ارکان توحید
ارکان توحید عرفانی نقطہ نظر میں توحید افعالی اور تحمید میں حق تعالیٰ کی تنزیہ، توحید صفاتی اور تهلیل، توحید ذاتی اور تکبیر، اور توحید کا کمال تسبیح میں ہے۔ امامخمینی نے بھی اپنے آثار میں ارکان توحید کو چار ارکان: تحمید، تہلیل، تکبیر اور تسبیح میں بیان اور واضح کیا ہے۔
ارکان توحید کی اہمیت اور مقام
توحید فلسفی اور عرفانی اصطلاح میں ذات، صفات اور افعال میں خداوند متعال کی یکتائی اور یگانگی کے معنی میں ہے، جو تنزیہی ارکان اور بنیادوں پر استوار ہے۔[1] دین اسلام میں مسئلہ توحید اور اس کے ارکان اصول عقائد کے اہم ترین محوروں میں سے ہیں اور مذہبی ثقافت میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ اهل معرفت نے اپنے آثار میں، شہودی شناخت اور معرفت کی بنیاد پر اور ظهور و بطون کے اصولوں نیز حق تعالیٰ کی صفاتی اور افعالی تنزیہ کو مدنظر رکھتے ہوئے، ارکان توحید کا تجزیہ و تحلیل کیا ہے۔[2] امام خمینی نے بھی اپنے آثار میں کوشش کی ہے کہ قرآن، سنت اور برہان کی مدد سے توحید اور اس کے ارکان کا جائزہ لیں اور ارکان توحید کو چار ارکان: تحمید، تہلیل، تکبیر اور تسبیح میں تبیین فرمائیں۔[3]
رکن اول: تحمید
تحمید: اس کے معنی تمام حمد و ثناء کو ذاتِ مقدسِ الہی کی طرف لوٹانے اور حمد کے تعلق میں غیر خدا کے استحقاق کی نفی کرنے کے ہیں۔ سالک اس توحید اور تحمید میں تمام تفصیلی عطایاو اکرام کو ایک ہی عطیہ مطلقہ میں فانی دیکھتا ہے اور ان سب کی نسبت مشیتِ حق تعالیٰ کی طرف دیتا ہے۔ پس عالم وجود میں نہ تو کوئی صاحبِ جمال ہے اور نہ ہی کوئی فاعلِ جمیل، کہ ان دو صفات کی وجہ سے اس کی ستائش کی جائے؛ کیونکہ تمام افعالِ حسنہ، اعمالِ صالحہ اور تمام بخششیں اور نعمتیں خداوندِ سبحان ہی کی طرف سے ہیں اور اسی وجہ سے، صرف وہی حمد و ثناء کا سزاوار ہے۔
صاحبِ شہود سالک اس مرحلے میں مشاہدہ کرتا ہے کہ جو عطایا، بخششیں اور نعمتیں کثرتِ تفصیلی کی صورت میں ظاہر ہوئی ہیں، وہ سب کی سب فیضِ الہی کی بخشش اور تجلیِ مطلق ہیں۔ اسی لیے کائنات میں خداوند کے سوا کوئی مطلق جمیل اور فاعلِ جمیل نہیں ہے، پس وہی حمد اور تحمید کا حقدار ہے۔ کلمہ "حوقلہ" (لا حول و لا قوۃ الا باللہ) میں غیر سے حول اور قوت کی نفی کرنا اسی مطلب کی تائید کرتا ہے۔
امام خمینی کے عقیدے کے مطابق، یہ رکنِ تحمید تین اقسام یعنی توحید افعالی، صفاتی اور ذاتی پر مشتمل ہے اور چونکہ الہی مطلق ہویت عینِ بطون میں ظاہر اور عینِ ظهور میں باطن ہے، اس بنیاد پر، ان تینوں توحیدوں میں سے ہر ایک توحید میں باقی دو توحیدیں محجوب اور باطن میں ہوتی ہیں اور ہر تنزیہ میں باقی دو تنزیہیں بھی پوشیدہ ہوتی ہیں۔ پس ہر اسم اس درجے کے تابع ہے جو غالب اور ظاہر ہوتا ہے؛ مثال کے طور پر، اسمِ "حاکم" تحمید میں اپنے فعلی غلبے کی وجہ سے توحیدِ افعالی کا فائدہ دیتا ہے؛ پس تحمید توحیدِ افعالی کا مقام ہے اور توحیدِ افعالی تحمید کا ظاہری درجہ ہے، جبکہ اس کے باقی دو درجات یعنی توحیدِ صفاتی اور ظاہری ذاتی درجہ اس کے اندر پوشیدہ اور نہفتہ ہیں۔[4]
رکن دوم: تهلیل
تهلیل مذہبی اور عرفانی اصطلاح میں حق تعالیٰ کی ذات میں تمام کمالات اور صفات کے اضمحلال (فنا ہونے) اور اس کی یگانگی کے اقرار کو کہتے ہیں۔ عرفا اور صوفیه نے ذکرِ تہلیل کو کلمہ توحید اور اخلاق کے طور پر پیشِ نظر رکھا ہے۔ اہل معرفت کا ماننا ہے کہ کلمہ تہلیل دو حصوں پر استوار ہے: "لا الہ" یعنی تفرقہ بازی کا خاتمہ اور "الا اللہ" یعنی وحدت و جمعیت کی تعمیر؛ اسی وجہ سے تمام عبادی اور سلوکی احکام و آداب کلمہ "لا الہ الا اللہ" کی سربلندی کے لیے ہیں تاکہ سالک اس کی مسلسل تکرار سے اپنے دل کو خدائے سبحان کی طرف متوجہ کرنے کی مشق کروا سکے۔[5]
امام خمینی بھی رکنِ تہلیل اور اس کی حقیقت کے بیان میں معتقد ہیں کہ تہلیل، توحیدِ صفاتی کا مقام اور مخلوقات کے تمام کمالات اور صفات کا حق تعالیٰ کی صفات اور کمال میں اضمحلال ہے۔ یعنی ہر جمال، کمال، حسن اور بہاء کو جمال و کمال کا ظہور اور حق تعالیٰ کی تجلیات میں سے دیکھنا چاہیے۔ حقیقت میں یہ تمام صفات اور کمالات آئینوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہیں جو حضرتِ حق کی صفات کو مختلف مقامات پر منعکس کرتے ہیں۔ امام خمینی کے نزدیک یہ راز کہ تہلیل توحیدِ صفاتی کے مقام پر واقع ہوتی ہے، یہ ہے کہ تہلیل میں غیرِ حق تعالیٰ سے الوهیت کی نفی ہوتی ہے، اس لیے اس مقام پر تہلیل اور کلمہ "لا الہ الا اللہ" کے معنی یہ ہیں کہ اس طرح کا کوئی کمال جو تمام کمالات اور صفات کا جامع ہو، دوسروں میں موجود نہیں ہے بلکہ تمام کمالات اور صفات اسمِ جامع "اللہ" میں موجود ہیں۔[6] امام خمینی کے عقیدے کے مطابق، مقامِ تہلیل مقامِ تحمید کا نتیجہ ہے؛ کیونکہ اگر تحمید ذاتِ مقدس کے ساتھ مخصوص ہو جائے تو عبودیت بھی اسی مقام پر ظاہر و باہر ہوتی ہے، اس صورت میں خلق کی طرف سے خلق کے لیے جو بھی عبودیتیں ہیں، وہ اس مقام پر منتفی ہو جاتی ہیں، پھر جب سالک الی اللہ تمام محامد کو حق تعالیٰ میں منحصر سمجھ لیتا ہے، تو عبودیت بھی حق تعالیٰ میں منحصر ہو جاتی ہے۔[7]
رکن سوم: تکبیر
امام خمینی اس رکن کی حقیقت کے بیان میں معتقد ہیں کہ تکبیر، توحیدِ ذاتی کا مقام اور حق تعالیٰ کی حقیقتِ اطلاقی میں تمام انیات (خودیوں) اور ہویات کا استہلاک (فنا ہونا) ہے؛ کیونکہ خداوند اس سے برتر ہے کہ اس کی توصیف کی جائے؛ کیونکہ بنیادی طور پر خدائے سبحان کے مقابل کوئی دوسری مستقل ذات یا شے موجود ہی نہیں ہے تاکہ اس لایتناہی ذات کا اس کے ساتھ موازنہ کیا جا سکے۔ امام خمینی کے عقیدے کے مطابق، رکنِ تکبیر جو توحیدِ ذات کے ظہور و بروز کا مقام ہے، اس رکن میں توحیدِ ذاتی کے مفہوم کے پیشِ نظر ایک ہی لامتناہی ذات موجود ہے؛ چنانچہ اسے تمام صفات اور افعال کا احاطہ کرنا چاہیے اور ان پر مشتمل ہونا چاہیے؛ اسی وجہ سے، توحیدِ صفاتی اور افعالی توحیدِ ذاتی کے ثمرے اور لازمے کے طور پر ہیں اور اسی وجہ سے اس میں مستتر اور پنہاں ہیں۔[8]
رکن چہارم: تسبیح
امام خمینی چوتھے رکن یعنی تسبیح کی حقیقت کے بیان میں معتقد ہیں کہ تسبیح وہ مقام ہے جہاں حق تعالیٰ کو توحیدِ ثلاثہ (تینوں توحیدوں) سے منزہ (پاک) کرنا چاہیے؛ کیونکہ ان میں ایک طرح کا تلوین (رنگ بدلنا) اور کثرت اور کثرات کی طرف توجہ اور اغیار کا مشاہدہ چھپا ہوا ہے، لیکن رکنِ تسبیح میں تنزیہ اور تمکین کا مقام ہے اور توحید اس کے ذریعے تام و تمام ہو جاتی ہے۔ باقی تین ارکان اگرچہ توحیدی رنگ رکھتے ہیں لیکن ان میں کسی نہ کسی طرح کا تلوین، رنگ بدلنا اور خلقی جہات و کثرت کا مشاہدہ پایا جاتا ہے، رکنِ تسبیح میں یہ تلوین دور ہو جاتی ہے اور عارف کو مقامِ تمکین و تنزیہ تک پہنچا کر اس کی توحید کو کامل و تمام کر دیا جاتا ہے؛ کیونکہ توحیدِ فعلی میں سالک تمام افعال کو اس کے فعل کا ظہور دیکھتا ہے اور اس توحید سے تنزیہ یہ ہے کہ غیر کے لیے سرے سے کوئی فعل دیکھا ہی نہ جائے، توحیدِ صفاتی میں وہ اسما و صفات کا استہلاک دیکھتا ہے جو خود ایک طرح سے اغیار کے رنگ اور صفات کو دیکھنے سے آمیختہ ہے اور اس کی تنزیہ دارِ تحقق میں الہی اسماء میں سے کسی اسم اور صفت کو نہ دیکھنا ہے۔ توحیدِ ذاتی میں، تمام ذوات حق کی ذات میں مضمحل ہیں جو کہ ایک طرح سے کثرات کو دیکھنے اور تلوین پر مشتمل ہے، کیونکہ کثرات کی ذات کا اضمحلال بھی خود ایک طرح سے کثرات کی طرف توجہ ہو گی، اس وجہ سے، اس مقام پر تنزیہ یہ ہے کہ حضرتِ حق کی احدی اطلاقی ہویت کے علاوہ کوئی دوسری انیت اور ہویت مشاہدہ نہ ہو۔ امام خمینی کے نظریے کے مطابق، ایک اور مقام بھی ہے جسے "توغل" کہا جاتا ہے جو ان تمام مقامات اور توحیدوں کا نتیجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ فعل اور صفت کو حتیٰ کہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے بھی نہ دیکھے اور کثرت کی مکمل نفی کر کے صرف وحدت اور ہویتِ صرف کا شہود کرے؛ کیونکہ "کمال التوحید نفی الصفات عنہ"،[9] توحید کا کمال اور اس کا اتمام اس سے صفات کی نفی کرنے میں ہے۔[10]
حوالہ جات
- ↑ جرجانی، التعريفات، صفحہ ۳۱؛ قیصری، شرح فصوص الحکم، صفحہ ۳۹۲؛ مطہری، مجموعہ آثار، جلد ۲، صفحہ ۹۷۔
- ↑ آملی، جامع الاسرار و منبع الانوار، صفحہ ۹۹-۱۰۳؛ ابن منور، اسرار التوحید، صفحہ ۲۷۴؛ ترمذی، غور الامور، صفحہ ۱۹۱؛ نکلسن، تصوف اسلامی، صفحہ ۲۳؛ ملاصدرا، الحکمۃ المتعالیہ، جلد ۶، صفحہ ۵۷-۶۳؛ جلد ۹، صفحہ ۲۳۱؛ سبزواری، شرح منظومہ، جلد ۵، صفحہ ۱۷۹؛ ابن عربی، الفتوحات المکیہ، جلد ۲، صفحہ ۴۰۵، جلد ۴، صفحہ ۸۹؛ اشرف امامی، مقایسہ دیدگاہہای عرفانی، صفحہ ۸۰-۸۴۔
- ↑ امام خمینی، مصباح الہدایہ، صفحہ ۷۹-۸۰؛ آداب الصلاۃ، صفحہ ۱۷۱ اور ۲۵۸؛ شرح چہل حدیث، صفحہ ۳۲۷؛ تقریرات فلسفہ، جلد ۱، صفحہ ۸۲-۸۴۔
- ↑ امام خمینی، مصباح الہدایہ، صفحہ ۷۹-۸۰؛ آداب الصلاۃ، صفحہ ۱۹۹؛ یزدان پناہ، فروغ معرفت، جلد ۱، صفحہ ۴۱۲-۴۱۳۔
- ↑ ابن عربی، الفتوحات المکیہ، جلد ۲، صفحہ ۴۰۵؛ ترمذی، غور الامور، صفحہ ۹۱؛ ابن منور، اسرار التوحید، صفحہ ۲۷۴؛ ملاصدرا، الحکمہ المتعالیہ، جلد ۹، صفحہ
- ↑ امام خمینی، مصباح الہدایہ، صفحہ ۷۹-۸۰؛ تقریرات فلسفہ، جلد ۱، صفحہ ۸۲-۸۳۔
- ↑ امام خمینی، آداب الصلاۃ، صفحہ ۳۷۲۔
- ↑ امام خمینی، مصباح الہدایہ، صفحہ ۷۹-۸۰؛ یزدان پناہ، فروغ معرفت، جلد ۲، صفحہ ۴۱۵-۴۱۶۔
- ↑ کلینی، الکافی، جلد ۱، صفحہ ۱۴۰۔
- ↑ امام خمینی، مصباح الہدایہ، صفحہ ۸۰؛ آداب الصلاۃ، صفحہ ۲۷۸؛ تقریرات فلسفہ، جلد ۱، صفحہ ۸۲-۸۳۔
مآخذ
- آملی، سید حیدر، جامع الاسرار و منبع الانوار، تحقیق ہنری کاربن، تہران، انتشارات علمی و فرهنگی، ۱۳۶۸ش۔
- ابن عربی، محیی الدین، الفتوحات المکیہ، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بے تا۔
- ابن منور، محمد، اسرار التوحید، تہران، انتشارات فردوس، ۱۴۰۴ق۔
- اشرف امامی، علی، مقایسہ دیدگاہہای عرفانی عبدالکریم جیلی و ابن عربی، تہران، انتشارات بصیرت، ۱۳۸۹ش۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، آداب الصلاۃ، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ۱۳۸۴ش۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، تقریرات فلسفہ امام خمینی، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ۱۳۸۵ش۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، شرح چہل حدیث، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ۱۳۸۸ش۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، مصباح الہدایہ، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ۱۳۸۶ش۔
- ترمذی، محمد بن علی، غور الامور، قاہرہ، نشر الثقافۃ الدینیۃ، ۱۴۲۲ق۔
- جرجانی، سید شریف، التعريفات، تہران، ناصر خسرو، ۱۳۷۰ش۔
- سبزواری، ملا ہادی، شرح منظومہ، تصحیح طالبی، نشر ناب، ۱۴۲۲ق۔
- فضلی، علی، علم سلوک، قم، نشر معارف، ۱۳۹۰ش۔
- قیصری، داؤد بن محمود، شرح فصوص الحکم، تصحیح و تعلیق سید جلال الدین آشتیانی، تہران، نشر علمی و فرہنگی، ۱۳۷۵ش۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۶۵ش۔
- مطہری، مرتضی، مجموعہ آثار، تہران، نشر صدرا، ۱۳۸۹ش۔
- ملاصدرا، محمد بن ابراہیم، الحکمۃ المتعالیہ فی الاسفار العقلیۃ الاربعہ، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۹۸۱ء۔
- نکلسن، رینولڈ، تصوف اسلامی و رابطہ انسان و خدا، تہران، نشر توس، ۱۳۷۲ش۔
- یزدان پناہ، یداللہ، فروغ معرفت در اسرار خلافت و ولایت، تہران، نشر عروج، ۱۳۹۵ش۔