عوامی متحرک سازی
عوامی متحرک سازی (بسیج عمومی)، کسی بھی بحران یا مشکل کے حل کے لیے عوامی طاقت کو منظم کرنا اور انھیں پکارنا۔
لغوی اعتبار سے 'بسیج' کا مطلب فوجی دستوں کو منظم کرنا اور جنگ کے تمام تر جنگی ساز و آسان کو تیار کرنا ہے۔ تاہم، امامخمینی کی فکر میں 'بسیجِ عمومی' کا تصور ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے باہمی تعاون اور یکجتی کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ آپ بسیج کی جڑیں انبیاء علیہم السلام کی رسالت اور بنیادی اصولِ اسلام میں تلاش کرتے تھے اور آپ کا عقیدہ تھا کہ صدرِ اسلام (ابتدائی اسلامی دور) میں مسجد ہی عوامی متحرک سازی (بسیج) کا اصل ہیڈکوارٹر تھی۔ اسی تاریخی نمونے کو مشعلِ راہ بنا کر آپ نے عوام میں فکری اور عملی بیداری پیدا کی اور تین اہم مراحل—یعنی تحریکِ اسلامی، بقائے انقلاب، اور تحمیلی جنگ—میں معاشرے کو درپیش بحرانوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
اگرچہ امام خمینی بسیج کا سب سے اہم کام انقلاب کا تحفظ سمجھتے تھے، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اس کے سیاسی، ثقافتی، اقتصادی اور فوجی پہلوؤں اور کارکردگی کے بھی قائل تھے۔
امام خمینی انقلاب کی حمایت میں اٹھنے والی اس عوامی لہر کو محض ایک سرکاری ادارے تک محدود نہیں دیکھتے تھے بلکہ اسے اس سے کہیں بالاتر سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے بسیج کو 'شجرہ طیبہ' (پاکیزہ درخت)، 'مدرسہ عشق'، 'میقاتِ پابرہنگان' (مستضعفین و غریبوں کی میقات)، 'پاکیزہ اسلامی فکر کی معراج' اور 'لشکرِ مخلصِ خدا' جیسے بلند پایہ خطابات سے نوازا اور بسیجیوں کے اخلاص اور صفائے قلب کی ہمیشہ تعریف کی۔
مفہوم شناسی
لفظ 'بسیج' کے معنی فوجی دستوں اور جنگی ساز و سامان کو منظم و تیار کرنے کے ہیں۔[1] جبکہ 'بسیجِ عمومی' سے مراد رضا کار عوامی قوتوں کو منظم انداز میں تیار کرنا ہے تاکہ وہ فوجی، ثقافتی، سماجی، اقتصادی اور سیاسی میدانوں میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔[2] امام خمینی کے کلام میں 'بسیجِ عمومی' کا استعمال ملک کی تعمیرِ نو کے لیے باہمی تعاون اور یکجتی کے مفہوم میں ہوا ہے۔[3]
پس منظر
یہی مساجد اسلام کے ہیڈکوارٹرز ہیں۔ صدرِ اسلام میں مساجد ہی سے لشکر روانہ ہوا کرتے تھے۔ یعنی جب نمازِ جمعہ قائم ہوتی تھی، تو اسی نمازِ جمعہ کے اجتماع سے اسلام کے دشمنوں کے خلاف مختلف قبائل کو متحرک (بسیج) کیا جاتا تھا۔ مساجد ہی اصل مرکز (اسٹیٹ) تھیں۔
صحیفه امام، ج۱۲، ص۳۹۱۔
کسی اعلیٰ اور قیمتی ہدف کے حصول کے لیے عوام اور وسائل کو یکجا و متحرک کرنا دنیا کی مختلف اقوام کی تاریخ میں بہت گہرا اور پرانا ہے۔ حضرت بنی اسرائیل کا طالوت کے ہاتھوں فرعون کے خلاف متحد ہونا[4] اور پیامبر اکرم(ص) کی قیادت میں مشرکینِ مکہ کے خلاف مسلمانوں کی صف بندی،[5] عوامی تنظیم نو کی بہترین تاریخی مثالیں ہیں۔
حالیہ صدیوں میں بھی، مروجہ حکومتوں کے خلاف انقلاب کو برپا کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنا اور وسائل کو تیار کرنا سب سے اہم شرط رہا ہے۔ 1789ء کے انقلابِ فرانس میں شاہی حکومت (لوئی سولہویں) کے خلاف ریپبلکنز کی جانب سے عوامی تودوں کو متحرک کرنا[6] اور 1917ء کے روسی سوشلسٹ انقلاب میں زارِ روس کی سلطنت کے خلاف عوامی بیداری، انقلابات میں عوامی طاقت کے غلبے کی روشن تاریخی مثالیں ہیں۔[7]
ایران میں بھی عوامی بیداری اور تحرک کا عمل بالخصوص علماء کی کوششوں سے ظالم حکومتوں کے خلاف ہمیشہ ہوتا رہا ہے۔ اس کی واضح ترین مثالوں میں روس اور ایران کی دوسری جنگ کے دوران عوامی طاقت کو منظم کرنے میں علماء کا کردار،[8] تحریکِ تمباکو کے دوران تحریکِ تمباکو میں میرزای شیرازی کے فتوے اور علماء کی روشنگری کے نتیجے میں قاجار دورِ حکومت کے خلاف عوام کا کھڑا ہونا، اور تحریکِ مشروطہ کے مقاصد کے لیے عوام کے مختلف طبقات کو منظم کرنا[9] شامل ہیں۔
اسی طرح صنعتِ تیل کو قومیانے کے معاملے میں بھی عوامی رائے عامہ کو اسی حربے کے ذریعے استعمال کیا گیا۔ اس دور میں محمد مصدق اور سیدابوالقاسم کاشانی نے عوام کو متعدد ریلیوں اور سماجی میدان میں آنے کی دعوت دے کر صنعتِ تیل کو قومیانے کی راہ ہموار کی۔
1953ء کی 28 مرداد فوجی بغاوت کے بعد سیاسی گھٹن اور سرکوب کا ایک دور آیا جس سے یہ سلسلہ کچھ عرصے کے لیے رک گیا؛ لیکن 1963ء سے امام خمینی کی تقاریر اور لائحہ کاپیتولاسیون، پہلوی حکومت کے رژیم اسرائیل کے ساتھ تعلقات،[10] اندرونی جابرانہ پالیسیوں،[11] اقتصادی مسائل[12] اور رژیمِ پہلوی کی ثقافت دشمن اور ثقافتی یلغار کے خلاف روشنگری کے بعد[13]
عوامی تودے اسلام کے محور پر دوبارہ منظم ہونا شروع ہوئے۔ امامخمینی نے تحریک کے دوران عوام کے مذہبی جذبات اور عقیدے کی طاقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر طبقے، عقیدے اور رجحان کے سیاسی و سماجی دھاروں کو یکجا کر دیا۔ انقلابِ اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد بھی آپ نے اسی عوامی طاقت کے بلبوتے پر ایک نوپائے اور بکھرے ہوئے معاشرے کو استحکام بخشا۔
مقام اور اہمیت
اور اپنے بیانات کے ذریعے، ان تیار لوگوں کو جنھوں نے اپنا راستہ اچھی طرح پا لیا ہے، عام طور پر متحرک (بسیج) کریں اور سب ایک دل اور ایک سمت ہو کر لوٹ مار اور جرائم کے اس بساط کو لپیٹنے کے لیے ہم آواز ہو جائیں، اور اللہ کی لایزال طاقت پر بھروسا کرتے ہوئے فساد کی اس بوسیدہ جڑ کو اکھاڑ پھینکیں، اور مظلوم ملت کو اندرونی و بیرونی استعمار کے چنگل سے نجات دلائیں۔
صحیفه امام، ج۳، ص۴۳۷۔
امام خمینی کے نزدیک بسیج کا سرچشمہ انبیاء کی رسالت، اصلِ اسلام اور عہدِ رسالت مآب (ص) سے جڑا ہوا ہے۔[14] مدینہ ہجرت کے ابتدائی دنوں میں جب مسلمانوں کو مشرکین کا مقابلہ کرنے کے لیے آیات نازل ہوئیں،[15] تو آپ (ص) نے اسلامی ریاست کے دفاع کے لیے مہاجرین اور انصار کے درمیان عوامی فراخوانی اور بسیج کا آغاز کیا۔[16] امام خمینی کی نظر میں مسجد صدرِ اسلام میں عوامی متحرک سازی کا مرکز تھی جہاں سے آنحضرت (ص) اہم امور کے لیے قبائل اور عوام کو منظم فرماتے تھے[17] مثال کے طور پر آپ (ص) نے سماجی انصاف کے قیام کے لیے مکہ کے طبقاتی اور اشرافیہ نظام کے خلاف غریب عوام کو متحد و متحرک کیا۔[18]
امام خمینی عوامی بسیج کو اللہ کی بے پایاں طاقت پر بھروسا کرنے والی قوت اور ملک کو استعمار و استحصال کے چنگل سے نجات دلانے کا ذریعہ سمجھتے تھے، جس کے ذریعے ملک سے لوٹ مار اور جرائم کا خاتمہ ممکن تھا۔[19] آپ کا ماننا تھا کہ انقلاب کے بعد کی تباہ حالی اور افراتفری سے نجات اور مختلف ابعاد میں ایران کی تعمیرِ نو صرف اور صرف عوامی متحرک سازی اور معاشرے کے تمام طبقات کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔[20]
بسیجی ثقافت کی پہچان دین و وطن کی راہ میں ایثار و قربانی، دنیاوی چمک دمک سے بے نیازی، اور قومی جذبے کی تقویت جیسی خصوصیات سے ہوتی ہے[21]؛ یہ وہ ثقافت ہے جس نے دفاعِ مقدس (ایران عراق جنگ) کے دوران مزید گہرائی حاصل کی اور یہ انقلابِ اسلامی کی مضبوط پشت پناہ بن گئی۔[22] اس ثقافت میں عقل اور دین ایک دوسرے کے ہمنوا ہو جاتے ہیں کیونکہ دونوں کی بنیاد ایک ہی ہے جسے فطرت کہتے ہیں۔[23] بسیجی ثقافت میں اعلیٰ ترین انسانی اقدار پروان چڑھتی ہیں اور معاشرے کی عمومی حرکت آرمان گرا (نظریاتی)، ظلم ستیز (ظلم کے خلاف) اور معنوی و انسانی اقدار سے متاثر ہوتی ہے۔[24] امام خمینی بسیج کی ثقافت کی اساس اسلام اور ملک کی راہ میں عوام کی فداکاری کو مانتے تھے[25] اور ان کا عقیدہ تھا کہ بسیجی ثقافت میں ایثار، اخلاص، فداکاری، شہادت طلبی[26] اور خود سازی و تزکیہ نفس[27] نمایاں خصوصیات ہیں۔ اگر یہ ثقافت ملک پر حاکم ہو جائے تو کوئی بھی آفت انقلابِ اسلامی کے اس توانا درخت کو نقصان نہیں پہنچا سکتی اور اگر کسی ملک میں بسیج کی دلنشین صدا گونج اٹھے، تو دشمنوں کی طمع کار نظریں اس سے دور رہیں گی۔[28] آپ نے بسیج کے لیے شجرہ طیبہ، مدرسه عشق، میقات پابرهنگان، معراج اندیشه پاک اسلامی اور لشکر مخلص خدا جیسے کلمات استعمال کیے اور ہمیشہ بسیجیوں کے اخلاص پر رشک کرتے ہوئے دعا فرماتے تھے کہ خدا ان کا حشر بسیجیوں کے ساتھ کرے اور وہ خود ایک بسیجی ہونے پر فخر کرتے تھے۔[29]
عوامی متحرک سازی (بسیج) کا کردار
امام خمینی نے وقت کے تقاضوں اور معاشرے کی ضرورتوں کو بھانپتے ہوئے تین اہم ترین مراحل—یعنی تحریکِ اسلامی، تحفظِ انقلاب اور تحمیلی جنگ—میں عوام کی فکری اور عملی بسیج کے ذریعے معاشرے کو درپیش بحرانوں کا مقابلہ کیا:
تحریکِ اسلامی (نهضت اسلامی)
بھروسا خدا پر ہونا چاہیے اور خدمت خدا کے لیے؛ ایسی خدمت جو جہاں بھی کی جائے وہ عبادت بن جائے، بالکل اسی طرح جیسے وہ افراد جو بسیج اور دیگر مقامات پر خدا کے لیے خدمت کر رہے ہیں، وہ سب عبادت کی حالت میں ہیں اور بسیج ایک بہت اہم اور بہترین امر ہے۔
صحیفه امام، ج۱۹، ص۲۲۱۔
انقلابِ اسلامی کی سب سے اہم خصوصیت عوام کو متحرک کرنے کی صلاحیت اور رہنماؤں و عوام کے درمیان مضبوط یکجتی ہے۔[30] امام خمینی نے تحریک کے آغاز ہی سے عوام کی موجودگی کی ضرورت کو محسوس کر لیا تھا، جو طاغوت کے خلاف مبارزے کا سب سے اہم رکن ہے۔ اس لیے آپ عوام کے ہر فرد کو اس مقابلے کے لیے تیار رہنے کی دعوت دیتے تھے۔[31] آپ کا ماننا تھا کہ عوام کو آگاہ کرنا اور تودوں کو منظم کرنا انھیں دشمن کی فریب کاریوں سے بچاتا ہے[32] اور علماء کے احتجاج میں عوام کا ساتھ دینا اسلام کی تقویت[33] اور قرآنی احکام کے تحفظ کا باعث بنتا ہے۔[34] یہ اس وقت تھا جب پہلوی حکومت کے بعض مخالف گروہ پارٹیاں بنا کر مسلحانہ جدوجہد کے ذریعے رژیم کا مقابلہ کرنا چاہتے تھے،[35] لیکن امام خمینی نے بارہا واضح کیا کہ وہ قیام کو کسی خاص گروپ یا پارٹی تک محدود کرنے اور مسلح روش اپنانے کے مخالف ہیں اور ان کا زیادہ زور عوامی قیام پر ہے[36] اور جب سازمان مجاهدین خلق کے کچھ ارکان نے انھیں مسلح قیام کی دعوت دی، تو آپ نے انھیں اس سے منع کیا اور اسے مبارزے کی طاقت کو ضائع کرنے کے مترادف قرار دیا۔[37] آپ نے انقلاب کے بحرانی ترین حالات میں بھی مسلح جہاد کا حکم جاری نہیں کیا[38] اور پہلوی حکومت کے سقوط تک اسی نظریے پر قائم رہے۔
انقلاب کی کامیابی کے دہانے پر بھی آپ عوام کی پیوستگی اور مزاحمت[39] اور تحریک کی حمایت کو شاہی حکومت کی شکست کے لیے ناگزیر سمجھتے تھے[40] اور مختلف طبقات (علماء، یونیورسٹی کے اساتذہ و طلبہ، تاجر برادری) کے اتحاد کو انقلاب کے اہداف تک پہنچنے کا ذریعہ مانتے تھے۔[41] آپ نے روحانیت کے ادارے کی مدد سے ان سے بھی یہی چاہا کہ وہ عوامی متحرک سازی اور تنظیم نو کا فریضہ انجام دیں۔[42]
انقلابِ اسلامی کا تحفظ
انقلابِ اسلامی کے نتیجے میں قائم ہونے والا نیا سیاسی نظام بالکل نوپا تھا جو شروع میں وسیع پیمانے پر اقتصادی اور سیاسی افراتفری کا شکار تھا، لہذا انقلاب کے دستاوردوں کی حفاظت کے لیے عوامی تودوں کو منظم کرنے والے ایک ادارے کی تشکیل ناگزیر تھی۔[43] چنانچہ امام خمینی نے نومبر 1979ء (آذر 1358ش) میں ایک تقریر کے دوران جنگی فنون کی عمومی تربیت اور "بیس ملینی فوج" (ارتشِ بیس میلیونی) کی تشکیل پر زور دیا اور فرمایا کہ اگر ایسی فوج تشکیل پا جائے تو ملک ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رہے گا۔[44]
امام خمینی کے اس فرمان کے نتیجے میں پہلے سپاه پاسداران میں بسیج یونٹ قائم ہوا اور بعد میں "سازمانِ بسیجِ ملی" (قومی بسیج تنظیم) وجود میں آئی جس کا نام بعد میں بدل کر "بسیجِ مستضعفین" رکھ دیا گیا۔
امام خمینی انقلاب کی حمایت میں اس عوامی بسیج کو صرف ایک سرکاری ادارے تک محدود نہیں دیکھتے تھے بلکہ اس کا دائرہ کار وسیع تر سمجھتے ہوئے اسے ملک کے تمام حصوں میں عوام کے اتحاد اور یکجتی میں تلاش کرتے تھے[45] اور تحریک کے تسلسل[46] اور انقلاب کے بعد ملک کی تعمیر و ترقی اور انتظامِ امور کو تمام طبقات کے اتحاد سے مشروط سمجھتے تھے؛[47] چنانچہ آپ کی اسی سوچ کے تحت زراعت اور ترقیاتی کاموں کے لیے جهاد سازندگی،[48] سیکیورٹی کے لیے کمیته انقلاب اسلامی،[49] اور محروموں کی امداد کے لیے کمیته امداد[50] اور حساب ۱۰۰ امام کا افتتاح عمل میں آیا۔[51]
اسی طرح ملک سے ناخواندگی کے خاتمے کے لیے 28 دسمبر 1979ء کو امام خمینی کے حکم پر نهضت سوادآموزی (لٹریسی موومنٹ) کی بنیاد رکھی گئی۔[52] کامیابی کے بعد عوامی بسیج کی دیگر مثالیں عبوری حکومت کی حمایت،[53] علیحدگی پسند عناصر[54] اور معاند سیاسی گروہوں کے خلاف عوامی نفرت کے اظہار،[55] اور انقلابِ اسلامی کی حمایت کی شکل میں سامنے آئیں[56] جہاں عوام نے ملک گیر ریلیوں کی شکل میں امام خمینی کے مواقف کی بھرپور تائید کی۔[57]
عوام اور رائے عامہ پر امام خمینی کا یہ یقین صرف ملک کے اندر تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ اسلامِ نابِ محمدی کے آرمانوں کے حصول کے لیے دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کرتے تھے کہ وہ اپنے اپنے معاشروں میں استعماری اور استبدادی نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور ایک امتِ واحدہ کی طرح ظلم و جارحیت کے سامنے ڈٹ جائیں۔[58] اسی سلسلے میں روزِ قدس کا اعلان کیا گیا جو ہمیشہ امتِ مسلمہ کی یکجتی اور آزادیِ قدس و اسرائیل کے خلاف "بین الاقوامی اسلامی بسیج" کا مظهر رہا ہے۔[59]
امام خمینی نے اس سے بھی وسیع تر سطح پر دنیا کی تمام محروم قوموں کو اپنے جائز حقوق کی بحالی کے لیے اکٹھا ہونے کی دعوت دی اور "عالمی مستضعفین پارٹی" (حزبِ مستضعفینِ جہان) کا طرح پیش کر کے محروم اقوام کے لیے اپنے بنیادی حقوق کے حصول کی راہ هموار کرنے کی کوشش کی۔[60]
تحمیلی جنگ (جنگ تحمیلی)
انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے بعد، جب مشرقی اور مغربی طاقتوں کی شہ پر رژیم عراق نے ایرانی سرزمیں پر حملہ کیا، تو سرحدوں اور نوپائے انقلاب کے دفاع کی ضرورت کے پیش نظر امام خمینی نے ایک بار پھر عوامی بسیج کے ذریعے جارح دشمن کا مقابلہ کرنے کا سامان فراہم کیا۔[61] اگرچہ آپ ملک کے دفاع کو فوج اور سپاہ پاسداران کی بنیادی ذمہ داری سمجھتے تھے، لیکن آپ کا پختہ ایمان تھا کہ اخلاص، ایثار اور فداکاری کا کامل نمونہ یہی بسیجی ہیں اور عوام کی شمولیت کے بغیر دفاع کا کام پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا،[62] چنانچہ آپ نے جنگ اور اسلامی مملکت کے دفاع میں عوامی بسیج کو سب پر لازم قرار دیتے ہوئے ملت کے تمام طبقات کو جبهوں پر جانے کی پکار لگائی۔[63] آپ دفاع کو مرد، عورت، بوڑھے اور بچے سب کی ذمہ داری سمجھتے تھے[64] اور آپ کا ماننا تھا کہ اگر یہ عمومی متحرک سازی نہ ہوتی تو ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا۔[65] آپ تحمیلی جنگ کو ایک ایسا ذریعہ سمجھتے تھے جس نے عوام کو ملک کے دفاع کے محور پر متحد کر دیا[66] اور اس جنگ میں عوامی شمولیت کا طریقہ بالکل صدرِ اسلام کی طرح خودجوش اور عوامی تھا۔[67]
بسیج کے مختلف کارکردگی اور ابعاد
اگرچہ امام خمینی بسیج کا سب سے اہم کام انقلابِ اسلامی کی پشت پناہی کو قرار دیتے تھے[68] لیکن انہوں نے اس کے متعدد دیگر ابعاد اور کارکردگی بھی بیان کیے ہیں، جن میں سیاسی، اقتصادی، فوجی اور ثقافتی پہلو شامل ہیں:
سیاسی اور ثقافتی کارکردگی
اینجانب اولاً به ملت ایران هشدار میدهم که خود را مهیا کنند و اسلحههای خود را آماده کنند و به حال آماده باش باشند، که اگر خدای نخواسته محتاج به بسیج عمومی شد و امر به جهاد مقدس عمومی داده شد، فوراً به میدان رفته و از دین خدا و کشور اسلامی دفاع نمایند.
صحیفه امام، ج۱۳، ص۲۷۲۔
انقلاب کی کامیابی سے قبل عوامی بسیج کا ایک اہم ترین اثر عام لوگوں کا سیاست کے میدان میں داخل ہونا تھا۔ امام خمینی کی نظر میں اس کا ایک بڑا مظہر بڑے پیمانے پر ہونے والی ہڑتالیں اور عوامی ریلیاں تھیں[69] جنھوں نے انقلاب کے اہداف کو آگے بڑھایا۔ آپ نہ صرف عوام کو پہلوی حکومت کے خلاف اعتصاب (ہڑتالوں) کی دعوت دیتے تھے[70] بلکہ نخبگان و اصناف کی ہڑتالوں کی حمایت پر بھی زور دیتے تھے، کیونکہ یہ ہڑتالیں اسلام کی تقویت، شاہی حکومت کی پسپائی[71] اور انقلاب و نظامِ جمہوری اسلامی کے لیے عوامی حمایت کا اعلان ثابت ہوتی تھیں۔[72]
کامیابی کے بعد بھی آپ نے ریلیوں میں عوام کی شرکت کو ضروری قرار دیا تاکہ دنیا پر ثابت کیا جا سکے کہ انقلابِ اسلامی کو عوامی تائید حاصل ہے۔[73]
عوامی رائے عامہ کی اسی متحرک سازی کا نتیجہ تھا کہ امریکی سفارت خانے پر قبضے کے وقت عوام نے طلبہ کے اس اقدام کی بھرپور حمایت کی جس سے مشکلات کے مقابلے میں ایک نئی توانائی پیدا ہوئی۔[74]
دوسری طرف، امام خمینی کی ایک بڑی تاکید یہ تھی کہ پہلوی دور کے چھوڑے ہوئے ثقافتی ملبے اور پسماندگی کو صاف کیا جائے۔ اس پسماندگی کی ایک مثال غریب عوام کا تعلیم کی نعمت سے محروم ہونا یعنی تعلیمی پسماندگی تھی۔ اس سلسلے میں آپ نے بغیر کسی دفتری تاخیر کے ناخواندگی کے خلاف تیز رفتار مہم شروع کرنے پر زور دیا اور عوام سے اس کارِ خیر میں حصہ لینے کی اپیل کی۔[75] آپ نے سواد آموزی (تعلیمِ بالغان) کے لیے ایک عمومی منصوبے کو لازمی قرار دیتے ہوئے حکومت اور عوام کو اس مہم میں اٹھ کھڑے ہونے کی تاکید کی تاکہ مستقبل قریب میں ہر شہری بنیادی پڑھنا لکھنا سیکھ سکے۔[76]
اقتصادی اور تعمیراتی کارکردگی
انقلاب کی کامیابی کے بعد، امام خمینی کی پہلی اقتصادی ترجیح مغرب پر انحصار ختم کر کے خود کفائی حاصل کرنا تھی، جس کے لیے عوامی تودوں کو زراعت جیسے اہم شعبوں میں منظم ہو کر کام کرنے کی ضرورت تھی تاکہ بے روزگاری کا خاتمہ ہو اور پابندیوں و ہنگامی حالات میں ملک خود کفیل رہ سکے۔[77]
آپ کا ماننا تھا کہ ملکی معیشت کی عوامی حمایت مشرقی اور مغربی بلاک سے وابستگی کو کاٹ دے گی اور معاشرے میں رفاہ و خوشحالی لائے گی۔[78]
امام خمینی عوامی بسیج کا ایک اور بڑا میدان ملک کی ویرانیوں کو دور کرنا اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کو سمجھتے تھے[79] اور ان کا ماننا تھا کہ تعمیراتی امور میں حصہ لینا سب کی ذمہ داری ہے۔[80] پسماندہ اور مستضعف علاقوں کی خدمت کے دنیوی نتائج کے ساتھ ساتھ آپ اس کام کو عظیم معنوی ثواب کا حامل سمجھتے تھے۔[81] غربت کے خلاف جنگ اور سماجی انصاف کا قیام بھی اسی عوامی لہر کا حصہ تھا؛ امام خمینی کا عقیدہ تھا کہ انقلاب کے ثمرات سے غریب عوام کو بہرہ مند کرنے کے لیے پوری قوم کو فقر اور ناانصافی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا پڑے گا،[82]
چنانچہ انقلاب کے بعد جہادِ سازندگی، کمیٹی امداد اور بنیادِ مستضعفان جیسے اداروں کے ذریعے یہ کام انجام پایا۔
فوجی کارکردگی
تحمیلی جنگ کے آغاز کے بعد، جب امام خمینی کے کلام میں "دین کا تحفظ، ملک کا دفاع اور ناموس کی حفاظت" جیسے مفاہیم گونجنے لگے، تو ملکی دفاع اور جنگ میں مؤثر شرکت بسیج کا سب سے بڑا میدان بن گئی۔ آپ نے تحمیلی جنگ کے تناظر میں 'بسیجِ عمومی' کا اعلان کیا اور جنگ کو ملک کا سب سے پہلا مسئلہ قرار دیتے ہوئے عوام اور حکام کو رزمندگانِ اسلام کی پشت پناہی کی دعوت دی،[83] اس طرح بسیجی قوتیں وسیع پیمانے پر تمام جنگی آپریشنز اور پروگراموں میں شامل ہوئیں اور انہوں نے تاریخی کردار ادا کیا۔[84] دفاعِ وطن کے اس میدان میں عوام کی بڑے پیمانے پر آمد کے بعد، امام خمینی نے بسیجی عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے بسیج کو انقلاب کا وہ مضبوط ستون قرار دیا جس نے ہزاروں سرفروش رزمندے تربیت کر کے انقلاب کے حضور پیش کیے۔[85]
حوالہ جات
- ↑ عمید، فرهنگ فارسی، ۲۶۹۔
- ↑ خانی، درآمدی بر شناخت بسیج، ۲۷۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۶/۹۱–۹۲۔
- ↑ بقره، ۲۴۶؛ اعراف، ۱۳۴ و ۱۳۷؛ طباطبایی، المیزان فی تفسیر القرآن، ۲/۲۸۵ و ۸/۲۲۸۔
- ↑ واقدی، المغازی، ۱/۹، ۲۳ و ۲/۵۱۰۔
- ↑ دویل، انقلاب کبیر فرانسه، ۷۷–۸۳۔
- ↑ والتر، تاریخ روسیه از پیدایش تا ۱۹۴۵، ۴۶۲–۴۶۷۔
- ↑ گرانتوسکی، تاریخ ایران از زمان باستان تا امروز، ۳۲۴۔
- ↑ تیموری، تحریم تنباکو اولین مقاومت منفی در ایران, ۸۲–۸۴۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱/۳۸۶–۳۸۷۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۲/۴۸۱ و ۳/۱۰۰–۱۰۱۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۴/۶۵–۶۶۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۲/۱۴۲ و ۴/۱۷–۸۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۸/۲۹۲–۲۹۳ و ۱۳/۲۸۔
- ↑ آل عمران، ۱۲–۱۳۔
- ↑ واقدی، المغازی، ۱/۴۰۳ و ۲/۴۳۱، ۵۰۵۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۲/۳۹۱۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۸/۲۹۳۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۳/۴۳۷ و ۴۴۳۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۷/۵۲۱۔
- ↑ اردستانی۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۷/۵۲۱۔
- ↑ جمشیدی، آرمان بسیج و بسیج آرمانی از منظر امامخمینی، ۱/۳۰۵–۳۰۶۔
- ↑ حبی، شاخصهای فرهنگ و تفکر بسیجی، ۱۵۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۹/۲۲۱۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۶/۱۹۸ و ۲۱/۱۹۴۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۶/۷۶۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۲۱/۱۹۴–۱۹۵۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۲۱/۱۹۴۔
- ↑ گلمحمدی، زمینههای بسیج مردمی در انقلاب ایران، ۱۰۴۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۳/۳۷۹۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱/۱۳۴–۱۳۵۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱/۱۸۰۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۲/۴۸۵۔
- ↑ مدنی، تاریخ سیاسی معاصر ایران، ۱/۱۰۵۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۳/۵۱۴ و ۴/۳، ۲۵۰، ۲۹۴۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۸/۱۴۴–۱۴۵۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۵/۲۹۵۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۴/۳۸۱۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۴/۳۵–۳۶۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۳/۳۱۴–۳۱۵۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۳/۳9۴ و ۴۳۶–۴۳۷۔
- ↑ جمشیدی، آرمان بسیج و بسیج آرمانی از منظر امامخمینی، ۱/۲۹۷۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۱/۱۲۱–۱۲۲۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۶/۳۶۱ و ۱۲/۲۳۹–۲۴۰۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱ایران/۳۱۳ و ۱۵/۱۳۶، ۳۵۳۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۶/۱۷۴ و ۷/۵۲۰–۵۲۱۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۸/۱۷۹–۱۸۰۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۶/۱۲۸–۱۲۹۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۶/۳۶۷۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۶/۵۱۸۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۱/۴۴۶–۴۴۷۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۶/۶۹۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۸/۱۳۷–۱۳۸ و ۱۰/۲۹۶–۲۹۷۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۸/۱۳۸۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۴/۷۷–۷۸۔
- ↑ محمدی، تحلیلی بر انقلاب اسلامی، ۱۰۰۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۶/۵۰۳؛ ۸/۳۵۸ و ۱۰/۳۳۹–۳۴۰۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۹/۲۶۷ و۲۸۰۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۹/۲۸۰–۲۸۱ و ۱۲/۱۶۰۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۳/۲۷۲۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۲۱/۱۹۴–۱۹۵۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۳/۲۴۳–۲۴۴۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۳/۴۰۹۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۵/۴۰۲۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۳/۳۲۹۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۹/۲۲۰۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۵/۳۸۶۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۵/۴۰۳۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۴/۳۰۹ و ۵/۱۵۴۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۲/۴۸۵؛ ۴/۳۶۷ و ۵/۲۶۰ و ۴۹۴–۴۹۵۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۵/۴۷۷۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۹/۱۰۷۔
- ↑ هاشمی رفسنجانی، کارنامه و خاطرات، سالهای ۱۳۵۷–۱۳۵۸، انقلاب و پیروزی، ۳۷۱۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۱/۴۴۶–۴۴۷۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۱/۴۴۶–۴۴۷۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۱/۴۴۶–۴۴۷۹/۲۵ و ۱۱/۴۷۷۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۰/۳۳۳–۳۳۴۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۸/۱۹–۲۰۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۰/۴۹۸–۴۹۹۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۸/۳۸۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۶/۵۱۸۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۳/۲۷۲؛ درویشی، جنگ ایران و عراق، پرسشها و پاسخها، ۲۲۸۔
- ↑ ظاهر، حماسه هشت سال دفاع مقدس، ۲/۳۳۔
- ↑ امامخمینی، صحیفه، ۱۵/۳۸۶۔
مآخذ
- قرآن کریم.
- اردستانی, حسین, برخی ارزشها و ثمرات جنگ تحمیلی, پرتال جامع علوم انسانی, پژوهشگاه علوم انسانی و مطالعات فرهنگی, ۲۴/۱۱/۱۳۹۶ش.
- امامخمینی, سیدروحالله, صحیفه امام, تهران, مؤسسه تنظیم و نشر آثار امامخمینی, چاپ پنجم, ۱۳۸۹ش.
- تیموری, ابراهیم, تحریم تنباکو اولین مقاومت منفی در ایران, تهران, شرکت کتابهای جیبی, چاپ اول, ۱۳۶۱ش.
- جمشیدی, محمدحسین, آرمان بسیج و بسیج آرمانی از منظر امامخمینی چاپشده در مجموعه مقالات ایدئولوژی, رهبری و فرایند انقلاب اسلامی, تهران, مؤسسه تنظیم …, چاپ اول, ۱۳۸۲ش.
- حبی, محمدباقر, شاخصهای فرهنگ و تفکر بسیجی, تهران, سازمان تحقیقات و مطالعات بسیج, چاپ اول, ۱۳۸۳ش.
- خانی, مهدی, درآمدی بر شناخت بسیج, تهران, فرهنگ و دانش, چاپ اول, ۱۳۸۰ش.
- درویشی, فرهاد, جنگ ایران و عراق, پرسشها و پاسخها, تهران, مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ, چاپ اول, ۱۳۸۶ش.
- دویل, ویلیام, انقلاب کبیر فرانسه, ترجمه ثمین نبیپور, تهران, افق, چاپ اول, ۱۳۹۰ش.
- طباطبایی, سیدمحمدحسین, المیزان فی تفسیر القرآن, قم, دفتر انتشارات اسلامی, چاپ پنجم, ۱۴۱۷ق.
- ظاهر, صادق, حماسه هشت سال دفاع مقدس, تهران, دفاع, چاپ اول, ۱۳۸۰ش.
- عمید, حسن, فرهنگ فارسی, تهران, امیرکبیر, چاپ هفدهم, ۱۳۷۹ش.
- گرانتوسکی, ا. آ و دیگران, تاریخ ایران از زمان باستان تا امروز, تهران, پویش, چاپ اول ۱۳۵۹ش.
- گلمحمدی, احمد, زمینههای بسیج مردمی در انقلاب ایران, مجله راهبرد, شماره ۹, ۱۳۷۵ش.
- محمدی, منوچهر, تحلیلی بر انقلاب اسلامی, تهران, امیرکبیر, چاپ هفتم, ۱۳۷۷ش.
- مدنی, سیدجلالالدین, تاریخ سیاسی معاصر ایران, قم, دفتر انتشارات اسلامی, چاپ نهم, ۱۳۷۸ش.
- واقدی, محمدبنعمر, المغازی, تحقیق مارسدن جونس, بیروت, اعلمی, چاپ سوم, ۱۴۰۹ق.
- والتر, کلنل, تاریخ روسیه از پیدایش تا ۱۹۴۵, ترجمه نجفقلی معزی (حسام الدوله), تهران, کمیسیون معارف, ۱۳۳۸ش.
- هاشمی رفسنجانی, اکبر, کارنامه و خاطرات, سالهای ۱۳۵۷–۱۳۵۸, انقلاب و پیروزی, به کوشش عباس بشیری, تهران, دفتر نشر معارف انقلاب, چاپ اول, ۱۳۸۳ش.
بیرونی روابط
- امید حسینخانی، «بسیج عمومی»، دانشنامه امامخمینی، ج۲، ص۶۲۷–۶۳۲۔