ معرفت، آیینهداران حقیقت، ۱/۶۲۵۔
- ↑ خزعلی، مصاحبه، ۴/۳۸۔
- ↑ سبحانی، پابهپای آفتاب، ۴/۲۰۷–۲۰۸۔
- ↑ رجایی، برداشتهایی از سیره امامخمینی، ۵/۸۴۔
- ↑ رجایی، برداشتهایی از سیره امامخمینی، ۵/۸۵ اور ۸۶۔
- ↑ محتشمیپور، خاطرات سیاسی، ۱/۱۲۶؛ معرفت، آیینهداران حقیقت، ۱/۳۲۔
- ↑ روحانی، نهضت امامخمینی، ۱/۵۹؛ هاشمی رفسنجانی، امام به روایت، ۲۵۵۔
- ↑ رجایی، برداشتهایی از سیره امامخمینی، ۵/۷۱–۷۲۔
- ↑ عمید زنجانی، پابهپای آفتاب، ۵/۱۲۔
- ↑ فاضل، حوزه، ۱۲۹۔
- ↑ عمید زنجانی، حوزه، ۱۱۲۔
- ↑ فاضل، پابهپای آفتاب، ۵/۱۲۱؛ سبحانی، پابهپای آفتاب الرسمی، ۴/۲۰۸۔
- ↑ گرامی، خاطرات، ۱۷۵–۱۷۶؛ امینی، خاطرات، ۸۹۔
- ↑ منتظری، خاطرات، ۱/۹۱–۹۲۔
- ↑ انتشاری، خاطرات، ۳۵؛ امینی، خاطرات، ۹۰۔
- ↑ ناصری، خاطرات، ۲۴۲۔
- ↑ بنیفضل، خاطرات، ۱۱۲۔
- ↑ سبحانی، پابهپای آفتاب، ۴/۲۰۸۔
- ↑ بنیفضل، خاطرات، ۱۱۲۔
- ↑ غیوری، مصاحبه، ۵/۹۲۔
- ↑ رودباری، خاطرات، ۱/۷۰–۷۱۔
- ↑ رودباری، خاطرات، ۱/۷۰–۷۱۔
- ↑ رجایی، برداشتهایی از سیره امامخمینی، ۵/۸۳–۸۴۔
- ↑ ثقفی، مصاحبه، ۱/۵۱۔
- ↑ منتظری،سلسله موی دوست، ۲۱۷ اور ۲۱۸؛ احمدی، خاطرات، ۱۲، ۲۶؛ امینی، خاطرات، ۲۷ اور ۳۲؛ سبحانی، سلسله موی دوست، ۱۲۷۔
- ↑ ضیایی، نهضت فلسفی امامخمینی، ۱۱۔
- ↑ روحانی، نهضت امامخمینی، ۱/۵۵۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۹/۴۲۷۔
- ↑ مؤسسه تنظیم، مقدمه تقریرات فلسفه، ۱/۱۳۔
- ↑ آشتیانی، سلسله موی دوست، ۲؛ آشتیانی، پابهپای آفتاب، ۳/۱۹۵؛ آشتیانی، در رثای امام، ۴۔
- ↑ مؤسسه تنظیم، مقدمه تقریرات فلسفه، ۱/۱۳۔
- ↑ خمینی، تعلیقات علی الحکمة المتعالیه، ۵۹۷۔
- ↑ مؤسسه تنظیم، مقدمه تقریرات فلسفه، ۱/۱۷۔
- ↑ فراهانی، سلسله موی دوست، ۵۱، ۵۲، ۲۱۴ اور ۲۱۵۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۹/۴۲۷۔
- ↑ سبحانی، پابهپای آفتاب، ۴/۲۰۹؛ ملکوتی، خاطرات، ۳۴–۳۵۔
- ↑ دوانی، امامخمینی در آئینه خاطرهها، ۴۶؛ طباطبایی، بررسیهای اسلامی، ۲/۲۸۲۔
- ↑ بدلا، هفتاد سال خاطره، ۲۳۰۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۲۱/۲۷۹۔
- ↑ دوانی، امامخمینی در آئینه خاطرهها، ۹۲۔
- ↑ ملکوتی، خاطرات، ۳۲۔
- ↑ روحانی، نهضت امامخمینی، ۱/۵۵–۵۶۔
- ↑ آشتیانی، پابهپای آفتاب، ۳/۱۹۵؛ امامخمینی، صحیفه، ۱۹/۴۲۷۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱/۴ اور ۱۴۔
- ↑ آشتیانی،سلسله موی دوست، ۲–۳۔
- ↑ موسوی اردبیلی، خاطرات، ۲۲۱۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۸/۴۴۲–۴۵۷؛ ۱۹/۹۰، ۹۱؛ ۲۰/۱۶۴–۱۶۸ اور ۲۱/۲۳۷، ۲۳۸۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۹/۴۲۷۔
- ↑ شبیری زنجانی، جرعهای از دریا، ۱/۵۹۰۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۹/۴۲۷۔
- ↑ مرتضوی، مصاحبه، ۵/۱۹۹۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۹/۴۲۷–۴۲۸۔
- ↑ مؤسسه تنظیم، مقدمه جواهر الاصول، ۱/۶۔
- ↑ سبحانی، مقدمه لمحات الاصول، ۳۱–۳۳۔
- ↑ سبحانی، سلسله موی دوست، ۱۲۸۔
- ↑ سبحانی، پابهپای آفتاب، ۴/۲۰۰؛ سبحانی، مقدمه لمحات الاصول، ۳۲۔
- ↑ صابری همدانی، خاطرات، ۴۹–۵۰۔
- ↑ منتظری، خاطرات، ۱/۱۹۳–۱۹۴۔
- ↑ مؤسسه تنظیم، مقدمه الخلل، ۹؛ سبحانی، پابهپای آفتاب، ۴/۲۰۰۔
- ↑ مؤسسه تنظیم، سیر مبارزات، ۱/۳۸۔
- ↑ موسوی بجنوردی، مصاحبه، ۴/۲۰۵۔
- ↑ مؤسسه تنظیم، مقدمه الخلل، ۹۔
- ↑ گرامی، خاطرات، ۱۷۲–۱۷۳۔
- ↑ آشتیانی، پابهپای آفتاب، ۳/۱۹۴–۱۹۵؛ روحانی، نهضت امامخمینی، ۱/۵۸۔
- ↑ عراقچی، خاطرات، ۱۷۱–۱۷۲۔
- ↑ آشتیانی، پابهپای آفتاب، ۳/۱۹۵؛ روحانی، نهضت امامخمینی، ۱/۵۸۔
- ↑ بنیفضل، خاطرات، ۱۱۲۔
- ↑ ذاکری، طلوع خورشید، ۲۶۱–۲۶۳؛ سبحانی، پابهپای آفتاب، ۴/۱۹۵۔
- ↑ امینیان،سلسله موی دوست، ۳۲؛ سبحانی،سلسله موی دوست، ۱۲۸۔
- ↑ خوانساری، خاطرات، ۹۲–۹۳۔
- ↑ روحانی، نهضت امامخمینی، ۱/۵۶؛ امینیان،سلسله موی دوست، ۳۲؛ ملکوتی، خاطرات، ۳۵۔
- ↑ مطهری، ۱/۴۴۱؛ جوادی آملی، بنیان مرصوص، ۲۸۔
- ↑ شبیری زنجانی، جماران۔
- ↑ بدلا،سلسله موی دوست، ۴۸؛ یثربی، خاطرات، ۲۵۵۔
- ↑ امینیان،سلسله موی دوست، ۳۲۔
- ↑ مطهری، مجموعه آثار، ۱/۴۴۱۔
- ↑ مؤسسه تنظیم، مقدمه چهل حدیث، ۱۔
- ↑ مؤسسه تنظیم، مقدمه جهاد اکبر، ۸۔
- ↑ صبوری قمی، مصاحبه، ۱۴۔
- ↑ امینیان، رخ نگار، ۱۴۰۔
مآخذ
- قرآن کریم۔
- آشتیانی، سید جلال الدین، مصاحبہ، چاپ شدہ در پابهپای آفتاب، تدوین امیر رضا ستودہ، تہران، پنجرہ، طباعتِ جدید، ۱۳۸۰ش۔
- آشتیانی، سید جلال الدین، در رثای امام عارفان، مجلہ کیہان اندیشہ، شمارہ ۲۴، ۱۳۶۸ش۔
- آشتیانی، سید جلال الدین، خاطرات، چاپ شدہ در سلسلہ موی دوست، خاطرات دوران تدریس امام خمینی، تدوین مجتبی فراہانی، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی(س)، طباعت اول، ۱۳۸۳ش۔
- احمدی، حمید، خاطرات، چاپ شدہ در سلسلہ موی دوست، خاطرات دوران تدریس امام خمینی، تدوین مجتبی فراہانی، تہران، مؤسسہ تنظیم …، طباعت اول، ۱۳۸۳ش۔
- ادارہ کل امور فرهنگی و روابط عمومی مجلس شورای اسلامی، صورت مشروح مذاکرات مجلس بررسی نهایی قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، تہران، طباعت اول، ۱۳۶۴ش۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، استفتائات، قم، دفتر انتشارات اسلامی، طباعت اول, ۱۳۸۱ش۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، تحریر الوسیله، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، طباعت اول، ۱۳۷۹ش۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، صحیفہ امام، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، طباعت پنجم، ۱۳۸۹ش۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، المکاسب المحرمه، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، طباعت دوم، ۱۳۸۵ش۔
- امینی، ابراہیم، خاطرات آیت اللہ ابراہیم، حاج امینی نجف آبادی، تہران، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، طباعت اول، ۱۳۹۲ش۔
- امینیان، محمد علی، خاطرات، چاپ شدہ در سلسلہ موی دوست، خاطرات دوران تدریس امام خمینی، تدوین مجتبی فراہانی، تہران، مؤسسہ تنظیم …، طباعت اول، ۱۳۸۳ش۔
- امینیان، محمد علی، رخ نگار در صفای آستانہ، خاطرات آیت اللہ محمد علی امینیان، تدوین محمد ہادی فلاح، تہران، مؤسسہ تنظیم …، طباعت اول، ۱۳۹۵ش۔
- انتشاری، علی، خاطرات، چاپ شدہ در سلسلہ موی دوست، خاطرات دوران تدریس امام خمینی، تدوین مجتبی فراہانی، تہران، مؤسسہ تنظیم …، طباعت اول, ۱۳۸۳ش۔
- بدلا، حسین، خاطرات، چاپ شدہ در سلسلہ موی دوست، خاطرات دوران تدریس امام خمینی، تدوین مجتبی فراہانی، تہران، مؤسسہ تنظیم …، طباعت اول، ۱۳۸۳ش۔
- بدلا، حسین، هفتاد سال خاطره از آیت اللہ سید حسین بدلا، تہران، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، طباعت اول، ۱۳۷۸ش۔
- بوداغیانس، آرمان، گل مریم: بررسی نقش ارامنه ایران در هشت سال دفاع مقدس، قم، نسیم حیات با همکاری صریر، طباعت اول، ۱۳۸۵ش۔
- بنی فضل، مرتضی، خاطرات آیت اللہ مرتضی بنی فضل، بہ کوشش عبد الرحیم اباذری، تہران، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، طباعت اول، ۱۳۸۶ش۔
- جمالی، حسین و حسین خانی، اتحادیہ اروپا، ترکیہ و تحول در حقوق فرهنگی کردهای ترکیہ ۱۹۹۱-۲۰۰۲، مجلہ پژوهشنامہ علوم سیاسی، شمارہ ۱۴، ۱۳۸۸ش۔
- جمہوری اسلامی، روزنامہ، ۱۴/۷/۱۳۵۹ش۔
- جوادی آملی، عبد اللہ، بنیان مرصوص، امام خمینی قدس سرہ در بیان و بنان آیت اللہ جوادی آملی، قم، اسراء، طباعت ہشتم، ۱۳۸۴ش۔
- حر عاملی، محمد بن حسن، تفصیل وسائل الشیعة الی تحصیل مسائل الشریعه، قم، مؤسسہ آل البیت (ع)، طباعت اول، ۱۴۰۹ق۔
- حلی، علامہ، حسن بن یوسف، تذکرة الفقهاء، قم، مؤسسہ آل البیت (ع)، طباعت اول، ۱۴۱۴ق۔
- خزعلی، ابوالقاسم، مصاحبہ، چاپ شدہ در پابهپای آفتاب، تدوین امیر رضا ستودہ، تہران، پنجرہ، طباعت اول، ۱۳۸۰ش۔
- خمینی، سید مصطفی، تعلیقات علی الحکمة المتعالیه، تہران، مؤسسہ تنظیم …، طباعت اول، ۱۳۷۶ش۔
- خوانساری، سید مصطفی، خاطرات، چاپ شدہ در سلسلہ موی دوست، خاطرات دوران تدریس امام خمینی، تدوین مجتبی فراہانی، تہران، مؤسسہ تنظیم …، طباعت اول، ۱۳۸۳ش۔
- دهخدا، علی اکبر، لغتنامہ دهخدا، تہران، یونیورسٹی تہران، طباعت اول، ۱۳۷۳ش۔
- دوانی، علی، امام خمینی در آئینه خاطرهها، تہران، مطہر، طباعت اول، ۱۳۷۳ش۔
- ذاکری، علی اکبر، طلوع خورشید، سال شمار زندگانی امام خمینی قدس سرہ، قم، بوستان کتاب، طباعت جدید، ۱۳۹۱ش۔
- رجایی، غلامعلی، برداشتهایی از سیره امام خمینی، تہران، عروج، طباعت اول، ۱۳۷۹ش۔
- رضایی اصفهانی، محمد علی، شیوههای تحصیل و تدریس در حوزههای علمیه، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، طباعت اول، ۱۳۷۶ش۔
- روحانی، سید حمید، نهضت امام خمینی، تہران، عروج، طباعت پانزدہم، ۱۳۸۱ش۔
- رودباری، مجتبی، خاطرات، چاپ شدہ در صحیفہ دل، بہ کوشش حمید بصیرت منش و دیگران، تہران، مؤسسہ تنظیم …، طباعت اول، ۱۳۷۷ش۔
- زرنی، ماونگ، ناسیونالیسم بودایی در میانمار: نسلکشی و نژادپرستی نهادینه علیه مسلمانان روهینگیا، ترجمہ جواد طاہری، مجلہ سیاحت غرب، شمارہ ۱۱۸-۱۹، ۱۳۹۲ش۔
- سبحانی، جعفر، خاطرات، چاپ شدہ در سلسلہ موی دوست، خاطرات دوران تدریس امام خمینی، تدوین مجتبی فراہانی، تہران، مؤسسہ تنظیم …، طباعت اول، ۱۳۸۳ش۔
- سبحانی، جعفر، مصاحبہ، چاپ شدہ در پابهپای آفتاب، تدوین امیر رضا ستودہ، تہران، پنجرہ، طباعت اول، ۱۳۸۰ش۔
- سبحانی، جعفر، مقدمہ کتاب لمحات الاصول، تقریر امام خمینی، تہران، مؤسسہ تنظیم …، طباعت جدید، ۱۳۸۷ش۔
- شبیری زنجانی، سید موسی، پایگاه اطلاعرسانی و خبری جماران، ۱۸/۱/۱۳۹۸۔
- شبیری زنجانی، سید موسی، جرعهای از دریا، قم، مؤسسہ کتابشناسی شیعہ، طباعت اول، ۱۳۸۹ش۔
- شریعتی، علی، روش شناخت اسلام، تہران، چاپخش، طباعت چہارم، ۱۳۷۹ش۔
- شریعتی، روح اللہ، حقوق و وظایف غیر مسلمانان در جامعه اسلامی، قم، بوستان کتاب، طباعت اول، ۱۳۸۱ش۔
- صابری ہمدانی، احمد، خاطرات آیت اللہ صابری ہمدانی، تدوین سید مصطفی سید صادقی، تہران، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، طباعت اول، ۱۳۸۴ش۔
- صبوری قمی، جعفر، مصاحبہ، مجلہ حوزہ، شمارہ ۸۴، ۱۳۷۶ش۔
- ضوابطی، مہدی، پژوهشی در نظام طلبگی، تہران، بنگاہ ترجمہ و نشر کتاب، ۱۳۵۹ش۔
- ضیایی، علی اکبر، نهضت فلسفی امام خمینی، تہران، مؤسسہ تنظیم …، طباعت اول، ۱۳۸۱ش۔
- طباطبایی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی، طباعت پنجم، ۱۴۱۷ق۔
- طباطبایی، سید محمد حسین، بررسیهای اسلامی، بہ کوشش سید ہادی خسروشاہی، قم، بوستان کتاب، طباعت اول، ۱۳۸۷ش۔
- طوسی، محمد بن حسن، المبسوط فی فقه الامامیه، تحقیق سید محمد تقی کشفی، تہران، مرتضوی، طباعت سوم، ۱۳۸۷ق۔
- طوسی، محمد بن حسن، النهایة فی مجرد الفقه و الفتاوی، بیروت، دار الکتاب العربی، طباعت جدید، ۱۴۰۰ق۔
- عراقچی، علی، پرتو آفتاب، خاطرات حضرت آیت اللہ حاج شیخ علی عراقچی، بہ کوشش عبد الرحیم اباذری، تہران، مؤسسہ تنظیم …، طباعت اول، ۱۳۸۹ش۔
- عمید زنجانی، عباسعلی، روایتی از انقلاب اسلامی ایران، خاطرات حجت الاسلام و المسلمین عباسعلی عمید زنجانی، تدوین و تحقیق حاجی بیگی کندری, تہران، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، طباعت اول، ۱۳۷۹ش۔
- عمید زنجانی، عباسعلی، مصاحبہ، چاپ شدہ در پابهپای آفتاب، تدوین امیر رضا ستودہ، تہران، پنجرہ، طباعت اول، ۱۳۸۰ش۔
- عمید زنجانی، عباسعلی، مصاحبہ، مجلہ حوزہ، شمارہ ۳۷-۳۸، ۱۳۶۹ش۔
- عمید زنجانی، عباسعلی، امام علی (ع) و حقوق اقلیتها، مجلہ کتاب نقد، شمارہ ۱۸، ۱۳۸۰ش۔
- غیوری، سید علی، مصاحبہ، چاپ شدہ در پابهپای آفتاب، تدوین امیر رضا ستودہ، تہران، پنجرہ، طباعت اول، ۱۳۸۰ش۔
- فاضل لنکرانی، محمد، مصاحبہ، چاپ شدہ در پابهپای آفتاب، تدوین امیر رضا ستودہ، تہران، پنجرہ، طباعت اول، ۱۳۸۰ش۔
- فاضل لنکرانی، محمد، مصاحبہ، مجلہ حوزہ، شمارہ `۳۲، ۱۳۶۸ش۔
- فراہانی، مجتبی، سلسلہ موی دوست، خاطرات دوران تدریس امام خمینی، تہران، مؤسسہ تنظیم …، طباعت اول، ۱۳۸۳ش۔
- فولر، گراہم و رند رحیم فرانک، شیعیان عربستان سعودی، ترجمہ خدیجہ تبریزی، مجلہ شیعہشناسی، شمارہ ۸، ۱۳۸۳ش۔
- گرامی، محمد علی، خاطرات آیت اللہ محمد علی گرامی، تدوین محمد رضا احمدی، تہران، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، طباعت اول، ۱۳۸۱ش۔
- محتشمی پور، سید علی اکبر، خاطرات سیاسی، تہران، حوزہ هنری ادبیات انقلاب اسلامی، طباعت اول، ۱۳۷۶ش۔
- محمدی گیلانی، محمد، ملازم ولی خدا، مجله شاہد یاران، شمارہ ۱۶، ۱۳۵۸ش۔
- مرتضوی لنگرودی، سید محمد حسن، مصاحبہ، چاپ شدہ در پابهپای آفتاب، تدوین امیر رضا ستودہ، تہران، پنجرہ، طباعت اول، ۱۳۸۰ش۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، طباعت پنجاہ و یکم، ۱۳۸۶ش۔
- مطهری، مرتضی، مجموعه آثار استاد شهید مطهری، تہران، صدرا، طباعت دہم، ۱۳۸۰ش۔
- معرفت، ہادی، آیینهداران حقیقت، مصاحبههای مجله حوزه، بوستان کتاب، طباعت اول، ۱۳۸۱ش۔
- ملکوتی، مسلم، خاطرات آیت اللہ مسلم ملکوتی، تدوین عبد الرحیم اباذری، تہران، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، طباعت اول، ۱۳۸۵ش۔
- مناقبی، محمد تقی، اقلیتها و نقض حقوق بشر در افغانستان، مجلہ سفیر، شمارہ ۱۲، ۱۳۸۸ش۔
- منصور نژاد، محمد، بررسی ریشههای همگرایی بین اهل کتاب با سایر ایرانیان در دفاع مقدس، مجلہ مطالعات ملی، شمارہ ۲۲، ۱۳۸۴ش۔
- منتظری، حسینعلی، خاطرات آیت اللہ منتظری، قم، بے نام، ۱۳۷۹ش۔
- منتظری، حسینعلی، خاطرات، چاپ شدہ در سلسلہ موی دوست، خاطرات دوران تدریس امام خمینی، تدوین مجتبی فراہانی، تہران، مؤسسہ تنظیم …، طباعت اول، ۱۳۸۳ش۔
- میر محمدی، سید مصطفتی، عدم ممنوعیت حجاب اسلامی از منظر حقوق بینالملل اقلیتها، مجلہ مطالعات راهبردی زنان، شمارہ ۳۷، ۱۳۸۶ش۔
- مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، سیر مبارزات امام خمینی در آینه اسناد به روایت ساواک، تہران، طباعت اول، ۱۳۸۶ش۔
- مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، مقدمہ کتاب الخلل فی الصلوة، تألیف امام خمینی، تہران، طباعت اول، ۱۳۷۸ش۔
- مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، مقدمہ کتاب تقریرات فلسفه امام خمینی، تقریر سید عبد الغنی اردبیلی، تہران، طباعتِ جدید، ۱۳۸۵ش۔
- مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، مقدمہ کتاب جهاد اکبر، تألیف امام خمینی، تہران، طباعت ہجدہم، ۱۳۸۷ش۔
- مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، مقدمہ کتاب جواهر الاصول، تألیف امام خمینی، تہران، طباعتِ جدید، ۱۳۸۶ش۔
- مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، مقدمہ کتاب شرح چهل حدیث، تألیف امام خمینی، تہران، طباعت چہارم، ۱۳۸۸ش۔
- مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، مقدمہ کتاب مصباح الهدایة الی الخلافة و الولایه، تألیف امام خمینی، تہران، طباعت ششم، ۱۳۸۶ش۔
- موسوی اردبیلی، سید عبد الکریم، خاطرات، چاپ شدہ در سلسلہ موی دوست، خاطرات دوران تدریس امام خمینی، تدوین مجتبی فراہانی، تہران، مؤسسہ تنظیم …، طباعت اول، ۱۳۸۳ش۔
- موسوی بجنوردی، سید محمد، مصاحبہ، چاپ شدہ در پابهپای آفتاب، تدوین امیر رضا ستودہ، تہران، پنجرہ، طباعت اول، ۱۳۸۰ش۔
- نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام فی شرح شرائع الاسلام، تحقیق عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، طباعت ہفتم، ۱۴۰۴ق۔
- ناصری، محمد رضا، خاطرات، چاپ شدہ در سلسلہ موی دوست، خاطرات دوران تدریس امام خمینی، تدوین مجتبی فراہانی، تہران، مؤسسہ تنظیم …، طباعت اول، ۱۳۸۳ش۔
- نوری، میرزا حسین، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، قم، مؤسسہ آل البیت (ع)، طباعت اول، ۱۴۰۸ق۔
- نهج البلاغه، ترجمہ سید جمال الدین دین پرور، تہران، بنیاد نهج البلاغہ، طباعت اول، ۱۳۷۹ش۔
- ہاشمی رفسنجانی، اکبر، امام به روایت آیت اللہ هاشمی رفسنجانی، عبد الرزاق اهوازی، مؤسسہ تنظیم …، طباعت اول، ۱۳۸۵ش۔
- یثربی، مہدی، خاطرات، چاپ شدہ در سلسلہ موی دوست، خاطرات دوران تدریس امام خمینی، تدوین مجتبی فراہانی، تہران، مؤسسہ تنظیم …، طباعت اول، ۱۳۸۳ش۔
- یزدی، محمد، شرح و تبیین قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، قم، نشر امام عصر (عج)، طباعت اول، ۱۳۸۲ش۔
بیرونی روابط
- محمد مرادی، «تدریس امامخمینی»، دانشنامہ امام خمینی، جلد ۳، صفحہ ۲۹۱–۳۰۱۔